ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شراب پینے والی نر مکّھیاں مادہ مکّھیوں کے لیے زیادہ پرکشش ہو جاتی ہیں۔
اگر نر مکّھیوں کے کھانے میں الکوحل شامل کی جائے تو وہ زیادہ کیمیکل خارج کرتی ہیں جو مادہ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس سے نر مکّھیوں کی تولیدی صحت میں بھی بہتری آتی ہے اور افزائشِ نسل کے لیے اُن کے درمیان تعلق قائم کرنے کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے۔
مکّھیاں، یا ڈروسوفیلا میلانگاسٹر، اکثر ہمارے ضائع شدہ کھانے کے ڈبوں کے ارد گرد منڈلاتی رہتی ہیں کیونکہ وہ زیادہ پکے ہوئے پھلوں کو کھاتی ہیں، جو وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ شراب پیدا کرتی ہیں۔
تحقیق میں کیا انکشاف ہواGetty Imagesمکھیاں اکثر زیادہ پکا ہوا کھانا کھاتی ہیں۔
سائنسدان اس بات کا مطالعہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مادہ مکّھیاں شراب کی طرف کیوں راغب ہوتی ہیں اور یہ ان پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس سے قبل ہونے والی تحقیق میں مادہ مکّھیوں کی کشش کے مختلف نظریات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
یہ بھی دیکھا گیا کہ مکّھیاں حوصلہ افزا صورت حال کی تلاش میں تھیں یا دیگر مکھیوں کی جانب سے ٹھکرا دی جانے والی نر مکّھیوں میں بھی جذباتی حالت کی تلاش کرتی ہیں یا جنسی تعلقات کے مواقع تلاش کرتی ہیں۔
اگر دنیا سے شہد کی مکھیاں ختم ہو گئیں تو انسانوں کو کیا خطرہ ہو گا؟شہد کی مکھیاں تو بڑی چالاک نکلیں، بہترین شہد خود پی جاتی ہیںشہد کی مکھیوں کی ’ملکہ ترنم‘شہد کی مکھیاں قاتل بِھڑوں سے بچنے کے لیے کیا انوکھا کام کرتی ہیں؟
مطالعے کے مصنف بل ہینسن میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ میں ارتقائی نیوروتھولوجی کے شعبے کے سربراہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تحقیق سے شہد کی مکّھیوں کے رویے کے بارے میں انسان نما نقطہ نظر سامنے آیا ہے جبکہ اس تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ شراب پینے سے شہد کی مکّھیوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ شہد کی مکّھیاں شراب پیتی ہیں کیونکہ وہ اداس ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ شہد کی مکّھیاں جن پھلوں کا استعمال کرتی ہیں ان میں کاربوہائیڈریٹس اور خمیر کے ساتھ ساتھ الکحل کی طرف بھی غیر معمولی کشش پائی جاتی ہے۔
الکوحل مکّھیوں میں تولید کو بڑھاتا ہےGetty Imagesماہرین نے مکھیوں کی سمجھ اور ان کے جسمانی رویے کا مطالعہ کیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ الکوحل، خاص طور پر میتھانول، مردانہ تولید میں اضافہ اور کیمیائی جنسی سگنلز، جسے فیرومونز کہتے ہیں، کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے جو انھیں مادہ مکّھیوں کے لیے زیادہ پرکشش بناتا ہے۔
اسی نوع کے دوسرے جانور کے رویے کو متاثر کرنے کے لیے فیرومونز کو ہوا میں چھوڑا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نر مادہ کی نسبت شراب کی جانب بہت متوجہ ہوتے دکھائی دیے، خاص طور پر وہ نر جنھوں نے کبھی جنسی تعلق قائم نہیں کیا تھا۔
نئی تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شراب سونگھنے پر مکھی کے ردعمل کو اس کے دماغ میں تین مختلف نیورل سرکٹس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
جبکہ دو غیر جانبدار نر مکّھیاں کم مقدار میں شراب کو راغب کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں، تیسری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ زیادہ مقدار میں شراب پینے سے زیادہ اثر پڑے گا۔
شراب ایک زہریلی چیز ہوتی ہے لہٰذا مکّھی کے دماغ کو اسے پینے کے خطرات اور فوائد کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے، اور یہ کشش کے سگنلز کا نفرت سے موازنہ کرکے ایسا کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف نیبراسکا سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے سربراہ ایان کیز کا کہنا ہے کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ مکھیوں کے پاس ایک ایسا میکانزم ہوتا ہے جو انھیں شراب کے نشے کے خطرات کے بارے میں بتاتا ہے اور شراب پینے کے فوائد کو بھی سمجھتا ہے۔‘
ان کی تحقیقات کے لیے، محققین نے جسمانی مطالعات کو بھی مدنظر رکھا۔ جیسے کہ مکّھی کے دماغ میں عمل کو دیکھنے کے لیے امیجنگ تکنیک، ماحولیاتی بدبو کا کیمیائی تجزیہ، اور طرز عمل کے مطالعے کیے گئے۔
شہد کی مکھیاں تو بڑی چالاک نکلیں، بہترین شہد خود پی جاتی ہیںشہد کی مکھیاں قاتل بِھڑوں سے بچنے کے لیے کیا انوکھا کام کرتی ہیں؟شہد کی مکھیوں کی ’ملکہ ترنم‘اگر دنیا سے شہد کی مکھیاں ختم ہو گئیں تو انسانوں کو کیا خطرہ ہو گا؟کیا چینی کے بجائے شہد کا استعمال صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے؟شہد کی مکھی کا زہر ’چھاتی کے سرطان کے چند خلیوں کو تلف کرتا ہے‘