یوٹیوبر کے والد کا اغوا اور ’تاوان کی رقم کے ساتھ فرار‘ ہوتے ملزمان کی ہلاکت کا تنازع: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

بی بی سی اردو  |  Nov 29, 2025

صوبہ پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں گذشتہ دنوں ایک پولیس مقابلے کے دوران ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چار مبینہ اغواکاروں کے اہلخانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ا س معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اہلخانہ کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھیجی گئی درخواستوں میں پولیس پر ’جعلی، فرضی اور خود ساختہ‘ مقابلہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تاہم متعلقہ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ چاروں ملزمان نہ صرف اغوا برائے تاوان کی واردات میں ملوث تھے بلکہ انھیں تفتیش کے انتہائی جدید ذرائع استعمال کرتے ہوئے ٹریک کیا گیا۔

پولیس نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ سامنے آنے والے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ملزمان ’کالعدم تنظیموں سے رابطے میں تھے۔‘

یاد رہے کہ ہلاک ہونے والے ملزمان میں ایک 15 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جبکہ یہ تمام چاروں ملزمان آپس میں قریبی رشتہ دار تھے۔

معاملے کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟

اس معاملے کی ابتدا رواں ماہ 15 نومبر کو اُس وقت ہوئی جب چار نامعلوم مسلح ملزمان ضلع کوٹ ادو میں تھانہ سرور شہید کے علاقے سے ایک شخص کو اسلحے کی نوک پر اغوا کر کے لے گئے۔

یہ کیس جلد ہی پاکستان کے سوشل میڈیا پر زیر بحث آیا کیونکہ مغوی شخص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر ’ویلا منڈا‘، جن کے یوٹیوب پر 15 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، کے والد تھے۔

یوٹیوبر نے سوشل میڈیا پر حکام سے اپنے والد کی رہائی کا مطالبہ کیا اور مبینہ اغواکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اُن کے والد کو نقصان نہ پہنچائیں۔

پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ 16 نومبر کو مغوی کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا۔

Getty Imagesایف آئی آر کے مطابق چار نامعلوم مسلح ملزمان نے اغوا کی یہ واردات کی تھی (علامتی تصویر)

ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ نے پولیس کو بتایا وہ اپنے والد (مغوی) اور دیگر افراد کے ساتھ اپنے ڈیرے پر موجود تھے جب اچانک ایک موٹر سائیکل پر چار نامعلوم ملزماں وہاں پہنچے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اس موقع پر ہوائی فائر کیے اور وہاں موجود تمام افراد کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے اور انھیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر دو ملزمان مغوی کو گن پوائنٹ پر گھر کے اندر لے گئے اور اُن سے اُن کی گاڑی کی چابی طلب کی تاہم چابی نہ ملنے کے بعد ایک ملزم نے مغوی کا موٹرسائیکل سٹارٹ کیا اور چاروں ملزمان اسلحہ کے زور پر انھیں ساتھ بٹھا کر فرار ہو گئے۔

مغوی کے بیٹے نے پولیس سے اپنے والد کی جلد از جلد بازیابی کی استدعا کی۔

ڈسڑکٹ پولیس آفیسر مظفر گڑھ و کوٹ ادو غصنفر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک سنگین واردات تھی جس کے بعد ملزمان نے لواحقین سے رابطہ کیا اور 60 لاکھ روپے تاوان طلب کیا۔‘

ڈی پی او کے مطابق اس علاقے میں طویل عرصے سے اغوا برائے تاوان کی واردات نہیں ہوئی تھی چنانچہ خدشہ تھا کہ ملزماں مغوی کو نزدیک واقع کچے کے علاقے یا کسی دوسرے صوبے نہ لے جائیں، جس کے لیے فی الفور حفاظتی اقدامات کیے گئے اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے جدید ترین تفتیشی ذرائع کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملزمان کی ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاکت کا دعویٰ

