‘ہمیں مہاجر کی نظر سے نہیں دیکھا‘، چترالیوں اور افغانوں کے مابین مضبوط تعلق کی وجہ کیا ہے؟

اردو نیوز  |  Aug 29, 2025

حالیہ کچھ دنوں میں خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے دو مرتبہ ایسی آوازیں بلند ہوئیں جن میں مقامی سول سائٹی اور سیاستدانوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہاں رہنے والے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا فیصلہ موخر کیا جائے اور انہیں کم از کم ایک سال کی مزید مہلت دی جائے تاکہ وہ اپنے معاملات اور لین دین کو نمٹا سکیں۔

یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کیں کہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی باقاعدہ وطن واپسی اور ملک بدری کا عمل یکم ستمبر سے شروع کیا جائے گا۔

پاکستان میں کسی علاقے سے پہلی مرتبہ ایسا سننے میں آ رہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور ان کے حقوق کے لیے وہاں کے مقامی افراد آواز اٹھا رہے ہیں۔

پیر کو لوئر چترال میں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام ف، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تاجر یونین اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ایک مشترکہ اجلاس میں متقفہ قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہائیوں سے چترال میں پُرامن زندگی گزارنے والے افغان پناہ گزینوں کو تعلیم کا سال مکمل ہونے اور کاروباری معاملات سمیٹنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے،

شرکا نے کانفرنس کو بتایا کہ جب 1979 میں جب سابقہ سوویت یونین نے افغانستان میں حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا تو چترال ان علاقوں میں سے ایک تھا جہاں افغان پناہ گزینوں نے پناہ لی۔ اس وقت سے دونوں برادریوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں، جن میں باہمی اعتماد اور انحصار نے فروغ پایا۔

اس قرارداد میں یہ مطالبہ بھی ہوا کہ چترال میں عرصہ درازسے مقیم افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دوراہ شاہ سلیم اور ارندو پھاٹک سے جانے کا راستہ دیا جائے۔ یہ راستہ تقریباً آٹھ سال سے بند ہے اور اسے لوگ افغانستان اور پاکستان آنے جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

پی او آر کارڈ رکھنے والے بعض افغان خاندان افغانستان پہنچ گئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)’مزید مہلت مانگنے کے لیے افغان پناہ گزین ہمارے پاس نہیں آئے بلکہ ہم نے خود ان کے لیے آواز اٹھائی‘

چترال میں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر حاجی عیدالحسین نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہمارے ضلعے میں رہنے والے افغان پناہ گزین کبھی دردِ سر نہیں بنے، انتہائی پرامن اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ ان کو کچھ عرصے کے لیے یہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔

’چترال ایک غریب ضلع تھا لیکن جب یہ لوگ جب یہاں آئے تو ان کے آنے سے معیشت پر بہت اچھا اثر پڑا۔ انہوں نے یہاں کروڑوں اور اربوں روپے کاروبار میں لگائے اور ان کے خلاف چترال میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں۔ یہ پُرامن لوگ ہیں۔ اسی لیے ہم نے مطالبہ کیا کہ انہیں کم از کم ایک سال کی مہلت دی جائے۔ مہلت مانگنے کے لیے یہ لوگ ہمارے پاس نہیں آئے بلکہ ہم نے خود ان کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کے جانے سے ہماری معیشت متاثر ہو جائے گی۔ پہلے ہم ایک ایک کلو گوشت کے محتاج ہوتے تھے۔ یہ لوگ دور دور جا کر جانور لاتے ہیں اور بازار میں فروخت کرتے ہیں۔ تندور کا زیادہ تر کام بھی یہی لوگ انجام دیتے ہیں اور مناسب ریٹ پر دیتے ہیں۔ ہمارے مویشی بھی یہی لوگ سنبھالتے ہیں۔‘

سیاسی جماعتوں نے قرارداد چترال کے ڈپٹی کمشنر کے حوالے کر دی تھی۔ اردو نیوز نے اس سلسلے میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔ البتہ حاجی عیدالدین کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کی درخواست متعلقہ حکام تک ضرور پہنچائیں گے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق چترال میں اب  پی او آر کارڈ رکھنے والے چار ہزار 700 افغان مقیم ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق 1979 میں سابقہ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد ہزاروں افغان شہریوں نے ضلع چترال میں پناہ لی۔ ان میں سے بعض کا تعلق پنجشیر اور بدخشان سے ہے اور ان کی مشترکہ زبان فارسی (دری) ہے۔ دیگر افراد ننگرہار، قندوز اور کنڑ کے پشتو بولنے والے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

گزشتہ برس بھی غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو واپس بھیجا گیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)’ہمیں چترال میں یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ کسی دوسرے ملک سے آئے ہیں‘

31 برس کی پریسہ بی بی جن کی پیدائش چترال میں ہوئی، ان کے والدین جنگ کے آغاز کے بعد پنجشیر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔

پریسہ بی بی اس وقت چترال میں افغان اور مقامی چترالی لڑکیوں کو سلائی کڑھائی کا ہنر سکھاتی ہیں۔ ان کے ممکنہ انخلا کی خبر پر نہ صرف وہ خود اداس ہیں بلکہ چترال کے شہری بھی افسردہ ہیں۔

