Getty Images
دریائے راوی میں جمعرات کے روز پانی کا بہاؤ تقریباً دو لاکھکیوسک تھا۔ یہاں لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کہیں راوی کا پل تو نہیں گر جائے گا۔
یہاں بہت پرانے اور انتہائی تنگ پل پر سے ابھی بھی ٹریفک رواں دواں ہے۔ چھوٹی گاڑیاں، موٹر سائیکل اور رکشے چل رہے ہیں۔ اس پر کھڑے ہو کر لوگ راوی کے دریا کے پانی کا نظارہ کر رہے ہیں۔
سنہ 1988 کے بعد سے راوی میں پہلی بار اتنا پانی ہے جو نئی نسل کے لیے انوکھی بات ہے۔ اگرچہ پولیس انھیں یہاں سے دور ہٹا دیتی ہے مگر وہ پھر بھی کہیں نہ کہیں سے پانی کے قریب آ جاتے ہیں۔
یہاں ایک نیا پل بھی ہے اور وہاں بھی لوگوں کا رش ہے اور ٹرین کا پل بھی ہے جہاں سے راوی کے اوپر سے ٹرین گزرتی ہے۔
دریا کی جگہ پر بنے متعدد گھروں میںپانی بھر گیا ہے۔
BBC
شاہدرہ اور دریا کے بالکل ساتھ گھر بنے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ گھر دریا کے اوپر بنے ہوئے ہیں اور اب پانی اپنی جگہ لے رہا ہے۔
خواتین باڑے میں اور اس طرح کی جگہوں پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔
جب ہم کشتی پر سوار ہو کر ایک پرانے سیاحتی مقام کامران کی بارہ دری پر پہنچے دیکھا تو معمول کے مطابق وہاں زندگی چل رہی تھی۔ لوگ موٹر سائیکلوں پر آ جا رہے ہیں۔ دوسرے علاقوں کے لوگ بھی یہاں دریا دیکھنے آ رہے ہیں۔ کچھ گھروں کے اندر پانی گھسا ہوا تھا، کچھ کے قریب سے گزر رہا تھا۔ کچھ گھروں میں پانی اس حد تک اندر آ گیا کہ لوگ اپنا سامان وغیرہ چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ بہت پرانا علاقہ ہے۔ وہاں گھر تقریباً دریا پر ہی تعمیر ہوئے ہیں مگر لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ ان کے پاس سرکاری دستاویزات ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ گھر ان کی ملکیت ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائیٹیز یہاں پر بھی ہیں۔
BBC
شاید لوگوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ پانی ان کے گھروں تک آ جائے گا۔
اس پانی سے لوگوں کا نقصان تو رہا ہے۔ دیواریں بھی گری ہیں اور سامان بھی بہہ گیا مگر پھر بڑی تعداد یہاں ایسی بھی ہے جو کہیں اور منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ وہ حکومتی اعلانات کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔
پنجاب انکروچمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے اہلکار بھی لوگوں کو یہاں سے ہٹاتے ہیں مگر ان کی کوششیں بھی بے سود ہی نظر آئیں۔
شاہدہ کے مقام پر بھی پانی بہت اوپر تک آیا ہوا تھا۔
ریسکیو اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ رات کو پانی زیادہ آیا اور دن کو دریاکنارے تک آ گیا۔ یہاں راوی میں پانی تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا۔
