پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس بار پارٹی کے سینیئر رہنما کُھل کر ایک دوسرے کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔ وزیراعلٰی علی امین گنڈا پور اور سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا میں لفظی جنگ اب سنگین الزامات تک پہنچ گئی ہے۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے دونوں سینیئر رہنماؤں میں بحث و تکرار واٹس ایپ گروپ تک محدود تھی مگر چند روز قبل ایک نیوز چینل پر بیٹھ کر وزیراعلٰی علی امین گنڈا پور نے اپنی ہی سابقہ صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے سابق وزیر خزانہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ صوبے کی مالی پوزیشن کو بہتربنانے کی بجائے مزید مقروض بنایا گیا۔
’پنشن فنڈز سے 36 ارب روپے کس لیے نکالے گئے اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ میں اپنی پارٹی کے کسی غلط کام کو سپورٹ نہیں کروں گا بلکہ عمران خان کے وژن کے مطابق احتساب کے کٹہرے میں لاؤں گا۔‘اس بیان کے بعد وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کی جانب سے تیمور سلیم جھگڑا پر ایک اور سنگین الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں آٹھ فروری کے الیکشن سے قبل تیمور سلیم جھگڑا پر سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پہلے سے اطلاع تھی کہ تیمور سلیم ان کے ساتھ ملا ہوا ہے اور یہ اطلاع ہمیں کس نے دی، آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔‘ان تمام الزامات کے بعد دوسری جانب سے بھی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے اپنے ایکس اکاونٹ پر لکھا کہ ’میں نے ایک سال سے زیادہ کوشش کی کہ ایسی باتوں کا جواب نہ دوں کیونکہ ہمارے پاس ایک بڑا مشن ہے عمران خان، مگر بدقسمتی سے مجھ پر جھوٹا الزام لگانے کا سلسلہ نہ رکا۔‘’میرے پاس ریکارڈ قائم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ پنشن فنڈز سے متعلق اقدام کو کابینہ اور اسمبلی کے علاوہ پنشن بورڈ نے منظور کیا تھا، پنشن فنڈ پنشن کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ گریجیویٹی فنڈ گریجیویٹی کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘خیبر پختونخوا حکومت کی قائم کردہ تین رکنی احتساب کمیٹی نے تیمور سلیم جھگڑا کو مبینہ کرپشن کے الزامات پر سوال نامہ ارسال کیا۔ (فائل فوٹو: اے پی پی)پی ٹی آئی کی اندرونی احتساب کمیٹی کے الزاماتخیبر پختونخوا حکومت کی قائم کردہ تین رکنی احتساب کمیٹی نے سابق وزیر خزانہ و صحت تیمور سلیم جھگڑا کو مبینہ کرپشن کے الزامات پر سوال نامہ ارسال کیا۔ کمیٹی نے محکمہ خزانہ اور صحت کے قلمدان کے حوالے سے پانچ مارچ 2025 کو 14 مختلف الزامات اور سوالات سابق صوبائی وزیر کو بھیجے۔ تیمور سلیم جھگڑا پر ان سوالات میں کرپشن، رشتہ داروں کی تعیناتی، مالی اور انتظامی بدعنوامی سمیت دیگر الزامات لگائے گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی کے سوال نامے میں تیمور سلیم جھگڑا نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ ’صوبے کو ڈیفالٹ کرنے کا سوال مضحکہ خیز ہے کیونکہ صوبے کے پاس کمرشل اکاؤنٹس میں 300 ارب روپے موجود تھے، پہلی بار پنشن اصلاحات کیں جو کہ کابینہ سے منظوری کے بعد عمل میں لائی گئیں۔‘تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ سوال نامے کے جواب کی کاپی چئیرمین بیرسٹر گوہر خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کو بھیج رہا ہوں کیونکہ میرے خلاف چلائی گئی مہم اور الزامات کو جان بوجھ کر عوام میں اچھالا گیا ہے۔وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پر الزاماتتیمور سلیم جھگڑا نے احتساب کمیٹی کے سامنے وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور کے خلاف الزامات کا جواب مانگ لیا۔ انہوں نے کمیٹی کو لکھا کہ نو مئی اور آٹھ فروری کے انتخابات کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ حکومت نے غیرقانونی نگران حکومت کے اخراجات کو کیوں منظور کیا؟ وزیراعلٰی پارٹی پر اپنی جیب سے 75 کروڑ روپے خرچ کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ان کے اپنے اثاثے 10 کروڑ روپے ہیں؟تیمور سلیم جھگڑا نے احتساب کمیٹی کے سامنے وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور کے خلاف الزامات کا جواب مانگ لیا۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)شیر افضل مروت اور تیمور سلیم جھگڑا بھی آمنے سامنےپی ٹی آئی کے ایم این اے شیر افضل مروت نے بھی کچھ روز قبل تیمور سلیم جھگڑا پر مالی بدانتظامی کا الزام لگایا تھا جس پر سابق وزیر خزانہ نے انہیں ایک ارب ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ’ شیر افضل مروت نے جس کے بھی ایما پر مجھ پہ بے بنیاد الزامات لگائے ہیں اُن کو یہ پیغام ہے کہ اب یا تو اپنے الزامات کو ثابت کریں یا پھر عدالت میں ملتے ہیں۔‘پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کی وجہ کیا ہے؟خیبر پختونخوا کے سینیئر صحافی طارق وحید سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر گروہ بندی پہلے سے موجود تھی جو عمران خان کے جیل میں جانے کے بعد کُھل کر سامنے آ چکی ہے۔انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلٰی علی امین گنڈا پور خود کو پارٹی کے اندر غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔ پہلے ایم این اے عاطف خان کے پیچھے اینٹی کرپشن کو لگایا گیا تھا کیونکہ وہ مخالف گروپ کے ہیں مگر اس کیس میں کامیابی نہ مل سکی۔‘طارق وحید نے بتایا کہ ’عمران خان نے تیمور سلیم جھگڑا کو کابینہ میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ الٹا تیمور جھگڑا کے خلاف احتساب کمیٹی میں تحقیقات کا آغاز ہوا۔ اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی ہو رہی ہے جس کا نقصان پارٹی کو ہو رہا ہے۔‘پی ٹی آئی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’پارٹی کے اندر چار سے پانچ گروپ بن چکے ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہر گروپ کا رکن کسی نہ کسی ذریعے سے عمران خان تک اپنا بیانیہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خان تک بات پہنچ سکے۔‘صحافی طارق وحید سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر گروہ بندی پہلے سے موجود تھی جو عمران خان کے جیل میں جانے کے بعد کُھل کر سامنے آ چکی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلٰی کی براہ راست عمران خان سے ملاقات ہوتی ہے اسی لیے ان کا بیانیہ مضبوط ہے۔ اور وہ کسی نہ کسی حد تک بانی چیئرمین کو قائل بھی کر لیتے ہیں۔‘’وزیراعلٰی کی کرسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ عمران خان کے نزدیک سیاسی اور غیرسیاسی قوتوں سے بات چیت کے لیے ان کا کردار اہم ہے۔‘دوسری جانب صوبہ پنجاب میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی آپس میں چپقلش کی وجہ سے استعفے بھی سامنے آ رہے ہیں۔سیکریٹری جنرل پنجاب حماد اظہر نے اندرونی معاملات بگڑنے پر تیسری مرتبہ اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ تاہم اس بار انہوں نے کہا یہ استعفیٰ اب قابل واپسی نہیں نہ آئندہ کسی عہدے کا خواہش مند ہوں۔