لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی ’خودکشی‘ کی کوشش: ’انتظامیہ سے کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات تک آن لائن کلاسز لیں‘

بی بی سی اردو  |  Jan 05, 2026

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی کے فارمیسی کے شعبے کی طالبہ کی جانب سے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کے بعد مذکورہ طالبہ کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم لاہور پولیس نے تصدیق کی ہے کہ رائے ونڈ روڈ پر واقع یونیورسٹی کی طالبہ نے عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی اور انھیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف لاہور میں حالیہ چند روز کے دوران یہ ایسا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے ہی ایک طالب علم اویس نے عمارت سے کود کر خود کشی کر لی تھی۔

لاہور پولیس کے ڈِی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی طالبہ کی ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں اور وہ بے ہوش ہیں۔ اُن کے بقول لڑکی کے ہوش میں آنے پر مبینہ خودکشی کی وجہ کا تعین ہو سکے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد زخمی حالت میں ایک لڑکی کو لیجا رہے ہیں جبکہ فرش پر خون کے نشانات ہیں۔ بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا۔

پولیس کے مطابق طالبہ کو فوری طور پر یونیورسٹی آف لاہور سے متصل ٹیچنگ ہسپتال لیجایا گیا، جس کے بعد اُنھیں لاہور کے جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

طالبہ کی جانب سے خودکشی کی مبینہ کوشش پر یونیورسٹی میں طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی ہوا ہے، جس کی وجہ سے تدریسی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔

Getty Images

لاہور یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے دس بجے پیش آیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبہ کا تعلق بھی فارمیسی ڈیپارٹمنٹ سے تھا اور اسے اُن کا بھائی پیر کی صبح یونیورسٹی چھوڑنے آیا تھا۔ لیکن کچھ دیر بعد اُنھوں نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اویس کی خودکشی کے بعد سے طلبہ پریشان تھے اور اب ایک اور طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش نے یونیورسٹی کا ماحول مزید افسردہ کر دیا ہے۔

طالبہ کو کس نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں؟

لاہور کے جنرل ہسپتال میں اے ایم ایس ایمرجنسی ڈاکٹر محمد جعفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 20 سالہ طالبہ کے تمام ٹیسٹ کروانے کے بعد انھیں آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سرجنز، آرتھوپیڈک اوار نیور سرجنز سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی حالت کا جائزہ لے رہی ہے اور جیسے ہی ان کی حالت مستحکم ہوئی، ان کی سرجری کا منصوبہ بنایا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ نیورو سرجنز کے مطابق ہہلے طالبہ کے فریکچرز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد جعفر نے بتایا کہ طالبہ کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاہم ان دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں، ان کی ریڑھ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی ہے اور پسلیاں بھی ٹوٹی ہیں۔ ان کے مطابق طالبہ کو کافی فریکچرز آئے ہیں اور سر میں بھی چوٹ آئی ہے۔

ڈائریکٹر ایمرجنسی یحییٰ سلطان نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اوپر سے گرنے کی وجہ سے طالبہ کے سر میں چوٹ آئی ہے اور چھاتی میں بائیں جانب ٹراما ہوا ہے جس کے لیے ٹیوب ڈالی گئی ہے۔

پاکستان میں خودکشی کو جرائم کی فہرست سے نکال کر ذہنی مرض کا درجہ دینا مثبت قدم ہو گا؟چترال میں خواتین کی ’خودکشی‘ کے واقعات کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟موسمِ بہار میں خودکشیاں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟اگر کوئی کہے ’میں خودکشی کرنا چاہتا ہوں‘ تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟حفاظتی اقدامات تک آن لائن کلاسز کی ہدایت

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ حتمی طور پر لڑکی کے اس قدم کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ لڑکی کا موبائل لاک ہے، جس تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اُس کی جانب سے آخری مرتبہ کسے کال کی گئی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے بقول طالبہ کی حاضری یا فیس کا کوئی مسئلہ نہیں تھا جبکہ لڑکی کے اہلخانہ بھی کسی گھریلو پریشانی سے انکار کر رہے ہیں۔

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق لڑکی کے ہوش میں آنے پر پولیس اُس کا بیان ریکارڈ کرے گی، جس کے بعد ہی صورتحال واضح ہو سکے گی اور پولیس اپنی کارروائی آگے بڑھائے گی۔

پندرہ روز کے وقفے میں خودکشی کے دوسرے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی ہے۔

اُن کے بقول یونیورسٹی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتطامات کریں اور یونیورسٹی کی اُونچی عمارتوں کے اطراف حفاظتی جنگلے لگائے جائیں۔

فیصل کامران کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ یونیورسٹی میں حفاظتی انتظامات یقینی بنانے تک آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جائے۔

Getty Imagesخودکشی کی کوشش کا دوسرا واقعہ

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اسی یونیورسٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم محمد اویس کی خودکشی کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔

پانچویں سمسٹر کے طالب علم محمد اویس نے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے پانچویں فلور سے چھلانگ لگائی تھی۔

طالب علم محمد اویس کے بھائی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا تھا کہ اویس کو اُساتذہ کی جانب سے ذہنی اذیت دی جا رہی تھی۔ اُن پر دباؤ تھا کہ حاضری کم ہونے پر اُنھیں امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔

اویس کے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ اُس نے اپنی میڈم سے درخواست کی تھی کہ اُنھیں امتحانات میں بیٹھنا دیا جائے ورنہ اُن کا سمسٹر ضائع ہو جائے گا۔

فارمیسی کی طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے واقعے پر تاحال یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن طالب علم اویس کی خودکشی پر یونیورسٹی کے چیئرمین اویس رؤف نے اسے ذہنی مسائل کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رؤف نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد اویس ایک ہونہار طالب علم تھا اور اُس کی حاضری میں کمی یا فیس کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔

ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اویس رؤف کا کہنا تھا کہ خودکشی سے چند روز قبل وہ کلاس میں سفید گاؤن پر نہیں آئے تھے، جس پر ٹیچر نے اُسے کہا تھا کہ وہ گاون پہن کر آئے۔ لیکن جب تک وہ واپس آئے، اس وقت تک کلاس ختم ہو چکی تھی۔

اویس رؤف نے کہا تھا کہ طالب علم اویس کے بارے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ تنہائی پسند تھا اور اس کے زیادہ دوست نہیں تھے۔

اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایسے طلبہ کو اس نوعیت کا انتہائی قدم اُٹھانے سے پہلے رابطہ نہ کرنا یونیورسٹی انتظامیہ کی ناکامی تھی۔

اویس رؤف نے کہا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے، تاکہ اکیلے پن یا کسی بھی ذہنی مسئلے سے دوچار طلبہ سے بات کی جائے اور کوئی بھی انتہائی قدم اُٹھانے سے روکا جا سکے۔

اس واقعے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سابق جج کی سربراہی میں ایک آٹھ رُکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی تھی اور یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس کو انکوائری کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

انڈیا کا ’کوچنگ کیپیٹل‘ اور طلبا کی خودکشیاں: ’اپنی موت کا میں خود ذمہ دار ہوں، کسی کو پریشان مت کرنا‘نوجوان مردوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا مگر مدد مانگنے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ اے آئی تھیراپسٹ: ’جب آپ کو کوئی مدد دستیاب نہ ہو تو انسان تنکے کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتا ہے‘ بے چینی آپ کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے اور اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟موسمِ بہار میں خودکشیاں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More