اغوا کی اس کارروائی کے پانچ روز بعد یعنی 20 نومبر کو پولیس کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مغوی بازیاب ہو چکے ہیں جبکہ چار مبینہ اغوا کار پولیس سے ہوئی مڈبھیڑ کے دوران ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

چاروں ملزماں کی ہلاکت کا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ صدر سرور شہید کی مدعیت میں 20 نومبر کو درج کیا گیا۔

درج مقدمہ میں دعوی کیا گیا کہ ’مخبر نے اطلاع دی کہ اغوا میں ملوث ملزمان مغوی کی رہائی کے عوض جزوی رقم موصول کر کے مغوی کو کسی اور جگہ منتقل کر رہے ہیں۔‘

ایف آئی آر کے مطابق یہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس اہلکار ٹی پی لنک کنال کی طرف روانہ ہو گئے۔

Getty Imagesپولیس کے مطابق ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے (علامتی تصویر)

ایف آئی آر کے مطابق پُل دیوان کے قریب پولیس اہلکاروں کو چار موٹر سائیکلوں پر سوار نو افراد آتے نظر آئے جنھیں ’مشکوک جان کر‘ رُکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم انھوں نے رُکنے کے بجائے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی جس سے پولیس کی سرکاری گاڑی کی ونڈ سکرین چھلنی ہو گی۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ موٹرسائیکل سوار مغوی کو چھوڑ کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے اور انھوں نے ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں کی اوٹ لے کر پولیس پر فائرنگ شروع کر دی جس پر پولیس نے اپنے دفاع میں اِکا دُکا فائر کیے اور اسی دوران چار میں سے دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے فائرنگ رُکنے پر معلوم ہوا کہ ریت کے ٹیلوں میں چار ملزمان کی لاشیں اور دو موٹر سائیکل پڑے ہوئے تھے جن کی بعدازاں شناخت نوید، محمد سلیم، محمد جمشید اور محمد مبشر کے طور پر ہوئی جو کہ بیٹ علیانی (تونسہ شریف) کے رہائشی ہیں۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان کے قریب سے 30 لاکھ تاوان کی جزوی رقم کے علاوہ بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

تاہم ان چاروں افراد کے لواحقین نے پولیس کی جانب سے مقدمے میں فراہم کردہ تفصیلات کو یکسر مسترد کیا ہے۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ چاروں افراد، جن میں ایک 15 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، کا نہ تو ماضی کا کوئی کریمنل ریکارڈ ہے اور ہی وہ کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث تھے۔ اہلخانہ کے مطابق پولیس کی جانب سے واقعات سے متعلق جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں وہ بھی متضاد ہیں۔

تاہم پولیس ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔

کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کا معمہ: برقعہ پوش ’ڈاکو‘ اور بچوں کو ٹیوشن دینے والی ’سہولت کار‘’بعض اوقات انکاؤنٹر لازمی ہو جاتے ہیں۔۔۔‘: سسٹم کی وہ خامیاں جو پاکستان میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کی وجہ بنتی ہیںسمندری میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے محمد آصف کا ٹی ایل پی اور فوج سے کیا تعلق تھا؟پاکستان میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں مارے کیوں جاتے ہیں؟’پانچ روز کی محنت کے بعد ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے‘

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوٹ ادو غصنفر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسے ہی یہ کیس پولیس کے نوٹس میں آیا تو فوری طور پر جدید ترین ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزماں کا تعاقب شروع کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اغوا کی واردات کے دوران ملزمان ڈیرے پر موجود افراد سے تین موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے کر گئے تھے اور اغوا کے بعد ملزمان اہلخانہ سے رابطے قائم کرتے اور ان سے تاوان کی رقم طلب کرتے جس کے لیے وہ اپنے وائس نوٹ بھی بھیجتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے واردات سے قبل ریکی کی تھی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کو مل چکی تھی جبکہ موقع واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کے پاس موجود تھی۔

