BBC
امریکہ کے ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور یہ کہ وہ (مادورو) امریکہ میں فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کریں گے۔ یہ تصدیق سینیٹر مائیک نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد کی ہے۔
سینیٹر لی نے کہا کہ ’روبیو کا خیال ہے کہ اب جبکہ مادورو امریکی تحویل میں ہیں تو وینزویلا میں مزید کوئی کارروائی متوقع نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی حملے ’اُن افراد کے تحفظ اور دفاع کے لیے کیے گئے تھے جو (مادورو کے) گرفتاری کے وارنٹ پر عملدرآمد کر رہے تھے۔‘
خیال رہے اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس دوران صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لے کر بیرون ملک منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دارالحکومت کاراکس میں دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی تھیں۔
وینزویلا نے ملک میں قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی ’فوجی جارحیت‘ کو مسترد کرتا ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔
حالیہ کچھ عرصے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کر رہے تھے۔
کچھ روز قبل امریکی جنگی جہاز وینزویلا کے قریب ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں سے وہ بآسانی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
مگر ٹرمپ کو وینزویلااور صدر نکولس مادورو سے مسئلہ کیا ہے جو دونوں ممالک کو آج کیے جانے والے حملوں تک لے آیا ہے؟
ٹرمپ کا مادورو پر منشیات کی سمگلنگ اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے کا الزامGetty Images
حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ نے فینٹینائل اور کوکین جیسی منشیات کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ بارہا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ میں منشیات، خصوصاً فینٹینائل اور کوکین، کی آمد میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وینزویلا سے منسلک مجرمانہ گروہ، جیسا کہ کارٹل دے لوس سولیس، بڑی مقدار میں منشیات امریکہ پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور واشنگٹن نے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث بعض گروہوں کو بھی حال ہی میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے۔
امریکی صدر نے صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر انعام کی رقم بھی حالیہ عرصے میں دگنی کر دی تھی اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ مادورو حکومت کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا۔
F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟بحری جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور سی آئی اے: جنگوں کے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں چاہتے کیا ہیں؟حکومتوں کی ’تبدیلی‘، ریڈیو پر پروپیگنڈا مہمات اور چی گویرا کی گرفتاری سمیت سی آئی اے کی لاطینی امریکہ میں خفیہ کارروائیوں کی داستانامریکہ نے دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز بحیرہ کریبیئن میں کیوں تعینات کیا؟
مادورو سختی سے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی منشیات کارٹیل کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے امریکہ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ (امریکہ) اپنی ’منشیات کے خلاف جنگ‘ کو انھیں اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے بڑے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انسدادِ منشیات کے ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر منشیات کی سمگلنگ میں وینزویلا کا کردار محدود ہے اور یہ زیادہ تر (منشیات کی سمگلنگ کے لیے) ایک راہداری کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ وینزویلا کا پڑوسی ملک کولمبیا دنیا میں کوکین کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے لیکن اس کی زیادہ تر منشیات وینزویلا کے بجائے دوسرے راستوں (جیسا کہ وینزویلا) سے امریکہ پہنچتی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے باوجود تیل کی فروختGetty Images
سنہ 2019 میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے وینزویلا کی تیل کی صنعت پر پابندیاں عائد کیں، تو اس ملک کے خام تیل کی برآمدات گھٹ کر تقریباً چار لاکھ 95 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی تھیں۔
اگرچہ چھ سال بعد بھی یہ پابندیاں جُوں کی تُوں برقرار ہیں، مگر اس دورانیے میں وینزویلا کی تیل کی فروخت ڈرامائی طور پر بڑھ کر تقریباً دس لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
