Getty Imagesبجلی کی قیمت میں کمی کے بارے میں ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ ایسا اچانک ممکن نہیں ہوا
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں7.41 روپے فی یونٹ اور صنعتی صارفین کے لیے 7.59 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔
جمعرات کے روز وزیر اعظم پاکستان نے ایک تقریب میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنا مشکل تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ہم نے کہا ہم تیل کی قیمت میں کمی کو استعمال کر رہے ہیں، کوئی سبسڈی نہیں دے رہے۔ آئی ایم ایف بالآخر قائل ہوا۔‘
واضح رہے کہ مارچ کے وسط میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت کی جانب سے ملک میں تیل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی تھی اور حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آئندہ چند روز میں عوام کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کا تحفہ دیا جائے گا۔
پاکستان میں گزشتہ تین سال میں بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کی وجہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ تھا اور اس میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف شرائط کے تحت بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
Getty Imagesگھریلو صارفین کو اب بجلی 34.37 روپے فی یونٹ میں فراہم کی جائے گیبجلی کی قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟
حکومتی اعلان کے مطابق جون 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 48.70 روپے تھی جو اس وقت 45.05 روپے فی یونٹ ہے، اس طرح جون 2024 سے لے کر اب تک اس میں 3.5 روپے کی کمی ہوئی۔
حکومت کے مطابق اب گھریلو صارفین کے لیے مزید 7.41 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد گھریلو صارفین کو بجلی 34.37 روپے فی یونٹ میں فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح جون 2024 میں صنعتوں کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58.50 روپے تھی جس میں اب تک 10.30 روپے فی یونٹ کمی کی گئی جو 48.19 روپے فی یونٹ تک پہنچی اور اب حکومت کے مطابق اس میں مزید 7.59 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔
بجلی کی قیمت میں یہ کمی ممکن کیسے ہوئی؟
بجلی کی قیمت میں کمی کے بارے میں ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ ایسا اچانک ممکن نہیں ہوا بلکہ اس کے پس پردہ توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے ہو رہی تھی جس میں بجلی بنانے والے کارخانوں یعنی آئی پی پیز کے ساتھمعاہدوںپر نظر ثانی، ان کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی ری شیڈولنگ اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہر راو عامر علی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’اس کمی کے پس پردہ کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی میں کمی کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی نے بھی کردار ادا کیا۔ حکومت کی جانب سے نوے کی دہائی اور موجودہ صدی کے شروع میں پاور پالیسی کے تحت لگنے والے بجلی کے پلانٹس تھے جنھیں کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی ہو رہی تھی، ان کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی۔‘
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر اور دسمبر اور موجودہ سال کے جنوری کے مہینے میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی۔
Getty Imagesحکومت کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر اور دسمبر اور موجودہ سال کے جنوری کے مہینے میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی
عامر علی نے بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول پر گزشتہ مہینے پٹرولیم لیوی بڑھا دی گئی جس سے حکومت کو مالی سپیس ملی کیونکہ اس لیوی کے بڑھنے سے حکومت کو اضافی ریونیو ملے گا اور حکومت اس طرح اپنی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کر پائے گی تاکہ بجلی کی قیمت میں کمی سے اس کے مالیاتی ڈسپلن پر کوئی اثر نہ پڑے۔‘
پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈویلپمنٹ آٖف اکنامکس میں توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کے لیے معاہدوں پر نظر ثانی کی وجہ سے حکومت کو گنجائش ملی کہ وہ بجلی کی قیمت میں کمی کر سکے تاہم سب سے اہم چیز حکومت کا نیو کلیئر پاور پلانٹس اور سی پیک پلانٹس کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی ہے جس کے تحت ان پاور پلاٹنس میں قرضے کے حصے کی ری شیڈولنگ ہے یعنی جو قرضے دس سال میں ادا کرنے تھے وہ اب پندرہ سال میں ادا ہوں گے جس نے حکومت کو مالی گنجائش فراہم کی۔‘
انھوں نے پٹرولیم لیوی کے بڑھانے کو بھی بجلی کی قیمت میں کمی کا وجہ قرار دیا جس کا ریلیف بجلی صارفین کو فراہم کیا گیا۔
کیا یہ کمی دیرپا ہو گی؟
وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کیا طویل مدت تک برقرار رہے گی؟ اس سوال کے بارے میں ڈاکٹر عافیہ ملک نے بتایا کہ ’اس کمی کے شارٹ ٹرم سے میڈیم ٹرم تک چلنے کی امید ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس دوران حکومت دوسرے آئی پی پیز سے بھی معاہدوں پر نظر ثانی کر سکتی ہے تاکہ کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی میں مزید کمی ہو اور عوام کو اس ریلیف مل سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس کے ساتھ ملک میں بجلی کی مارکیٹ کی ترقی کی لیے بھی کوشش ہو رہی ہے تاکہ بجلی صارفین کو ایک سے زیادہ کمپنیوں سے بجلی خریدنے کی چوائس حاصل ہو سکے جس سے انھیں قیمت میں کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔‘
راو عامر علی نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’ریلیف شاید قلیل مدت کے لیے ہو اور اس کا دورانیہ چند مہینوں تک محدود ہو کیونکہ اگلے مالی سال کے لیے بجلی کا ٹیرف جب بنایا جائے گا تو پتا چلے گا کہ یہ کمی برقرار رہ پاتی ہے یا نہیں۔‘
Getty Imagesشہباز شریف نے تسلیم کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنا مشکل تھا
وزیر اعظم پاکستان کے کو آرڈینیٹر رانا احسان افضل نے بی بی سی اردو کے رابطہ کرنے پربتایا کہ ’یہ ریلیف حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے اندر رہتے ہوئے دیا، جس سے نہ ملک کا مالی خسارہ بڑھے گا اور نہ ہی اس سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھے گا۔‘
انھوں نے بتایا یہ ریلیف طویل مدتی ہو گا اور مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔
رانا احسان نے بتایا کہ ’اس ریلیف کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کے ساتھ کچھ کے ساتھ معاہدے ختم کیے گئے تو دوسری جانب پاور پلانٹس پر گیس ٹیرف اور تیل مصنوعات پر پٹرولیم لیوی بڑھا کر مالی گنجائش نکالی گئی تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا جا سکے۔‘