راج کپور سٹوڈیو: ’بالی وڈ شو مین‘ کے خوابوں کی تعبیر جس کی تعمیر میں نرگس کی چوڑیاں بھی کام آئیں

بی بی سی اردو  |  Apr 02, 2025

Getty Imagesراج کپور اور ان کا آر کے سٹوڈیو

جس طرح سے بالی وڈ کے شو مین کہلائے جانے والے اداکار اور فلمساز راج کپور کی فلمیں لوگوں کو مسحور کرتی رہیں کچھ اسی طرح ان کا قائم کردہ ’راج کپور سٹوڈیو‘ بھی مسحورکن حیثیت رکھتا تھا۔

راج کپور کے خوابوں کی تعبیر ’آر کے سٹوڈیو‘ انڈین سنیما کی میراث کا ایک سنہری باب ہے۔

فلم کی دنیا میں پہلا بڑا انقلاب بولتی ہوئی فلموں کا آنا تھا۔ خاموش فلموں سے ان فلموں تک کا سفر آسان نہیں تھا۔ اس نئی ٹیکنالوجی کو پیسے اور وسائل کی ضرورت تھی، جو چھوٹے صنعت کاروں کے پاس نہیں تھی۔

نتیجتاً چھوٹی فلم کمپنیاں بند ہوگئیں اور بڑے سٹوڈیوز کا دور شروع ہوگیا۔ 1934 تک، ملک میں ہالی وڈ جیسا منظم، پیشہ ورانہ فلم سٹوڈیو سسٹم قائم ہو چکا تھا۔

پربھات فلم کمپنی (پونے، مہاراشٹر)، نیو تھیٹر (کلکتہ) اور بمبئی ٹاکیز (بمبئی) نے سنیما پر راج کرنا شروع کر دیا۔

یہ سٹوڈیوز کسی فیکٹری کی طرح فلمیں بنا رہے تھے، جہاں فنکار اور تکنیکی ماہرین تنخواہ پر کام کرتے تھے۔ اشوک کمار، درگا کھوٹے، کے ایل سیگل، دلیپ کمار، مدھوبالا، وی شانتارام اور پی سی بروا جیسے نام اسی نظام سے ابھرے۔

اس دوران یہ سٹوڈیوز کوئی 15 سال تک حقیقی سپر سٹار رہے۔

تقسیم کا دردGetty Imagesدلیپ کمار جیسے بڑے اداکار بامبے ٹاکیز سے نکلے تھے

ایک دن سب کا سورج غروب ہوتا ہے۔ سٹوڈیو سسٹم کا بھی زوال آیا اور یہ زوال 1947 میں آیا جب بٹوارے نے سب کچھ تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔

لوگ بے گھر ہو گئے، کاروبار تباہ ہو گئے، یہاں تک کہ فلم سٹوڈیوز بھی متاثر ہوئے۔

وہ سٹوڈیوز جو پہلے سے ہی دوسری جنگ عظیم اور خوفناک قحط کی زد میں تھے ملک کی تقسیم کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔ لیکن سٹوڈیو سسٹم کے زوال کی واحد وجہ یہی نہیں تھی۔

اب تک جو سٹار اداکار اور ہدایت کار سٹوڈیوز میں تنخواہوں پر تھے وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ خود بڑے برانڈ بن سکتے ہیں۔

فری لانسنگ ماڈل کو اپنا کر پرتھوی راج کپور پہلے ہی کامیابی کی سیڑھی چڑھ چکے تھے۔ اسی وقت وی شانتارام اور محبوب خان نے سٹوڈیو سسٹم چھوڑ کر اپنی فلم کمپنیاں شروع کر دیں۔

ہوا کا رخ بدل چکا تھا۔ فلم انڈسٹری میں دولت مند تاجروں کا ہجوم تھا جو ان فری لانس ستاروں، پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں پر داؤ لگا رہے تھے اور فنانسر کا کردار ادا کر کے پیسہ کما رہے تھے۔

پردے کے پیچھے بیٹھ کر فیصلے کرنے والے سٹوڈیو مالکان کے بجائے اب ہدایت کار اور ستارے حاوی ہو رہے تھے۔ اس دوران پربھات اور بمبئی ٹاکیز بند کر دیے گئے۔

سنیما فلم سازوں اور سٹار پاور کے دور میں داخل ہو چکا تھا۔ فلم سازی کے اسی جذبے کے ساتھ پرتھوی راج کپور کے بیٹے راج کپور بھی جدوجہد کر رہے تھے۔

Getty Imagesآر کے سٹوڈیو دو ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک وسیع احاطہ تھاراج کپور کا خواب

