سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری صاحبہ کے بیان پر افسوس ہوا، کیا آپ نے آئین پڑھا ہے، کیا آپ کو آئین پڑھنا آتا ہے؟۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ صدر منظوری دیں گے؟ بلاول بھٹو نے کہا کسی صورت کینال منصوبے کو بننے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 7 کروڑ لوگ اور ان کی معیشت کے مسئلے کو آپ سیاست کہہ رہی ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کوئی عقلمند انسان ایسا بیان نہیں دے سکتا، میڈم آپ آئین پڑھ کر بیان دیں، آپ کا کوئی وفاق سے مسئلہ ہے تو گھر پر حل کریں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز واضح پیغام دیا پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، بلاول بھٹو نے ملک کے مسائل، خوشحالی اور سلامتی کی بات کی ہے، انہوں نے تو کہا ہے کہ چاروں صوبوں کو مل کر چلنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ بلاول بھٹو کہہ چکے کہ شہباز حکومت کے ساتھ نہیں عوام کے ساتھ ہیں، پیپلز پارٹی نے ہر فورم پر چولستان کینال منصوبے کی مخالفت کی ہے، 18 اپریل کو تمام ایشوز پر حیدرآباد میں جلسہ کریں گے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کینالوں پر سیاست نہیں کر رہی، ہم اصولوں پر سودا نہیں کر رہے، آپ اس کو سیاست سمجھتے ہیں، یہ جینے مرنے کا مسئلہ ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو خطوط لکھنے والے ملک کو سری لنکا بنانا چاہتے تھے، جو ناکام ہوگئے، بلاول بھٹو کی تقریر میں کینال کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ کینال پر منظوری صدر زرداری کی زبانی کلامی نہیں دستاویزی ہے، اس معاملے پر سندھ میں کی جانے والی سیاست تکلیف دہ ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب پی ٹی آئی پر خوب گرجیں، پیپلزپارٹی کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا، بولیں کہ خیبر پختونخوا میں کرپشن کی عجب کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کی کرپشن کے پول کھول رہے ہیں، گنڈا پور کی تو کرسی خطرے میں ہے جس پر وہ عزت بچانے کے لیے وفاق پر چڑھائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے ہم ڈرنے والے نہیں۔
عظمیٰ بخاری نے بلاول بھٹو کی جانب سے کینال کے معاملے پر تقریر کے حوالے سے کہا کہ بھارت نے اپنا والاحصہ آباد کر دیا ہے، پنجاب کا پانی کس طرح تقسیم کرتے ہیں، سیلاب کے دنوں میں پانی ضائع ہوتا تو اسے مینج کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ رمضان سہولت بازار میں ایک ارب 11 کروڑ روپے کی عوام کو چیزوں پر بچت ہوئی، 3 ارب 57 کروڑ روپے کی رمضان بازاروں میں خریداری ہوئی، 28 ہزار لوگوں نے 3 کروڑ روپے کی فری ہوم ڈیلیوری کی آفر کے تحت رمضان بازار سے سامان منگوایا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ 13 نئے سہولت بازار اگست تک بنائیں گے اور پنجاب میں اوورچارجنگ کرنے پر ٹرانسپورٹرز کو 22 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، جب کہ 11 لاکھ روپے مسافروں کو واپس دلوائے گئے ہیں۔