غصنفر شاہ کا کہنا تھا کہ دستیاب شواہد جیسا کہ وائس نوٹس اور تاوان کی غرض سے کی گئی فون کالز کا تجزیہ کیا گیا، سارا متعلقہ ڈیٹا اکھٹا کیا گیا جس کے بعد لوکیشن ٹریک کرنے کے کام کا آغاز ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سارا کام کوئی آسان نہیں تھا، ہماری ٹیم نے دن رات کام کیا اور اس دوران حساس اداروں اور متعلقہ حکومتی اداروں کی بھی خدمات حاصل کی گئیں۔‘

Getty Imagesپولیس کے مطابق ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے مختلف اداروں کی مدد کی گئی (فائل فوٹو)

ڈی پی او نے کہا کہ ’ہمیں ایک ہی خدشہ تھا کہ ملزم مغوی کو لے کر فرار نہ ہو جائیں اور اگر ایسا ہوتا اور یہ واردات کامیاب ہو جاتی تو پھر علاقے میں اس طرح کی وارداتیں شروع ہونے کا خدشہ بھی موجود تھا۔ جس وجہ سے ساری پولیس حساس تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم 20 نومبر کو اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزمان ضلع کوٹ ادو کے دریائی علاقے میں ہو سکتے ہیں۔‘

غضنفر شاہ کا کہنا تھا کہ ’پولیس پارٹی نے انتہائی احتیاط سے چھاپہ مارا۔ ہم مغوی کو بغیر کسی نقصان کے برآمد کرنا اور ملزماں کو گرفتار کرنا چاہتے تھے مگر چونکہ یہ ملزماں بہت تربیت یافتہ تھے تو انھوں نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور جب یہ سلسلہ تھما تو جس جگہ پر انھوں نے پناہ لی ہوئی تھی وہاں پر چار ملزمان کی لاشیں پڑی تھیں۔‘

ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ چاروں ملزمان فرار ہونے والے اپنے چار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بعدازاں پولیس کو ناصرف ملزمان کے موبائل فون بلکہ ہینڈ گرینڈ بھی ملے۔ ’ہینڈ گرینڈ کوئی عام ملزم استعمال نہیں کر سکتا اور دیگر جدید اسلحہ بھی ملزمان کے ٹھکانے سے برآمد ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس کی تفتیش اعلیٰ سطح پر جاری ہے اور جلد ہی فرار ہونے والے دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

غصنفر شاہ کا کہنا تھا کہ ’چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان چاروں ملزمان کے موبائل فونز سے ہمیں ابتدائی طور پر ایسے شواہد دستیاب ہوئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ان ملزمان کے کالعدم تنظیموں سے رابطے تھے اور اب اس پہلو پر بھی تفتیش ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے مغوی کو پانچ روز تک اپنی تحویل میں رکھا۔ ’پہلے دن تو کھانا پینا نہیں دیا گیا مگر ظاہر ہے کہ ملزماں کو مغوی سے تاوان چاہیے تھا اور اس کو زندہ رکھنا ضروری تھا، جس کے بعد وہ ان کو کھانا پینا بھی دیتے رہے اور سونے کی جگہ تو تکلیف دہ تھی، مگر یہ خیریت رہی کہ مغوی بالکل محفوظ ہیں اور اس وقت صدمے کی کفیت میں ہیں۔‘

’ہمارے بچےمظلوم ہیں، انصاف چاہیے‘

دوسری جانب ہلاک ہونے والے چاروں افراد کے اہلخانہ پولیس کے دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان اور کوٹ ادو کے سرحدی گاون بیٹعلیانی تونسہ سے ہے اور اُن کی تدفین اُن کے آبائی علاقے میں ہی کی گئی ہے۔ لواحقین کے مطابق چاروں ملزمان رشتہ دار ہیں اور آپس میں چچا زاد اور خالہ زاد بھائی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کےقریبی عزیز غلام مرتضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مبینہ پولیس مقابلے کے دوسرے روز انھیں فون کر کے کہا گیا کہ چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ کہ اُن کی لاشیں لے جائیں۔

