’جنسی کھلونوں کی بڑھتی فروخت‘: چین میں کنڈوم پر ٹیکس کیوں لگایا گیا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 01, 2026

Getty Imagesچین میں نوجوان جوڑے انتہائی کم یا بالکل بچے پیدا ہی نہیں کر رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ معاشی صورتحال ہے

چین میں یکم جنوری سے مانع حمل ادویات پر 13 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گا جبکہ اس کے برعکس بچوں کی دیکھ بھال سے متعلقہ شعبوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات دنیا کی دوسری بڑی معیشت، چین، میں شرحِ پیدائش بڑھانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

ٹیکس سے متعلق ان نئے قوانین کا اعلان گذشتہ سال (2025) کے آخر میں کیا گیا تھا اور اس کے تحت ٹیکس نظام میں دی گئی کئی ایسی رعایتوں کو ختم کر دیا گیا ہے جو چین میں سنہ 1994 سے نافذ تھیں۔

چین گذشتہ کئی دہائیوں سے ’ایک بچے کی پالیسی‘ (یعنی فی جوڑا ایک بچہ) پر عمل کر رہا تھا مگر اب حکومت آبادی میں اضافہ چاہتی ہے۔

عمر رسیدہ ہوتی آبادی اور سست معیشت کے پیشِ نظر بیجنگ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی شہری شادی کریں اور جوڑے بچوں کی پیدائش کی طرف راغب ہوں۔

چین کی آبادی گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل سکڑ رہی ہے، سنہ 2024 میں پورے ملک میں صرف 95 لاکھ 40 ہزار بچے پیدا ہوئے تھے، یہ تعداد ایک دہائی قبل کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔

تاہم مانع حمل اشیا ادویات، جن میں کنڈوم، مانع حمل گولیاں اور آلات شامل ہیں، پر ٹیکس کے نفاذ نے غیر مطلوبہ حمل اور ایچ آئی وی کی شرح میں اضافے کے خدشات کے ساتھ ساتھ چینی معاشرے میں طنز و مزاح کو بھی جنم دیا ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کو بچہ پیدا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے صرف مہنگے کنڈوم ہی کافی نہیں ہوں گے۔

Getty Images2024 میں چین میں صرف 95 لاکھ 40 ہزار بچے پیدا ہوئے تھے

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے ازراہ مذاق شہریوں کو کنڈوم پر ٹیکس کے نفاذ اور اس کے نتیجے میں اُن کی قیمتوں میں اضافے سے قبل کنڈوم ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا، تو ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’میں اب زندگی بھر کے لیے کنڈوم خرید لوں گا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’لوگ کنڈوم کی قیمت اور بچے پالنے کے اخراجات میں واضح فرق کو بخوبی جانتے ہیں۔‘

بیجنگ کے یووا پاپولیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق چین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں کی پرورش سب سے مہنگی پڑتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سخت مقابلے والے تعلیمی ماحول میں سکول فیس والدین کے اخراجات کو بڑھا دیتی ہیں، جبکہ خواتین کو کام اور بچوں کی پرورش کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

معاشی سست روی، جو جزوی طور پر پراپرٹی کے بحران کے باعث چینی شہریوں کی سیونگز (بچت) پر اثرانداز ہوئی، نے چینی شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے۔

ہینان صوبے کے رہائشی 36 سالہ ڈینیئل لو نے کہا کہ ’میرا ایک بچہ ہے اور میں مزید بچے نہیں چاہتا۔ (کنڈوم پر ٹیکس کا نفاذ) بالکل ایسے ہی ہے جیسے میٹرو کا کرایہ بڑھا دیا جائے۔ اگر ایک یا دو یوان (چینی کرنسی) بڑھ بھی جائیں تو میٹرو استعمال کرنے والے اسے ہی استعمال کریں گے۔ آپ کو پھر بھی میٹرو لینا پڑتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ مانع حمل اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان نہیں ہیں۔ ’ٹیکس کے نفاذ کے بعد کنڈوم کے ایک ڈبے کی قیمت پانچ یوان زیادہ ہو سکتی ہے، شاید دس یا زیادہ سے زیادہ بیس۔ سال بھر میں یہ چند سو یوان بنتے ہیں، اور یہ بالکل برداشت کے قابل رقم ہے۔‘

بیرون ملک عارضی نکاح سے پیدا ہونے والے بچے جنھیں اپنی شناخت نہیں مل پاتیآٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیںمردوں کو سیکس سے متعلق خواب کیوں آتے ہیں اور کیا نیند کے دوران احتلام ہونا مردانہ بانجھ پن کی علامت ہو سکتا ہے؟نوجوانوں میں دورانِ سیکس گلا دبانے کا خطرناک عمل:’میں اُس وقت بےہوش تو نہیں ہوئی لیکن اپنی جگہ جم سی گئی تھی‘

تاہم کنڈوم سمیت مانع حمل اشیا کی بڑھتی قیمتیں کچھ شہریوں کے لیے مسئلہ بن سکتی ہیں، اور یہی بات چین کے وسطی شہر شیان کی رہائشی روزی ژاؤ کو پریشان کرتی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ مانع حمل اشیا، جو ایک ضرورت ہیں، کو مہنگا کرنے سے طلبا یا مالی مشکلات کا شکار افراد ’(بچہ پیدا کرنے کا) خطرہ مول لے سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ اس پالیسی کا ’سب سے خطرناک ممکنہ نتیجہ‘ ہو سکتا ہے۔