’ہم چترالیوں سے خوش ہیں، اور وہ ہم سے۔ انہوں نے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم افغان ہیں یا کسی دوسرے ملک سے ہیں۔ ہمیں تو یہاں ایسا لگتا ہے جیسے جنت میں رہ رہے ہوں۔

ان کے آبائی علاقے پنجشیر میں ان کا سابقہ گھر اب ویسا نہیں رہا اور ان کے خاندان کو یہ سوچ پریشان کر رہی ہے کہ اگر واپسی ہوئی تو وہ کس شہر میں جائیں گے؟ ان کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

پریسہ بی بی طلاق یافتہ ہیں اور اپنا خرچ بھی خود اٹھاتی ہیں۔ لیکن موجودہ حالات نے انہیں بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پریشان تو ہم سب ہیں۔ اگر ہمیں وہاں واپس بھیج دیا گیا، تو ہم کیا کریں گے؟ وہاں خواتین کے لیے نہ کام ہے، نہ آزادی۔ حکومت بھی اچھی نہیں ہے۔ میرے بھائی خود کہتے ہیں کہ اگر تم وہاں گئیں تو کوئی مسئلہ نہ کھڑا کرنا۔ میں یہاں کام کرتی ہوں، باہر نکلتی ہوں، خود کفیل ہوں لیکن وہاں ایسا ممکن نہیں۔‘

چترال ہندو کش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)’مہاجرین نے جو وقت چترال میں گزارا ہے وہ شاید پاکستان میں کسی اور جگہ گزارا ہوگا‘

چترال کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پرامن، مہمان نواز اور سادہ مزاج ہیں۔ افغان پناہ گزین محمد علی ان کے بارے میں ایسے ہی خیال رکھتے ہیں۔

33 برس کے محمد علی سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں اور سماجی خدمت کے کاموں میں بھی سرگرم ہیں۔ ان کے والدین 1979 میں پہلے پشاور اور پھر 2000 میں چترال آئے۔ ان کی پیدائش بھی پاکستان کی ہے۔

’یہاں کے لوگ ہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں، ہم نے ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا ہے۔ یہ خود امن پسند لوگ ہیں۔ افغانوں نے بھی یہاں اچھی زندگی گزاری اور جرائم میں بھی ملوث نہیں رہے۔ انہوں نے ہمیں کبھی مہاجر سمجھ کر کمتر نہیں جانا۔ افغانوں نے بھی یہاں ایک باعزت زندگی گزاری اور جرائم سے دور رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان نے 30، 35 سال میں جو کاروبار کھڑا کیا ہے وہ وہاں پر اب شروع کرنا مشکل ہوگا۔

’ہم نے یہاں اچھا وقت گزرا اس لیے یہاں کی سیاسی جماعتوں نے ہمارے حق میں کانفرنس بلائی۔ ’یہاں کے لوگوں نے ہمیں کبھی بھی مہاجر کی نظر سے نہیں دیکھا۔ مہاجرین نے جو وقت چترال میں گزارا ہے وہ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں کسی اور جگہ گزارا ہوگا۔‘

چترال میں افغانوں کو کنڑ اور بدخشاں کے بارڈر قریب ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)لیکن 31 اگست کے قریب آتے ہی محمد علی اور ان کی اہلیہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ان کی پریشانی کی ایک بڑی وجہ ان کی روایات سے ہٹ کر پسند کی شادی ہے۔ ’میں اپنی بیوی کو چھپ کر پاکستان لایا تھا۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی کو قبول نہیں کیا جاتا، خاص طور پر پشتونوں میں۔ میرے سسرال والے میرے والد کو دھمکیاں دے چکے ہیں کہ لڑکے کو تم قتل کرو گے اور لڑکی کو ہم۔ اس لیے میں نے بین الاقوامی اداروں سے درخواست کی ہے کہ بیرون ملک جانے کے لیے ہمارا کیس سنا جائے۔‘

نجیب افغان دورش بازار میں گوشت، چکن اور مچھلی کا کاروبار کرتے ہیں۔ انہیں اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور کاروبار میں لگائے گئے سرمائے  باعث پریشانی کا سامنا ہے۔

ان کے والد تقریباً 50 برس قبل چترال آئے تھے۔ ان کی بیٹیاں مقامی سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور نجیب کو یہ خدشہ ہے کہ واپسی کی صورت میں ان کی بچیاں تعلیم سے محروم ہو جائیں گی۔

’چترال سے بہت محبت ہے یہاں تو احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم کسی اور ملک میں رہ رے ہیں۔ یہاں ایسی زندگی گزاری ہے کہ لوگوں کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہم نے فائدہ پہنچایا ہے۔ اپنا روزگار کیا ہے اور شام کو گھر واپس گئے ہیں۔ ہم نے قانون ہمیشہ قانون کا احترام کیا۔ پاکستان کی حکومت سے درخواست ہے کہ ہمیں کچھ وقت دیا جائے۔ 50 سال گزرنے کے بعد تو شہریت ملنی چاہیے تھی۔۔۔ ہم تو اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے بھی فکر مند ہیں، وہ یہاں کی عادی ہو گئی ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More