اگرچہ تیل کی فروخت کی یہ مقدار اِس ملک کے لیے اب بھی بہت کم ہے، جو سنہ 1998 میں ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے قبل لگ بھگ 30 لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتا تھا، لیکن پابندیوں کے باوجود اتنی مقدار میں تیل فروخت کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گذشتہ چھ سال سے عائد امریکی پابندیاں وہ نتائج نہیں دے پا رہیں جن کی توقع کی گئی تھی۔
وینزویلا کی مادورو حکومت امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے تیل کی پیداوار بحال کرنے اور خام تیل کی فروخت کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ اور اِسی تناظر میں ایک خفیہ 'گھوسٹ فلیٹ' (تیل کی ترسیل کرنے والا گمنام بیڑا) مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بیڑا دراصل ایسے تیل بردار جہازوں کا نیٹ ورک ہے جو مختلف حربے اپنا کر اپنی نقل و حمل چھپاتا ہے اور اُس تیل کی ترسیل کرتا ہے جس پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکی حکومت نے گذشتہ مہینوں میں ایک بہت سے تیل بردار جہازوں کی نشاندہی کی یا انھیں قبضے میں لیا جو وینزویلا کا تیل سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
وینزویلا کی حکومت نے اس امریکی اقدام کو 'کُھلی ڈکیتی اور بحری قزاقی' قرار دیتی ہے۔
مادرو کی حکومت پر دیگر الزامات
ٹرمپ یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وینزویلا کے اقتصادی بحران اور حکومتی مظالم کی وجہ سے لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں ہزاروں افراد امریکی سرحد پر پہنچ چکے ہیں۔
انھوں نے مادورو پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے جیلیں اور پاگل خانے خالی کر دیے ہیں اور اپنے قیدیوں اور پناہ کے خواہشمندوں کو مجبوراً امریکہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
خیال رہے ٹرمپ کے یہ دعوے متنازع ہیں اور انھوں نے اس کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔
مادورو کون ہیں اور انھیں گرفتار کیوں کیا گیا؟Reuters
نکولس مادورو نے بائیں بازو کے صدر ہیوگو شاویز اور ان کی جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا کے دور میں سیاسی اہمیت حاصل کی۔ سنہ 2013 میں وہ شاویز کے بعد وینزویلا کے صدر بنے۔
سنہ 2024 میں مادورو کو صدارتی انتخابات کا فاتح قرار دیا گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے جمع کیے گئے ووٹنگ نتائج کے مطابق اُن کے امیدوار ایڈمونڈو گونزالیز واضح اکثریت سے جیت گئے تھے۔
امریکہ میں وینزویلا کے سینکڑوں ہزار مہاجرین کی آمد اور امریکہ میں منشیات، خصوصاً فینٹینائل اور کوکین کی سمگلنگ کے خلاف وائٹ ہاؤس کی مہم ے حوالے سے مادورو اور ٹرمپ کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے دو منشیات فروش گروہوں ٹرین دے اراگوا اور کارٹل دے لوس سولیس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ دوسرے گروہ کی قیادت خود مادورو کر رہے تھے۔
امریکہ نے مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات کے لیے 50 ملین ڈالر (37 ملین پاؤنڈ) انعام کی پیشکش بھی کی تھی۔
حالیہ مہینوں میں امریکی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کشتیوں پر دو درجن سے زائد حملے بھی کیے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں منشیات سمگل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
ان حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وینزویلا میں تیل کی دولت کتنی ہے؟
مادرو حکومت کے لیے تیل غیر ملکی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس شعبے سے حاصل ہونے والا منافع حکومت کے بجٹ کا آدھا سے زیادہ حصہ پورا کرتا ہے۔
فی الحال وینزویلا روزانہ تقریباً نو لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے جس کا چین سب سے بڑا خریدار ہے۔
اگرچہ امریکی جائزے کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تصدیق شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں لیکن یہ ان سے نسبتاً کم فائدہ اٹھا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی ) کے مطابق 2023 میں وینزویلا نے عالمی خام تیل کی پیداوار کا صرف 0.8% پیدا کیا جس کی وجہ تکنیکی اور بجٹ سے متعلق چیلنجز ہیں۔
پہلا ٹینکر ضبط کرنے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: ’میرا خیال ہے ہم یہ تیل رکھ لیں گے۔‘
اس سے قبل امریکہ نے وینزویلا کے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ مادورو حکومت کے خلاف اقدامات کا مقصد ملک کے غیر استعمال شدہ تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟بحری جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور سی آئی اے: جنگوں کے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں چاہتے کیا ہیں؟حکومتوں کی ’تبدیلی‘، ریڈیو پر پروپیگنڈا مہمات اور چی گویرا کی گرفتاری سمیت سی آئی اے کی لاطینی امریکہ میں خفیہ کارروائیوں کی داستانامریکہ نے دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز بحیرہ کریبیئن میں کیوں تعینات کیا؟