ماہرین ان حالیہ ٹیکس اصلاحات پر منقسم نظر آتے ہیں۔

یونیورسٹی آف وسکونسن سے منسلک ماہر آبادیات یی فوشیان کا کہنا ہے کہ یہ سوچنا کہ کنڈوم پر ٹیکس بڑھانے سے شرحِ پیدائش متاثر ہو گی یا بڑھ جائے گی ’زیادہ سوچنے‘ کے مترادف ہے۔

اُن کے مطابق بیجنگ پراپرٹی کے بحران اور بڑھتے ہوئے قرضوں سے نمٹنے کے لیے ’جہاں ممکن ہو‘ وہاں ٹیکس لگانے کا خواہاں نظر آتا ہے۔

گذشتہ سال چین کی ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) آمدنی تقریباً ایک کھرٹ ڈالر (742 ارب پاؤنڈ) رہی، جو ملک کی مجموعی ٹیکس وصولی کا تقریباً 40 فیصد ہے۔

سٹڈی سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی ہینریئٹا لیون کے مطابق کنڈوم پر ٹیکس لگانے کا اقدام ’علامتی‘ ہے اور یہ بیجنگ کی اس کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ چینی شہری چین کی ’انتہائی کم‘ شرحِ پیدائش کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کوششوں میں رکاوٹ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر پالیسیاں اور سبسڈیز قرض میں ڈوبی صوبائی حکومتوں کو نافذ کرنی ہیں، اور یہ واضح نہیں کہ وہ اس کے لیے کافی وسائل فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

چین کی جانب سے لوگوں کو بچوں کی پیدائش پر آمادہ کرنے کا طریقہ اُلٹا بھی پڑ سکتا ہے، اگر عوام کو لگے کہ حکومت ان کی ذاتی زندگی میں ’حد سے زیادہ مداخلت‘ کر رہی ہے۔

حال ہی میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ بعض صوبوں میں خواتین کو مقامی حکام کی جانب سے فون کالز موصول ہوئی ہیں، جن میں اُن کے حیض کے اوقات اور بچوں کی پیدائش کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ یونان صوبے کے مقامی ہیلتھ بیورو نے کہا ہے کہ یہ ڈیٹا متوقع ماؤں کی نشاندہی کے لیے درکار ہے۔

تاہم ہینریئٹا لیون کے مطابق اس سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کمیونسٹ پارٹی ہر اس فیصلے میں خود کو شامل کرنے سے باز نہیں آتی جسے وہ اہم سمجھتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات وہ خود اپنی سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے۔‘

Getty Images2024 کی ایک تحقیق کے مطابق بچوں کی پرورش کے لیے چین دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے

ماہرین اور خواتین کا کہنا ہے کہ چین کی ’مردوں پر مشتمل قیادت‘ اُن سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے میں ناکام ہے، جو صرف چین تک محدود نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر میں دیکھی جا رہی ہیں۔

مغربی ممالک اور خطے کے دیگر ممالک، جیسا کہ جنوبی کوریا اور جاپان، بھی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے باعث شرحِ پیدائش میں اضافہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ بچوں کی پرورش کا بوجھ ہے، جو زیادہ تر خواتین پر پڑتا ہے۔ تاہم دیگر عوامل بھی ہیں، جیسا کہ شادیوں اور حتیٰ کہ تعلقات بنانے یعنی ڈیٹنگ میں کمی۔

ہینان کے رہائشی مسٹر لو کے مطابق چین کے اس ضمن میں اٹھائے گئے متعدد اقدامات اصل مسئلے کو حل نہیں کرتے، جو یہ ہے کہ آج کے نوجوان کس طرح ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ تعلقات حقیقی انسانی روابط سے زیادہ دور ہوتے جا رہے ہیں۔

انھوں نے چین میں جنسی کھلونوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ’لوگ صرف خود کو مطمئن کر رہے ہیں کیونکہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ تعلق رکھنا اب زیادہ بڑا معاشی بوجھ بن گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے لیے آن لائن رہنا زیادہ آسان اور تسلی بخش ہے کیونکہ حقیقی دوستیوں کا ’معاشی دباؤ حقیقی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آج کے نوجوانوں کو اس سے کہیں زیادہ دباؤ کا سامنا ہے جتنا 20 سال پہلے نوجوانوں کو ہوتا تھا۔ بلاشبہ وہ معاشی طور پر بھی کچھ بہتر ہیں، لیکن اُن سے منسلک کی گئی توقعات کہیں زیادہ ہیں۔ ہر کوئی تھکا ہوا ہے۔‘

مردوں کو سیکس سے متعلق خواب کیوں آتے ہیں اور کیا نیند کے دوران احتلام ہونا مردانہ بانجھ پن کی علامت ہو سکتا ہے؟نوجوانوں میں دورانِ سیکس گلا دبانے کا خطرناک عمل:’میں اُس وقت بےہوش تو نہیں ہوئی لیکن اپنی جگہ جم سی گئی تھی‘آٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیںبیرون ملک عارضی نکاح سے پیدا ہونے والے بچے جنھیں اپنی شناخت نہیں مل پاتی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More