’ابا مُجھے گُڑیا چاہیے، سُرخ رنگ کی چوڑیاں، سنہری رنگ کی چپل اور کانوں میں پہننے کے لیے خوبصورت بالیاں۔۔۔‘ یہ وہ تمام چیزیں ہیں کہ جن کا مطالبہ ایک بیٹی اپنے باپ سے کرتی ہی ہے۔
لیکن صادق آباد کی سونیا خان کی فرمائش نے تو اُن کے والد کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ سونیا نے اپنے والد سے تین سال کی ہی عُمر میں ایک کرکٹ بیٹ اور بال مانگ لی۔
جی ہاں ہم اُسی ننّھی سونیا خان کی بات کر رہے ہیں کہ جن کی کرکٹ کھیلتے ہوئے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور معاملہ یہاں رُکا نہیں بلکہ سونیا کے کھیل کی تعریف تو آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان اور آسٹریلیا کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر مچل سٹارک کی اہلیہ ایلیسا جین ہیلی نے بھی اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں کی۔
ایلیسا جین ہیلی نے سونیا خان کے کھیلنے کے انداز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چھ سال کی عُمر میں سونیا کے کھیلنے کا انداز انتہائی شاندار ہے جس طرح سے وہ کور ڈرائیو کھیلتی ہے اور جیسے وہ بال کو ٹائم کرتی ہے، یہ انتہائی حیران کُن ہے کہ صرف چھ سال کی یہ ننّھی بچی کیسے اتنا شاندار کھیلتی ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یہ اُمید کرتی ہوں کہ وہ بڑی ہو کر گرین شرٹس (پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم) کے لیے کھیلے۔‘
ایلیسا جین نے کہا کہ ’سونیا جیسے کھیلتی ہے اُس کے انداز میں وراٹ کوہلی کا انداز اور سٹائل نظر آتا ہے۔‘ رچرڈ کیٹلبرو نے ایکس پر لکھا کہ ’اس کی پل شاٹ روہت شرما جیسی ہے۔‘ ان کی پوسٹ پر پی ایس ایل کے ایکس ہینڈل نے لکھا کہ ’کیا کوئی جانتا ہے کہ یہ کون ہے اور کہاں رہتی ہے؟ ہم اس سے ملنا چاہیں گے۔‘
یہی تو سونیا کے والد طارق کا بھی کہنا ہے کہ سونیا کو ’اتنی سی ہی عمر میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بابر اعظم اور انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وراٹ کوہلی پسند ہیں اور وہ بس اُنھیں ہی کاپی کرتی ہے۔‘
سونیا کے والد طارق حسین، جن کی رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں ایک چھوٹی سی موبائل شاپ ہے، نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’سونیا کو بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کا شوق ہے، سونیا نے تو تین سال کی عُمر میں کرکٹ بیٹ اور بال لینے کی ضد کی تو میں بھی حیران رہ گیا کہ اس نے گُڑیا لینے کی بجائے کرکٹ بال کا مطالبہ کیا ہے۔‘
طارق نے بتایا کہ ’سونیا کو بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ دیکھنے کا بھی بہت شوق ہے وہ اب بھی کارٹونز کی بجائے کرکٹ میچ بہت غور سے دیکھتی ہے۔‘
’بیٹی کے شوق کے لیے جو کر سکا کروں گا‘
سونیا خان کے والد نے کہا کہ ’جب میں نے سونیا کو بیٹ اور بال لے کر دیا تو کُچھ ہی دن میں یہ ایسے کھیلنے لگی کے میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا، اور اس حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ میں خود بھی کرکٹ نہیں کھیلتا بس کبھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ ہو تو شوق سے ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں مگر کھیلتا نہیں۔‘
طارق حسین کے دو ہی بچے ہیں۔ اُن کا ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی سونیا خان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میرا بیٹا بھی کرکٹ تو کھیلتا ہے مگر جس انداز اور شوق سے سونیا کھیلتی ہے ویسے وہ نہیں کھیلتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں کرکٹ کھیلتا تو نہیں مگر ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر جتنا سیکھا ہوں اُسی کے مطابق میں اب سونیا کو پریکٹس کرواتا ہوں۔‘
طارق نے بتایا کہ ’میرے اتنے وسائل تو نہیں ہے مگر میں اپنی بیٹی کے شوق کو دیکھ کر اُس کے لیے بہت کُچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے گھر کی چھت پر سونیا کے لیے خود سے پیسے جمع کر کے نیٹ لگوایا ہے اور اب وہاں میں اُسے فارغ وقت میں پریکٹس کرواتا ہوں۔‘
سونیا کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کھیل کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی میں بھی بہت اچھی ہیں، جس توجہ سے وہ کھیلتی ہیں اُسی توجہ سے وہ پڑھتی بھی ہیں۔
