وزارت داخلہ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ کر تے ہوئے اسے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مزید کارروائی کا اختیار دے دیا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق اب سائبر کرائمز بھی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔ جعلی یا غلط معلومات پھیلانے اور غلط معلومات کے ذریعے سوشل میڈیا سے پیسہ کمانے والے بھی زد میں آئیں گے۔
این سی سی آئی اے کو سائبر دہشت گردی، الیکٹرانک فراڈ، چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن گرومنگ جیسے جرائم کی تحقیقات کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال، سم کارڈز کے غیر قانونی اجراء اور سائبر لالچ کے ذریعے بچوں کے استحصال کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا سکے گی۔
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی بچوں کے جنسی استحصال اور سائبر لالچ کی تحقیقات بھی کرے گی اور اغوا، اسمگلنگ یا بچوں کی ٹریفکنگ میں انفارمیشن سسٹم کے استعمال پر بھی سزا دے گی۔
ترمیمی فیصلے کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز کی روک تھام اور مؤثر قانونی کارروائی ہے۔