Getty Images
پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کھیلی جانے والی سہ فریقی سیریز کے میچ میں یو اے ای کی نوآموز ٹیم کو 31 رنز سے شکست دے دی ہے۔
شارجہ میں کھیلے جانے والے میچ کی خاص بات حسن نواز اور صائم ایوب کی نصف سینچریاں رہیں، تاہم محمد حارث کی مایوسی اور بلا توڑنے سمیت امارات کے لوئر مڈل آرڈر بلے باز آصف خان کی دھواں دار اننگز نے شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔
پہلے بات کرتے ہیں میچ کی جس میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو صائم ایوب اور حسن نواز کی نصف سینچریوں کی بدولت پاکستان نے امارات کو 208 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا۔
صائم ایوب نے 69 جبکہ حسن نواز نے 59 رنز بنائے۔ صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا اور فخر زمان خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ اننگز کے اختتام پر حسن علی اور فہیم اشرف نے مومینٹم فراہم کیا جس نے پاکستان کا مجموعہ 207 رنز تک پہنچا دیا۔
جواب میں متحدہ عرب امارات کی ٹیم 176 رنز بنا سکی۔
سوشل میڈیا پر جہاں گرین شرٹس کی کامیابی پر بات ہو رہی ہے تو وہیں محمد حارث کے جلد آوٹ ہونے پر بیٹ توڑنے اور اماراتی بلے باز آصف خان کی شاندار کارکردگی کے بھی چرچے ہیں۔
محمد حارث کی مایوسی
پاکستان کی جانب سے ماضی میں اوپننگ کرنے والے وکٹ کیپر بلے باز محمد حارث میچ میں دو گیندوں پر صرف ایک رنز بنا سکے۔
وہ جنید صدیقی کی گیند پر محمد جواد الدین کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔
پویلین لوٹتے ہوئے محمد حارث نے زور سے اپنا بیٹ زمین پر مارا جس کی وجہ سے یہ ٹوٹ گیا۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا کہنا ہے کہ محمد حارث کا بیٹنگ آرڈر تبدیل ہونے کی وجہ سے وہ مایوس ہیں۔ جبکہ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ محمد حارث اپنی ناقص کارکردگی کا غصہ اپنے بیٹ پر اُتار رہے ہیں۔
حسن عباس نامی صارف لکھتے ہیں کہ محمد حارث کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
معاذ نامی صارف نے محمد حارث کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ’بابر اعظم خود اوپننگ کرنا چاہتے تھے۔ لہذِا اُنھوں نے محمد حارث کو لوئر آرڈر میں بیٹنگ پر مجبور کیا جس کی وجہ سے اُن کی کارکردگی خراب ہو رہی ہے۔‘
پاکستان انڈیا کرکٹ کے یادگار لمحات: جب گنگولی کباب کھانے لاہور کی فوڈ سٹریٹ پہنچےʹلوگ کہتے ہیں ہروا دیا کوئی یہ نہیں کہتا میچ آخری اوور تک میں ہی لایا تھاʹساجد خان: فوجی کا بیٹا جو ’ہر بار پرفارم کرنے پر ٹیم سے باہر ہو جاتا ہے‘پاکستان کے75 برس: جب انڈین کرکٹ کپتان نے طنز کیا کہ ’پاکستانی ٹیم تو سکول کی ٹیم ہے‘
محمد حارث افغانستان کے خلاف میچ میں بھی صرف 15 رنز بنا سکے تھے۔
سپورٹس جرنلسٹ سہیل عمران نے لکھا کہ اس اقدام پر محمد حارث کو جلد پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حسن عباس نامی صارف نے لکھا کہ ’محمد حارث دو گیندوں پر ایک رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ یہ وہ کھلاڑی ہے جو بابر اعظم کو مشورے دے رہا تھا۔‘
واضح رہے کہ ایک انٹرویو کے دوران محمد حارث سے پوچھا گیا تھا کہ بابر اعظم کس طرح پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں جگہ بنا سکتے ہیں تو اس کے جواب میں محمد حارث کا کہنا تھا کہ ’اُنھیں اپنا سٹرائیک ریٹ بہتر کرنا ہو گا۔‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر عاقب جاوید نے بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی سکواڈ سے ڈراپ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ایسے بلے بازوں کو ترجیح دی گئی ہے جو زیادہ اچھے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کرتے ہیں۔‘
لاہوری بوائے آصف خان کی جارحانہ اننگز
متحدہ عرب امارات نے ہدف کے تعاقب میں مزاحمت دکھائی لیکن مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنا سکی۔
اننگز کی خاص بات امارات کے لوئر آرڈر بلے باز آصف خان کی جارحانہ اننگز تھی۔ اُنھوں نے صرف 35 گیندوں پر چھ چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 77 رنز بنائے۔
35 سالہ آصف خان پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے اور امارات میں پلے بڑھے اور وہیں سے اپنی کرکٹ کا آغاز کیا۔
Getty Imagesلاہور سے تعلق رکھنے والے آصف خان امارات کی جانب سے 38 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں
آصف خان رائٹ آرم آف بریک بولر بھی ہیں۔
خیال رہے امارات کی ٹیم میں شامل کئی کھلاڑیوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔
آصف خان پاکستان کی انڈر-19 ٹیم کا بھی حصہ رہ چکے ہیں جبکہ وہ لاہور ایگلز اور لاہور لائنز کی جانب سے بھی کھیل چکے ہیں۔
آصف خان، یو اے ای کی جانب سے اب تک 38 ون ڈے اور 50 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔
پشاور میں بابر اعظم سے ملنے کے لیے فینز گراؤنڈ میں داخل: ’ٹیم میں نہیں مگر دل میں تو ہیں‘ساجد خان: فوجی کا بیٹا جو ’ہر بار پرفارم کرنے پر ٹیم سے باہر ہو جاتا ہے‘ایشیا کپ کے لیے پاکستانی سکواڈ کا اعلان: ’بابر اور رضوان کو ہمیشہ کے لیے ڈراپ نہیں کیا گیا‘مسلمانوں کی سرپرستی سے چمکنے والا کرکٹ سٹار ’لالا امرناتھ‘: ’وہ لڑکا لاہور کی سڑکوں سے اٹھا اور شہزادوں کے ساتھ چلنے لگا‘جب افغانستان کو ایشیا کی ’دوسری بہترین ٹیم‘ قرار دیے جانے پر پاکستانی کپتان مسکرا دیےانڈین کرکٹ ٹیم اپنی جرسی کے سپانسر اور ’358 کروڑ کی ڈیل‘ سے کیوں محروم ہو گئی؟