Getty Images
انڈیا میں پولیس نے بینک ڈکیتی کی ایک واردات میں ملوث ایک ایسے گروہ کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جس نے لاکر کھول کر کروڑوں روپے مالیت کے سونے کے زیورات چوری کر لیے۔
پولیس کے مطابق اس واردات کی منصوبہ بندی میں دو ایسے بھائی ملوث تھے جنھوں نے بینک سے قرضہ نہ ملنے پر اپنے ساتھ دیگر لوگوں کو ملا کر پہلے بینک کی کھڑکی توڑی، پھر اوزاروں کی مدد سے لاکرز کو کھولا اور اس واردات کو سرانجام دیا۔
یہی نہیں بلکہ تمام نشان مٹانے کے لیے ملزمان نے جائے وقوعہ پر مرچوں کا پاؤڈر چھڑکا اور سی سی ٹی وی فوٹیج چھپانے کے لیے ویڈیو ریکارڈر بھی ساتھ لے گئے۔
تاہم یہ تمام نشان مٹانے کے باوجود اس واردات کے پانچ ماہ بعد پولیس نے نہ صرف ملزمان کا سراغ لگایا بلکہ لوٹے گئے سونے کے زیوارات کو بھی برآمد کر لیا۔
پولیس کے مطابق انڈین ریاست تمل ناڈو کے ضلع مدورئی کے سٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی برانچ سے لوٹا گیا 17 کلو سونا ایک کھیت میں کنویں کے اندر چھپایا گیا تھا۔
پولیس آئی جی روی کانت گوڑا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈکیتی کی اس واردات میں ملوث کُل چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ’یہ ان کا پہلا جرم ہے تاہم اس میں انھوں نے کوئی ثبوت چھوڑے بغیر زیورات لوٹے۔‘
پولیس نے بتایا کہ ’مرکزی ملزم 20 سال سے اپنے والد کے ساتھ ایک بیکری چلا رہا تھا اور گزشتہ سال بینک سے قرض کے لیے درخواست دی۔‘
پولیس کے مطابق ان کی درخواست مسترد کر دی گئی اور ملزم نے اس کے بعد اپنے رشتہ دار کے نام سے قرض کے لیے درخواست دی تاہم اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔
آئی جی روی کانت گوڑا کے مطابق اس کے بعد ہی ملزم نے ڈکیتی کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے انھوں نے چند ماہ مختلف ویب سائٹس کے ذریعے اس کی تربیت بھی حاصل کی۔
پولیس کی تفتیش میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ملزمان نے ڈکیتی میں استعمال ہونے والی اشیا جیسے ٹوپیاں، جرابیں، گیس سیلنڈر اور ہائیڈرولک کٹر قریب واقع جھیل میں پھینکے۔
چوری کی انوکھی واردات جس کے بعد راولپنڈی پولیس کباڑ خانوں پر چھاپے مار رہی ہےکوئٹہ سے قرآن کے 120 قدیم اور ہاتھ سے لکھے نسخوں کی چوری: ’چور اُس وقت آئے جب بجلی نہ ہونے کے سبب اندھیرا تھا‘13 ہزار ڈالر کے جوتوں کی چوری مگر ایک بھی جوتا چوروں کے کسی کام نہ آیاوہ ترقی یافتہ ملک جہاں ہر پانچ منٹ میں ایک گاڑی چوری ہوتی ہےبینک برانچ کی ٹوٹی کھڑکی اور مرچوں کا پاوڈر
اب جانیے کہ واردات والے دن بینک ملازمین نے کیا دیکھا اور پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟
28 اکتوبر 2024 کی صبح جب کرناٹک کے ضلع داونگیرے میں ملازمین نے بینک میں قدم رکھا تو وہ اندر کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔
ملازمین نے دیکھا کہ بینک کی کھڑکی ٹوٹی ہوئی تھی اور لاکرز سے سونے کے زیورات چوری ہو چکے تھے۔
ڈاکووں نے بینک کی لوہے کی کھڑکی توڑ ڈالی تھی جبکہ زیورات سے بھرے لاکرز کھولنے کے لیے گیس کٹر کا استعمال کیا تھا۔
بینک ملازمین نے یہ بھی دیکھا کہ ڈاکو بینک کا ڈی وی آر (ویڈیو ریکارڈر) باکس لے گئے تھے جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی جبکہ نشانات مٹانے کے لیے جگہ جگہ مرچوں کا پاؤڈر چھڑکا گیا تھا۔
اس واقعے کی فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس بینک پہنچی اور تحقیقات کا آغاز کیا۔
تفتیش کے دوران پولیس نے بینک کے آٹھ کلومیٹر سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور ڈکیتی کے وقت سیل فون ٹاورز پر ریکارڈ کیے گئے نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائیں۔
پولیس کو ابتدا میں اس معاملے میں ایک شخص پر شبہ ہوا اور جب اسے گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے مزید لوگوں کے نام بتائے۔
پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ ڈکیتی میں ملوث دو ملزمان بھائی ہیں۔
کروڑوں روپے مالیت کا سونا کنویں میں چھپایا گیا
ملزمان سے دوران تفتیش پولیس کے علم میں آیا کہ چوری کیے گئے زیورات کو کنویں میں چھپایا گیا۔ پولیس نے ملزم کی بہن کی ملکیت والی اس زرعی زمین پر ایک کنواں تلاش کیا۔
آئی جی روی کانت گوڑا نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ زیورات چھپانے کے لیے ملزمان نے اسے ایک ڈبے میں رکھا اور پتھر کے ساتھ باندھ کر بوری میں ڈال کر 35 فٹ گہرے کنویں میں دفن کر دیا۔
پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان بھائیوں نے چوری کے زیورات میں سے صرف کچھ کو بیچ کر وہ رقم ان لوگوں میں تقسیم کردی جنھوں نے ان کے ساتھ ڈکیتی میں حصہ لیا۔
اگر بینک کے لاکر سے ہی سامان چوری ہو جائے تو کیا کریں؟چوری کی انوکھی واردات جس کے بعد راولپنڈی پولیس کباڑ خانوں پر چھاپے مار رہی ہے13 ہزار ڈالر کے جوتوں کی چوری مگر ایک بھی جوتا چوروں کے کسی کام نہ آیاانڈوں کی قیمتوں میں 65 فیصد اضافہ: امریکہ میں چوری کی انوکھی واردات میں ایک لاکھ سے زائد انڈے غائبکوئٹہ سے قرآن کے 120 قدیم اور ہاتھ سے لکھے نسخوں کی چوری: ’چور اُس وقت آئے جب بجلی نہ ہونے کے سبب اندھیرا تھا‘وہ ترقی یافتہ ملک جہاں ہر پانچ منٹ میں ایک گاڑی چوری ہوتی ہے