پاکستانی صحافیوں کا دورۂ اسرائیل توہین آمیز، تحقیقات کی جائیں: پی ایف یو جے

اردو نیوز  |  Apr 02, 2025

پاکستان میں صحافیوں کی سرکردہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)نے مقامی میڈیا کے ایک وفد کے حالیہ دورہ اسرائیل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ایف یو جے نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ غزہ میں جنگ کی کوریج کرنے والے 150 سے زائد میڈیا ورکرز کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کا یہ دورہ کرنا دنیا بھر کے صحافیوں کی توہین کے مترادف ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستانی صحافیوں، دانشوروں اور انفلوئنسرز کے 10 رکنی وفد نے ہولوکاسٹ اور سات اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بارے میں جاننے کے لیے اسرائیل کا ایک ہفتے کے دورانیے کا دورہ کیا تھا۔

صحافیوں کے اس دورے کے بعد پاکستان میں بڑے پیمانے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔

پاکستان نے تسلسل کے ساتھ سنہ 1967 سے قبل کی سرحدوں اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ معیارات کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔

پاکستان غزہ میں اسرائیل کے جاری فوجی آپریشن کا کھلا ناقد ہے اور وہ اسے فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ قرار دیتا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے سخت الفاظ پر مبنی اپنے بیان میں پاکستانی صحافیوں اور انفلوئنسرز کے اس دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات کے منافی، آزادی صحافت اور انسانی حقوق کے لیے عالمی جدوجہد کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔

بیان میں کے مطابق ’پی ایف یو جے نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کی مکمل تحقیقات شروع کریں کہ ان صحافیوں نے یہ سفر کیسے اور کیوں کیا، اس طرح کے اقدامات پاکستان کے دیرینہ سفارتی موقف سے متصادم ہیں۔‘

’پی ایف یو جے نے اس دورے کو دنیا بھر کے اُن صحافیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی، جنہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے شورش زدہ علاقوں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا یا وہ زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘

پاکستان غزہ میں اسرائیل کے جاری فوجی آپریشن کا کھلا ناقد ہے اور وہ اسے فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ قرار دیتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)پی ایف یو جے نے کہا کہ اس دورے کا وقت خاص طور پر پریشان کن تھا، یہ دیکھتے ہوئے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں 150 سے زیادہ صحافی (جن میں اکثریت فلسطینیوں کی تھی) مارے جا چکے ہیں۔

یونین نے خبردار کیا کہ اس طرح کے دوروں سے ان ہلاکتوں کو قانونی حیثیت دینے اور فلسطین، کشمیر، افغانستان اور دیگر جگہ پر تنازعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی قربانیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستانی میڈیا پروفیشنلز نے اسرائیل کا سفر کیا ہو۔ سنہ 2022 میں اسی طرح کے ایک وفد میں بین المذاہب ہم آہنگی اور سفارتی روابط کی کوششیں کرنے والے صحافی اور پاکستانی نژاد امریکی شامل تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)اس حالیہ دورے کے بارے میں میڈیا رپورٹس کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے بارے میں ملک کا موقف ’تبدیل نہیں ہوا ہے۔‘

دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستانی پاسپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ اس پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جا سکتا۔‘

’پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتا ہے، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More