امریکی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح چار بج پر 21 منٹ پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ امریکہ نے ایک جرات مندانہ مشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر لیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اس ابتدائی پوسٹ کے لگ بھگ سات گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے صدر نکولس مادورو کی ایک تصویر شیئر کی جس میں اُن کی آنکھوں پر ماسک تھا، ہاتھوں میں پانی کی بوتل اور وہ ٹریک سوٹ پہنے ہوئے تھے۔
اِس تصویر کے ساتھ صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘
یاد رہے کہ یو ایس ایس آییوو جیما وہ لڑاکا جہاز ہے جس کے ذریعے وینزویلا کے صدر کو امریکہ پہنچایا گیا ہے جہاں وہ منشیات اور اسلحے سے متعلق الزامات کا امریکی عدالت میں سامنا کریں گے۔
خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ اور امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔
امریکی فوج کی ایلیٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے صدر مادورو کے سیف ہاؤس (گھر) کی نقل تیار کر کے بارہا اس میں کامیابی سے داخل ہونے اور واپس نکلنے کی مشق کی تھی۔ ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا اعلیٰ ترین انسدادِ دہشت گردی یونٹ سمجھا جاتا ہے، جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔
سی آئی اے نے بھی زمینی ٹیم اور صدر مادورو کے قریبی ذرائع کے ذریعے اُن کی سرگرمیوں اور رہائش کے مقام کی نگرانی کی۔
صدر ٹرمپ کے مطابقنے چار دن پہلے اس آپریشن کی منظوری دی تھی لیکن فوجی حکام نے بہتر موسم کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ہم یہ کارروائی چار دن پہلے کرنے والے تھے، لیکن موسم موزوں نہیں تھا۔ (ایسی کارروائیوں کے لیے) موسم بالکل درست ہونا چاہیے، اچانک موسم صاف ہوا اور ہم نے کہا اب جاؤ۔‘
ہفتے کی صبح یہ کارروائی شروع ہوئی، اور ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے کلب سے براہِ راست اس کی ویڈیو دیکھی۔
صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو بتایا کہ انھوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو پکڑنے کی کارروائی، جو رات بھر جاری رہی، اسے ’بالکل ایسے دیکھا جیسے میں کوئی ٹیلی ویژن شو دیکھ رہا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے (امریکی کارروائی کی) رفتار اور شدت دیکھی ہوتی، تو یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں نے کئی اچھے آپریشن دیکھے ہیں، لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا۔‘
سی آئی اے نے صدر مادورو کا سراغ کیسے لگایا؟
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق وینزویلا کی حکومت کے اندر موجود ایک سی آئی اے کے مخبر نے امریکی فوج کی ایلیٹ ڈیلٹا فورس کو نکولس مادورو کو پکڑنے سے قبل اُن کا مقام اور پتہ معلوم کرنے میں مدد دی تھی۔
یہ مخبر ایک وسیع انٹیلیجنس نیٹ ورک کا حصہ تھا، جس میں فضائی اور سگنلز انٹیلیجنس بھی شامل تھے۔ یہ کارروائی کئی ماہ کی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی اور سی آئی اے و محکمہ دفاع کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ تھی۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ادارہ ’انسانی ذرائع کی بھرتی کو ترجیح دے گا۔‘
F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے سی آئی اے کے مخبر کو کب بھرتی کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکی حکومت نے مادورو کو پکڑنے میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر 50 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کی تھی۔
روئٹرز کے مطابق صدر مادورو کے قریب موجود ایک امریکی مخبر اُن کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہا تھا اور ممکنہ کارروائی کے دوران اُن کا درست مقام بتانے کے لیے تیار تھا۔
بڑے پیمانے پر جنگی جہازوں اور اہلکاروں کی تعیناتیGetty Imagesاس کارروائی کے دوران امریکی ایف 35 طیارے بھی کیربیئن میں موجود رہے
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس کارروائی سے قبل کریبیئن میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی تھی، جن میں ایک طیارہ بردار جہاز، 11 جنگی جہاز، درجنوں ایف-35 طیارے اور کل 15 ہزار سے زائد فوجی شامل تھے۔
کارروائی کی ابتدا میں امریکی طیاروں نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس اور اس کے قریب اُن اہداف اور فضائی دفاعی نظام پر حملے کیے جو اس کارروائی کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی طیاروں کی تعداد ’بہت زیادہ‘ تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک لڑاکا طیارہ موجود تھا۔‘
ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی دھماکوں کی آوازیں سُن کر کاراکس کے رہائشی خوفزدہ ہوئے۔ وہاں کے ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ایسا لگا کہ جیسے اُن کا گھر گِر جائے گا۔
امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے فوجی اڈوں پر تباہ شدہ گاڑیوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہت سے فوجی گاڑیاں خاکستر حالت میں موجود ہیں۔
Getty Imagesوینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کے لا کارلوٹا ایئر بیس پر ایک فائر فائٹر جلی ہوئی فوجی گاڑی کے پاس سے گزر رہا ہےصدر مادورو کا ’قلعہ نما‘ گھر
امریکی سپیشل فورسز اور ایف بی آئی ایجنٹس نے کاراکس میں صدر مادورو کے سیف ہاؤس پر دھاوا بولا، جسے بعدازاں ٹرمپ نے ایک گھر سے زیادہ کسی ’قلعے‘ سے تشبیہ دی۔ اس گھر میں نصب سٹیل کے دروازے چند سیکنڈز میں توڑ دیے گئے۔ روئٹرز کے مطابق صدر مادورو نے اس دوران سیف روم میں جانے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے۔
یہ واضح نہیں کہ امریکی فورسز نے گھر میں داخل ہونے کے بعد صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو کس طرح پکڑا، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نے ’سیف روم‘ تک پہنچنے کی ناکام کوشش کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ اس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن انھیں اتنی تیزی سے گھیر لیا گیا کہ وہ اندر جا ہی نہیں سکے۔‘
ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں لیکن کوئی ہلاک نہیں ہوا جبکہ ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا، مگر وہ واپس اپنی منزل تک پہنچ پانے میں کامیاب رہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جب مادورو کو پکڑا گیا تو وہ ’ایک ایسے گھر میں تھے جو گھر سے زیادہ قلعہ لگ رہا تھا‘ اور ’چاروں اطراف سے مضبوط سٹیل سے گھرا ہوا تھا۔‘
صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