مال مویشی لیے سڑکوں پر بیٹھے اور چھتوں سے مدد کے لیے پکارتے لوگ: بی بی سی نے سیالکوٹ، نارووال اور کرتارپور میں کیا دیکھا؟ ’پانی چاروں طرف سے گھیر چکا ہے مگر اپنے گھروں کو کیسے چھوڑیں‘: پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی کہانیاں ’آپ زمین پر نہیں، کسی کے گھر پر کھڑے ہیں‘: بونیر کا وہ گاؤں جہاں ’ہر پتھر کے نیچے کسی کا مکان دبا ہے‘’سکینہ کے خاندان میں کوئی مرد نہیں بچا، ایک نسل دفن ہو گئی‘: کشمیر اور خیبر پختونخوا میں سیلاب سے کئی گھر اجڑ گئےGetty Imagesدریائے راوی
یہاں ریسکیو، پولیس اور میڈیا کی موجودگی نمایاں ہے۔ ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز کھڑی ہیں۔ رپورٹرز نئے شاہدرہ پل کے ساتھ کھڑے ہو کر کوریج کر رہے تھے۔
حکومتی عہدیدار بھی ادھر کا رخ کرتے نظر آئے اور فوٹو سیشن بھی ہوئے۔
دریائے راوی میں پانی دیکھ کر اب لاہور کے عوام فکرمند ہیں۔ اس دریا میں اتنا پانی جیسے ان کے لیے بالکل کوئی نہیں چیز ہو۔ 40 سال تک کی عمر والوں نے تو شاید زندگی بھر راوی میں اتنا پانی نہیں دیکھا ہو۔ اب عوام کی بڑی تعداد یہاں آ کر تصاویر، سیلفیاں اور ویڈیوز بنا رہی ہے۔ دن بھر پولیس اور عوام کے درمیان آنکھ مچولی چلتی رہی۔
عوام میں حیرت، فکر اور پریشانی کے ملے جلے جذبات دیکھنے مل رہے ہیں۔ راوی کے دریا کو پانی نہ ہونے کے طعنے ملتے تھے مگر اب حالیہ بارشوں سے یہاں کی صورتحال یکسر مخلتف ہے۔ راوی میں سیلابی پانی نے تو جیسے نیندیں اڑا دی ہیں۔
دریائے راوی کے رستے میں بنی ڈیڑھ دو سو گھروں پر مشتمل آبادی کامران کی بارہ دری میں بی بی سی نے رہائشیوں سے بات کی اور ان سے اس سیلاب کے باوجود گھر نہ چھوڑنے کی وجوہات معلوم کیں۔
BBC
ارشد اقبال یہاں کے مکینوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے فوج میں دوران ملازمت سنہ 1988 کے سیلاب میں یہاں ریسکیو کارروائیوں میں بھی حصہ لیا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے یہاں تعمیر پل کے اوپر سے پانی بھی گزرتے دیکھا اور یہاں ریلوے لائن والے پل کے اوپر سے بھی پانی گزر رہا تھا۔
جب بی بی سی نے ان سے جاننے کی کوشش کی کہ وہ ابھی تک اپنا گھر چھوڑ کر کہیں محفوط مقام تک کیوں نہیں گئے تو ان کا جواب تھا کہ ’پانی بہت قریب آ جائے گا تو ہم بھی شفٹ ہو جائیں گے۔ سامان شفٹ نہیں ہو سکتا اور نہ اب ہم سب چیزیں یہاں سے اٹھا کر لے جا سکتے ہیں۔‘
ارشد اقبال نے گذشتہ رات کا احوال سناتے ہوئے کہا کہ ’پانی آیا تو خطرہ محسوس ہوا، مسجد میں اعلان بھی ہوا، کچھ لوگ سامان لے بھی گئے ہیں مگر ابھی بھی گھر بھرے ہوئے ہیں۔ ہم نے بھی اپنا کچھ سامان اور بچے یہاں سے منتقل کر دیے ہیں۔‘
ارشد اقبال یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہاں زیادہ تر گھر دریائے راوی کی جگہ پر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ لوگوں نے گھر بنانے سے قبل جگہیں اونچی کر لی ہیں مگر پانی سے پھر بھی نہ بچ سکے۔
BBCارشد اقبال کہتے ہیں کہ جب پانی بہت قریب آ جائے گا تو وہ تب شفٹ ہوں گے
ارشد اقبال کے مطابق ’لوگوں نے بچے رشتہ داروں کے پاس بھیج دیے ہیں مگر وہ اب گھروں اور سامان کی حفاظت کے لیے یہ جگہ چھوڑ کر نہیں جا رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’یہاں گذشتہ رات پولیس بہت زیادہ تھی۔ حکومت بار بار اعلان کر رہی ہے کہ یہ علاقہ خالی کر دو، پانی بہت قریب آ گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’رات کو نیند نہیں آتی، یہاں بہت زیادہ خطرہ ہے۔‘
