پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور اس کے اثرات عوام تک پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔سنیچر کو اسلام آباد مین پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر ریکارڈ 36 ارب ڈالر کے نمبر تک پہنچ جائیں گے، ایکسپورٹ 13 ارب ڈالر تک جائیں گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ضروری اشیا کی دستیابی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اس پر بھی نظر ہے۔ بیلنس آف پیمنٹ کی صورتحال کو بھی برقرار رکھنا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام کو اب پائیدار استحکام میں بدلنا ہے اور اس ثمرات عوام تک پہنچانا ہیں۔’ہماری ذمہ داری ہے کہ مہنگائی میں کمی کے اثرات عوام تک پہنچیں۔ ضروری اشیا کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے ادارہ جاتی نظام لا رہے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’معیشت کی بہتری کی بات کرنے پر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کیا فرق آیا ہے، اسی لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے ثمرات کو عام لوگوں سے پہنچائیں۔‘وزیر خزانہ کا کہنا تھا ’کُل 51 ضروری اشیا ہیں جن میں سے 26 کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے۔ دس اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں میں مزید کم کیا جا سکے۔ ’تاجروں، سرمایہ کاروں اور صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔‘محمد اورنگزیب نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتنا بہت ضروری ہے اسی سے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور اب تک اس حوالے سے سروے کی رپورٹس مثبت ہیں۔۔’رواں سال عیدالفطر پر معاشی سرگرمی بڑھی ہے اور لوگوں نے گذشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ کی جس کا مطلب ہے کہ قوت خرید بڑھی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہماری اچھی کارکردگی کی وجہ سے ہوا۔ اب ہم چھ ماہ کے ریویو پیٹرن پر ہیں۔ ہم نے تمام اہداف حاصل کر لیے تھے۔‘وزیر خزنہ نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت پر مثبت اثرات پڑے، کوشش ہے کہ شرح سود میں مزید کمی کی جائے۔’ادارہ جاتی اصلاحات میں ایسی چیزیں ہوئیں جو اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوئیں۔ صوبائی اسمبلیوں سے زراعت کے شعبے پر جو ٹیکس لگایا گیا وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔‘محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ملک میں سیمنٹ اور آٹو موبائل کے شعبے میں ترقی ہوئی ہے۔ ’رواں سال معاشی گروتھ تین فیصد رہنے کا امکان ہے۔‘انہوں نے کہا کہ رواں سال نئے ٹیکس فائلر سے 105 ارب روپے حاصل کیے۔