غلام مرتضی نے دعویٰ کیا کہ یہ چاروں بے گناہ ہیں اور اس معاملے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہییں۔

لواحقین نے عدالتی اور قانونی کاروائی کے لیے یاسین علی لغاری ایڈووکیٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یاسین علی لغاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انھوں نے اعلیٰ حکام کو واقعے کی تفتیش کے لیے درخواستیں ارسال کر دی ہیں اور جلد ہی اس معاملے عدالتی کارروائی بھی شروع کی جائے گی۔

غلام مرتضی نے بتایا کہ ’یہ چاروں آپس میں کزن اور ایک ہی علاقے کے رہنے والے ہیں۔ 25 سالہ نوید شادی شدہہیں جبکہ مبشر کی عمر 15 سال تھی اور یہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ اسی طرح جمشید اور سلیم کی عمریں بھی 20 سال کے لگ بھگ تھیں اور یہ دونوں آپس میں چچا زاد بھائی ہیں۔‘

غلام مرتضی کا کہنا تھا جمشید نے گریجویشن کی تھی اور وہ کمپیوٹر کے کام سے منسلک تھے جبکہ باقی تینوں رشتہ دار زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے اور محنت مزدوری کرتے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ناممکن ہے کہ یہ چاروں اس طرح کی کوئی واردات کریں۔ ان چاروں کے خاندانوں میں بھی کبھی کسی فرد پر ایف آئی آر نہیں ہوئی جبکہ ان چاروں کا بھی ماضی کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں۔ یہ چاروں ہمارے سامنے پلے بڑے ہیں، ہم نے انھیں کبھی کسی غلط کام میں ملوث نہیں دیکھا۔‘

محمد جمال ہلاک ہونے والے دو ملزمان کے چچا ہیں جنھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ افسران کو ایک درخواست دی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر میں تضاد موجود ہے اور اس میں کوئی خاص وضاحت بھی موجود نہیں۔

اُن کا درخواست میں الزام ہے کہ چونکہ اس واقعے میں مغوی کے بیٹے معروف یوٹیوبر ہیں، اسی لیے پولیس نے سوشل میڈیا کے دباؤ کے تحت ان کے دو بھتیجوں کو اور دو دیگر رشتہ داروں کو رات کی تاریکی میں فرضی مقابلہ بتا کر ہلاک کیا۔

محمد جمال نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ اس کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کروا کر واقعہ کے مرتکب پولیس افسران کو سزا دی جائے۔

تاہم ڈسڑکٹ پولیس آفسر غصنفر شاہ نے لواحقین کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں افراد انتہائی خطرناک ملزمان تھے اور پولیس کے پاس اس واقعے سے متعلق تمام تر ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کیس میں تفتیش تاحال جاری ہے کیونکہ چند ملزمان مفرور ہیں تاہم اگر لواحقین کو شبہ ہے تو اُن کے کہنے پر تفتیش ہو سکتی ہے۔

سمندری میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے محمد آصف کا ٹی ایل پی اور فوج سے کیا تعلق تھا؟پاکستان میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں مارے کیوں جاتے ہیں؟کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کا معمہ: برقعہ پوش ’ڈاکو‘ اور بچوں کو ٹیوشن دینے والی ’سہولت کار‘’بعض اوقات انکاؤنٹر لازمی ہو جاتے ہیں۔۔۔‘: سسٹم کی وہ خامیاں جو پاکستان میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کی وجہ بنتی ہیںڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل کی عدالتی تحقیقات کروانے کی سفارشپنجاب میں پولیس مقابلے: ’میرے شوہر کی کمائی ڈیڑھ لاکھ تھی، اسے ڈکیتی کا ملزم قرار دے کر مار دیا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More