راوی کے کنارے آباد گلزارہ بی بی کا خاندان بھی یہاں سے کہیں اور منتقل نہ ہونے والوں میں سے ایک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’رات کو ہمارا گھر بہہ گیا اور دیواریں بھی گر گئی ہیں۔ میں اپنے خاوند اور آٹھ بچوں کے ساتھ یہاں کرائے پر رہتی ہوں۔‘
Getty Imagesگلزارہ بی بی اپنے خاوند اور آٹھ بچوں کے ساتھ یہاں کرائے پر رہتی ہیں
انھوں نے کہا کہ بدھ کو حکومتی عہدیداروں نے آ کر خطرات کے بارے میں بتایا جس سے افراتفری پھیل گئی۔ ان کے مطابق ہمارا زیادہ سامان بہہ گیا۔
انھوں نے شکایت کی کہ ’ہمیں وقت پر اطلاع نہیں مل سکی۔‘
نقصان سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’حکومتی اہلکار ویڈیوز بنا کر لے گئے باقی کچھ نہیں بتایا۔ پانی گھر کے اندر داخل ہوا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ کیا نقصان ہوا، جانوروں کا کیا نقصان ہوا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’راوی میں پانی نہیں تھا تو پہلے کبھی آٹھ برس میں ایک بار بھی ڈر نہیں لگا۔‘
BBCزرینہ بی بی کہتی ہیں کہ خوف تو ہے مگر اب اتنی آبادی کدھر جائے گی
زرینہ بی بی اپنے خاوند، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ یہاں دو دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی رات بہت خوف میں گزری مگر پھر بھی کوئی گھر چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’صاف ظاہر ہے انھیں خوف تو ہے مگر اب اتنی آبادی کدھر جائے گی، یہ لوگ سڑکوں پر تو نہیں رہ سکتے۔‘
زرینہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تو یہاں کرائے پر رہ رہی ہیں اور اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو وہ یہاں سے خاندان سمیت چلی جائیں گی مگر جن کے گھر ہیں وہ ان سب کو چھوڑ کر کدھر جائیں گے۔‘
وہ کہتی ہی کہ ’متعدد حکومتی اہلکاروں نے یہاں آ کر ہمیں گھروں کو چھوڑنے کا کہا مگر کوئی یہ گھر چھوڑ کر نہیں جا رہا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جو موت آنی ہے وہ آ کر ہی رہے گی۔‘
مال مویشی لیے سڑکوں پر بیٹھے اور چھتوں سے مدد کے لیے پکارتے لوگ: بی بی سی نے سیالکوٹ، نارووال اور کرتارپور میں کیا دیکھا؟ ’پانی چاروں طرف سے گھیر چکا ہے مگر اپنے گھروں کو کیسے چھوڑیں‘: پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی کہانیاں پنجاب میں سیلابی صورت حال: کون سے علاقے زیادہ متاثر، اونچے یا درمیانے درجے کا سیلاب کیا ہوتا ہے؟خیبر پختونخوا میں سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کی قبریں اور ذہنی دباؤ: ’سیاہ بادل خوف کی علامت بن گئے ہیں‘’سکینہ کے خاندان میں کوئی مرد نہیں بچا، ایک نسل دفن ہو گئی‘: کشمیر اور خیبر پختونخوا میں سیلاب سے کئی گھر اجڑ گئے’آپ زمین پر نہیں، کسی کے گھر پر کھڑے ہیں‘: بونیر کا وہ گاؤں جہاں ’ہر پتھر کے نیچے کسی کا مکان دبا ہے‘