’فیض حمید کے وکیل‘ کے لائسنس کی معطلی کا تنازع: ’ہم یہ نہیں کہہ رہے جس وکیل نے رجب بٹ پر تشدد کیا، اُسے ایوارڈ ملنا چاہیے‘

بی بی سی اردو  |  Jan 02, 2026

پنجاب بار کونسل کی جانب سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید اور یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

پنجاب بار کونسل کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میاں علی اشفاق کے خلاف یہ کارروائی کراچی بار کے صدر اور جنرل سکریٹری کے خط کی روشنی میں کی گئی۔

پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ذبیح اللہ ناگرا کا کہنا ہے کہ خط میں اس ویڈیو کی جانب توجہ دلائی گئی جس میں مقامی وکلا کی ہڑتال کے باوجود ایڈووکیٹ علی اشفاق رجب بٹ کی وکالت کے لیے کراچی سٹی کورٹ میں پیش ہوئے۔

پنجاب بار کونسل کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’وکالت ایک باوقار پیشہ ہے جس میں نظم و ضبط، اجتماعی مفاد اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی ناقابل برداشت ہے اور ایسے طرز عمل پر سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔‘

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’ایک تو مقامی وکلا کی جانب سے کی گئی ہڑتال کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ اس موقع پر میاں علی اشفاق نے وکلا کمیونٹی کے خلاف نامناسب گفتگو کی، جو ’سنگین پیشہ ورانہ بدیانتی‘ ہے۔‘

خیال رہے کہ یوٹیوبر رجب بٹ پیر کو اسلامی شعائر کی مبینہ توہین کے مقدمے کی سماعت کے لیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اس دوران اُن پر وکلا نے تشدد کیا تھا۔

رجب بٹ کے خلاف حیدری تھانے میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہے اور وہ اس مقدمے میں عبوری ضمانت پر ہیں۔

وکلا کا کہنا تھا کہ رجب بٹ اپنی ویڈیوز میں وکلا کمیونٹی کے خلاف نامناسب گفتگو کرتے تھے۔

واقعے کے بعد رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق کی مدعیت میں سٹی کورٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے 20 وکلا کو گرفتار کر لیا تھا۔

مقدمے میں کہا گیا تھا کہ رجب بٹ کے خلاف مقدمے کے مدعی ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے اپنے دیگر 20 وکلا ساتھیوں کے ہمراہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں رجب بٹ کو شدید چوٹیں آئیں۔

پنجاب بار کونسل کے حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایڈووکیٹ میاں اشفاق کے طرز عمل نے تنازع اور انتشار کا ماحول پیدا کیا جس سے وکلا برادری کی ساکھ اتحاد اور اجتماعی سالمیت کو شدید نقصان پہنچا۔‘

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کی وکالت کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ معاملہ ضابطہ اخلاق کی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

وکلا کو لائسنس جاری کرنے والی پنجاب بار کونسل پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی بار کونسل ہے جس کے دائرہ اختیار میں ایک لاکھ سے زائد لائسنس یافتہ وکلا اور 127 بار ایسوسی ایشنز کام کرتی ہیں۔

پنجاب بار کونسل کا قیام 1973 کے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور اس نے باضابطہ طور پر یکم جنوری 1974 سے کام شروع کیا تھا۔

پنجاب بار کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق بار پر تادیبی دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اور پریکٹس کرنے والے وکلاء کے حقوق، مفادات اور مراعات کے تحفظ کی ذمے داری ہے جبکہ یہ وکلا کے طرز عمل پر بھی نظر رکھتا ہے اور کسی بھی بدانتظامی کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

رجب بٹ پر تشدد کے الزام میں وکلا کے خلاف مقدمہ درج: ’کراچی بار نے جو عزت کمائی اسے چند وکلا کے غیرقانونی رویے سے نقصان پہنچا‘رجب بٹ اور ندیم مبارک کی 10 روزہ راہداری ضمانت منظور: ’ڈی پورٹ نہیں کیا گیا، مقدمات کے فیصلے تک پاکستان میں رہوں گا‘یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ، 295 نامی پرفیوم اور سدھو موسے والا کا بھی ذکرفیض حمید: آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزافیض حمید اور عمران ریاض کے وکیل

