ایک عام کہاوت ہے کہ اونٹنی کے دودھ کو ’سفید سونا‘ کہا جاتا ہے۔
اونٹنی کے دودھ کو صحت کے لیے بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ کئی سنگین بیماریوں کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دنیا کے بہت سے حصوں میں، خاص طور پر بنجر اور نیم خشک علاقوں میں، اونٹنی کا دودھ بنیادی غذا کا ایک اہم حصہ ہے۔
بی بی سی نے اونٹنی کے دودھ کے بارے میں ماہرین سے بات کی اور اس کے فوائد کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔
اونٹنی کے دودھ میں موجود غذائی اجزاء
سعودی جرنل آف بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں گائے کے دودھ سے تین سے پانچ گنا زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے۔
’اس کے علاوہ، گائے اور بھینس کے دودھ میں پایا جانے والا ایک پروٹین بیٹا لییکٹوگلوبلین بہت سے لوگوں (خاص طور پر چھوٹے بچوں) میں الرجی کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اونٹنی کے دودھ کی پروٹین کی ساخت گائے کے دودھ سے زیادہ انسانی دودھ سے ملتی جلتی ہے۔‘
اس تحقیق کے مطابق ’بیٹا لیکٹوگلوبلین کی عدم موجودگی کی وجہ سے اونٹ کا دودھ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔ اونٹ کا دودھ ان لوگوں کے لیے ایک اچھا آپشن ہے جنھیں دودھ پینے کے بعد گیس، تیزابیت یا پیٹ میں بھاری پن کا مسئلہ ہوتا ہے۔‘
گائے یا بھینس کے دودھ کے مقابلے اس میں چکنائی کی مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے۔
اونٹ کا دودھ وٹامن بی 1، بی 2 اور سی جیسے وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں گائے کے دودھ سے تین سے پانچ گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے، جو اسے خشک علاقوں میں خوراک کا اہم حصہ بناتا ہے۔
میڈیکل کنسلٹنٹ ڈاکٹر پرشانت پنارا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اونٹنی کا دودھ انسانی دودھ کے قریب ترین ہے۔ اونٹنی کے دودھ میں وٹامن بی 12، زنک، کیلشیم کے ساتھ ساتھ پروٹین اور سیچوریٹڈ فیٹ بھی مناسب مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اونٹنی کا دودھ ذیابیطس میں بھی کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔‘
ماں کے دودھ کی حیران کن سائنس: دودھ جس کی غذائیت وقت کے ساتھ بدلتی ہےوہ خوراک جو آپ کے جسم کی بو پرکشش بنا سکتی ہےسیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟دل اور دماغ کا محافظ: ’معجزاتی‘ فوائد کا حامل مالٹے کا جوس، مگر اس کا استعمال کب اور کتنا کیا جائے؟
ان کا کہنا ہے کہ ’اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے، یہ ان لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جن میں دودھ کو ہضم نہ ہونے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ دودھ جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت (مدافعتی) کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔‘
خوراک اور غذائیت میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر پوروی پاریکھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جسم ہر قسم کے دودھ کے لیے یکساں ردعمل نہیں دیتا۔ اونٹ کے دودھ میں موجود غذائی اجزاء ہڈیوں کو مضبوط بنانے، پٹھوں اور اعصاب کو متوازن کرنے میں مدد کرتے ہیں۔‘
’اونٹنی کا دودھ A2 قسم کا ہوتا ہے، اس میں بیٹا لییکٹوگلوبلین نہیں ہوتا، وٹامن سی، زنک اور آئرن سے بھرپور ہوتا ہے، اور چکنائی کم ہوتی ہے۔‘
اونٹنی کے دودھ کے طبی فوائد
مصر میں جزیرہ نما سنائی کے بدو زمانہ قدیم سے یقین رکھتے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ تقریباً تمام اندرونی بیماریوں کا علاج ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس دودھ میں جسم میں موجود بیکٹیریا ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق روس اور قزاقستان میں اکثر ڈاکٹر اونٹنی کا دودھ کئی مریضوں کے علاج کے لیے تجویز کرتے ہیں۔
انڈیا میں اونٹنی کا دودھ یرقان، ٹی بی، دمہ ، خون کی کمی اور بواسیر کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اور ان علاقوں میں جہاں اونٹنی کا دودھ خوراک کا باقاعدہ طور پر حصہ ہے وہاں لوگوں میں ذیابیطس کی شرح بہت کم پائی گئی ہے۔
بی بی سی کی 2009 کی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کے فرینک سمتھس نے اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا کہ ہسپتال میں ذیا بیطس کے مریضوں کو گروپوں میں تقسیم کرکے گائے یا اونٹنی کا دودھ باقاعدہ طور پر پلایا گیا اور پھر ان کے شوگر لیول کی جانچ کی گئی جس سے اونٹنی کے دودھ کی افادیت ظاہر ہوئی۔
دل اور دماغ کا محافظ: ’معجزاتی‘ فوائد کا حامل مالٹے کا جوس، مگر اس کا استعمال کب اور کتنا کیا جائے؟ماں کے دودھ کی حیران کن سائنس: دودھ جس کی غذائیت وقت کے ساتھ بدلتی ہےسیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟وہ خوراک جو آپ کے جسم کی بو پرکشش بنا سکتی ہے’روزانہ ایک سیب کھائیں اور ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچ جائیں‘: صدیوں پرانا یہ دعویٰ کتنا درست ہےہمیں ایک دن میں کتنا پانی پینا چاہیے اور ضرورت سے زیادہ پانی پینا صحت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