سچن تندولکر نے جس دس سالہ لڑکی کو راتوں رات سٹار بنا دیا وہ انھیں جانتی تک نہیں’الٹی پھینک کھڑی ہو جائے گی‘: سچن سمیت بہترین بلے بازوں کو چکرانے والی گیند کے موجد کی کہانی’یہ میری زندگی کا سب سے بڑا معجزہ تھا‘: افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کا ملک سے ’فلمی فرار‘سعید انور: بولرز کے لیے ’ڈراؤنا خواب‘ بننے والے اوپنر جو عمران خان کی طرح کرکٹ کی دنیا چھوڑنا چاہتے تھے
سونیا کے والد نے اپنی بیٹی کے شوق اور ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے کرکٹر سونیا خان کے نام سے اُن کے لیے ایک یوٹیوب چینل بھی بنا رکھا ہے کہ جس پر وہ سونیا کی کرکٹ کھیلتے ہوئے کی ویڈیوز شئیر کرتے ہیں۔
اُن کے اس چینل کے اب تک 25 ہزار سے زیادہ فالورز ہیں۔
سونیا خان کے والد طارق حسین کا کہنا ہے کہ سونیا کے کھیل کو پسند کرنے والے تو لا تعداد ہیں جو اُن کے ٹیلنٹ کی بے انتہا تعریف کرتے ہیں مگر چند ایک ایسے پُرانی سوچ کے مالک لوگ بھی ہیں کہ جو اُن پر اور اُن کی بیٹی پر تنقید کرتے ہیں۔
’بعض لوگ تو سونیا کی ویڈیو پر آ کر بنا سوچے سمجھے یہ کہہ جاتے ہیں کہ یہ کام لڑکیوں کے کرنے کا نہیں ہے، یا کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو یوں لڑکوں کے ساتھ گراؤنڈ میں کھلانا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ میری بیٹی کو کرکٹر بننے کا شوق ہے اور جتنا ٹیلنٹ اس عُمر میں اُس کے پاس ہے وہ ضرور ایک دن بڑی ہو کر اپنے مُلک کا نام روشن کرے گی۔‘
طارق نے کہا کہ ’میں تو بہت خوش ہوتا ہوں کے میری بیٹی کے کھیلنے کے انداز کو اتنے لوگ پسند کرنے والے ہیں اور آج میری بیٹی کے کھیل کی تعریف دُنیا بھر میں لوگ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مُجھے لوگوں کی پرواہ نہیں ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں میں تو اپنی بیٹی کے شوق کو آگے لے کر جاؤں گا اور جس قدر اور جو ہو سکا میں اُس کے لیے کروں گا۔‘
سونیا کے والد اب تک اپنی بیٹی کے لیے جو کُچھ بھی کر رہے ہیں وہ اپنے بل بوتے پر کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کے ساتھ باتوں باتوں میں اس بات کا شکوہ بھی کر دیا کہ ’دُنیا بھر میں تو میری بیٹی کی ویڈیو وائرل ہونے پر تعریفیں کی گئیں مگر پاکستان میں کسی بڑی شخصیت نے اُس کی ویڈیو پر کوئی کامنٹ نہیں دیا۔‘
جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ یا کسی پاکستانی کرکٹر نے اُن سے رابطہ کیا یا سونیا کی تعریف کی تو انھوں نے نفی میں جواب دیا۔
تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ’اپنی بیٹی کے خواب پورے کرنے کے لیے میں اکیلا ہی اپنی گھر میں محنت نہیں کر رہا سونیا کی والدہ اور گھر کی دیگر خواتین بھی اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے اسے کبھی بھی کرکٹ کھیلنے سے نہیں روکتیں۔‘
سونیا کے والد پاکستان کے اُن بہت سے والدین میں سے ایک ہیں کہ جو اپنے بچوں خاص طور پر اپنی بیٹیوں کے خواب پورے کرنے کی بھرپور کوشش میں ہیں اور اس کے لیے وہ جو کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ مگر وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اُن کی بیٹی میں جو ٹیلنٹ ہے، وہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ماند نہ پڑ جائے۔
طارق حُسین کا کہنا ہے کہ ’میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور تمام اعلیٰ حکام سے یہ گُزارش کرتا ہوں کے وہ سونیا کے ٹیلنٹ کو نکھارنے میں میری مدد کریں۔‘
’سونیا میں ایک اچھی کرکٹر بننے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ بات میں نہیں بلکہ دُنیا بھی کے وہ لوگ کہہ رہے ہیں جنھوں نے اُسے کرکٹ کھیلتے دیکھا ہے۔‘
’میں اس بات میں مکمل یقین رکھتا ہوں کہ سونیا ایک دن ایک شاندار کرکٹر بن کر اس مُلک اور قوم کا نام روشن کرے گی۔‘
سچن تندولکر نے جس دس سالہ لڑکی کو راتوں رات سٹار بنا دیا وہ انھیں جانتی تک نہیں’الٹی پھینک کھڑی ہو جائے گی‘: سچن سمیت بہترین بلے بازوں کو چکرانے والی گیند کے موجد کی کہانیسعید انور: بولرز کے لیے ’ڈراؤنا خواب‘ بننے والے اوپنر جو عمران خان کی طرح کرکٹ کی دنیا چھوڑنا چاہتے تھے’یہ میری زندگی کا سب سے بڑا معجزہ تھا‘: افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کا ملک سے ’فلمی فرار‘یوراج سنگھ کے سخت والد جنھوں نے ٹیم سے ڈراپ ہونے پر ’کپل دیو پر پستول تان لی تھی‘اظہر الدین: ’کلائی کے جادوگر‘ انڈین کپتان جن کا کیریئر میچ فکسنگ کے الزام کی نذر ہوا