حالیہ برسوں میں ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا نام بار بار سامنے آتا رہا ہے۔

رجب بٹ سے قبل وہ یو ٹیوبر اور صحافی عمران ریاض کی بھی مختلف مقدموں میں وکالت کرتے رہے ہیں۔

وہ کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا کرنے والے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ فیض حمید کے بھی وکیل ہیں۔

گذشتہ ماہ فوجی عدالت نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

میاں علی اشفاق کی لائسنس منسوخی کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔

میاں علی اشفاق نے ایکس پر لکھا کہ اگر آپ صحیح چیز کے لیے کھڑے ہونے کے لیے میرے عزم کو جانچنا چاہتے ہیں تو آپ اسے پہلے سے کہیں زیادہ اور پہلے سے بہت بڑا دیکھیں گے۔ ’مجھے مزید آزمائیں، میں آپ کو ناکام کردوں گا۔‘

صحافی مطیع اللہ جان لکھتے ہیں کہ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے پاس ’کسی وکیل کا لائسنس معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر بار کونسل نے کسی ایسی شق کا حوالہ نہیں دیا، جس کے تحت وہ ایسا کر سکتی ہے۔ جبکہ حکم نامے پر تمام ایگزیکٹو ارکان کے بجائے صرف ایک کے دستخط موجود ہیں۔‘

صحافی اور کالم نویس بلال غوری لکھتے ہیں کہ ’کراچی میں پیشی کے موقع پر رجب بٹ پر اس لیے تشدد کیا گیا کہ اُنھوں نے وکلا کی شان میں گستاخی کی تھی اور اب ان کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کردیا گیا۔ جو اس واقعہ کو چند وکلا کا انفرادی فعل سمجھ رہے تھے انھیں اندازہ ہوگیا ہو گا کہ یہ وکیل مافیا بن چکے ہیں۔‘

صحافی ثاقب بشیر کہتے ہیں کہ جس نے ’سرِعام تشدد کیا اس کا لائسنس برقرار جس نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اس کا لائسنس معطل۔۔۔آئین و قانون کراچی بار اور پنجاب بار کونسل نے مل کر بلندی پر پہنچا دیا ہے۔‘

’لائسنس صرف معطل ہوا ہے منسوخ نہیں‘

پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ذبیح اللہناگرہ کہتے ہیں کہ میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کر کے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ڈسپلنری کمیٹی اُنھیں دفاع کا پورا موقع دے گی۔

ذبیح اللہ ناگرہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے حکمنامے میں رولز کا حوالہ دیا ہے اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کسی وکیل کا لائسنس معطل کیا گیا ہو۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جس وکیل نے رجب بٹ پر تشدد کیا، اُسے ایوارڈ ملنا چاہیے، لیکن اُس کے خلاف کارروائی کا اختیار سندھ بار کونسل کو ہے۔‘

حکمنامے پر صرف ایک دستخط ہونے کے سوال پر ذبیح اللہ ناگرہ کا کہنا تھا جو ایگزیکٹو آرڈر سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، یہ تمام ارکان کے دستخطوں سے پہلا تیار ہوا تھا۔ لیکن بعد میں ایگزیکٹو کمیٹی کے تمام ارکان نے اس پر دستخط کر دیے تھے۔

یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ، 295 نامی پرفیوم اور سدھو موسے والا کا بھی ذکررجب بٹ اور شادی پر شیر کے بچے کا تحفہ: 50 ہزار جرمانہ اور ’ہر ماہ شکار کے خلاف ویڈیو بنانی ہو گی‘فیض حمید: ایک ’متحرک جنرل‘ جن کا کریئر تنازعات میں گِھرا رہافیض حمید کی سزا کے اعلان کا آخری پیراگراف کیا معنی رکھتا ہے؟متنازع ٹویٹس کیس: پاکستان کے ’اندرونی معاملات‘ میں مداخلت پر ناروے کے سفیر طلب، سپریم کورٹ کا ایمان مزاری کا ٹرائل روکنے کا حکم
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More