کپور خاندان میں پیدا ہونے والے اس نوجوان نے بہت چھوٹی عمر میں ہی فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن راج کپور صرف ایک اداکار نہیں بننا چاہتے تھے، انھیں فلم پروڈکشن اور ڈائریکشن کا بھی جنون تھا۔

آر کے اسٹوڈیو کی تعمیر کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ جب راج کپور نے بطور پروڈیوسر ڈائریکٹر اپنی پہلی فلم ’آگ‘ بنانے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس صرف 13 ہزار روپے تھے۔

انھوں نے یہ منصوبہ اپنے ماموں اور انتہائی قریبی دوست وشوا مہرا شیئر کیا۔ اس فلم کے لیے میک اپ مین، اداکار اور ڈانسرز کی ضرورت تھی جو اس وقت پرتھوی تھیٹر میں کام کر رہے تھے۔

پرتھوی تھیٹر کے عملے کی اجتماعی کوششوں نے راج کپور کے خواب کو پورا کرنے میں مدد کی۔ راج نے اس فلم میں ہیروئن کے کردار کے لیے نرگس کا انتخاب کیا۔

تب تک 20 سالہ نرگس فلموں میں ہیروئن بن چکی تھیں۔ وہ محبوب خان جیسے معروف ہدایت کار کے کیمپ کا حصہ تھیں اور سٹار تھیں۔

جبکہ 22 سالہ راج کپور نے بطور اداکار ابھی تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی تھی اور وہ بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم ڈائریکٹ کرنے والے تھے۔

نرگس کا ساتھGetty Imagesنرگس سٹار بن چکی تھیں لیکن راج کپور کے ساتھ انھوں نے تقریبا ڈیڑھ درجن فلمیں کیں

فلم ’آگ‘ کے دوران دونوں کے درمیان قربتیں بڑھیں۔

تاہم اس وقت نرگس کی والدہ جدن بائی اس کے سخت خلاف تھیں اور اکثر یا تو شوٹنگ میں موجود رہتیں یا پھر نرگس کو آؤٹ ڈور شوٹنگ کے لیے بھیجنے سے انکار کر دیتیں۔

مشہور ہدایت کار راہل راویل جو کہ راج کپور کے اسسٹنٹ اور طویل عرصے تک قریبی دوست رہے، اپنی کتاب ’راج کپور بالی وڈ کے سب سے بڑے شو مین‘ میں کہتے ہیں، ’اُن دنوں ایک فلمساز کے لیے سٹوڈیو سے منسلک ہونا بہت ضروری تھا، کیونکہ سٹوڈیو ایک ڈھکی ہوئی جگہ تھی جہاں سیٹ لگایا جاتا تھا اور سیٹ کی قیمت بھی دی جاتی تھی۔‘

راج کپور نے ایسٹرن سٹوڈیو سے جڑنے کا فیصلہ کیا جس کے مالک مسٹر لکھانی تھے۔

’آگ‘ کی پروڈکشن پر 3 لاکھ روپے کا خرچ آیا جو کہ ان دنوں بہت بڑی رقم تھی۔ راج کپور کو یقین تھا کہ وہ اس فلم سے منافع کمائیں گے کیونکہ کہانی اچھی تھی۔ اگرچہ فلم کو ناقدین نے سراہا لیکن اس نے باکس آفس پر اچھا بزنس نہیں کیا۔

اس نقصان کے باوجود راج کپور نے اپنی اگلی فلم ’برسات‘ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس بار انھوں نے ہدایت کار کے آصف کے روپ تارہ سٹوڈیو سے شوٹنگ کے لیے معاملہ طے کیا، لیکن کوئی بھی فنانسر ایک ناکام پروڈیوسر ڈائریکٹر پر پیسہ نہیں لگانا چاہتا تھا۔

ایسے میں راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور نے ان کی مدد کی۔

نئے تجرباتGetty Images’میرا نام جوکر‘ کامیاب نہ ہو سکی اور اس نے راج کپور کو ایک طرح سے کنگال کر دیا تھا

راج کپور نے رومانوی فلم ’برسات‘ کے مشہور گانے ’ہوا میں اڑتا جائے‘ کو کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں شوٹ کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں اس وقت تک کسی فلم کی شوٹنگ نہیں ہوئی تھی۔

وہ زمانہ سٹوڈیوز میں شوٹنگ کا تھا۔ لیکن پوری کاسٹ اور عملے کو لے جانا، بھاری سامان پہنچانا، اور رہائش کا بندوبست کرنا بہت مہنگا عمل تھا۔

راج کپور کچھ نیا کرنے کا تجربہ کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ سب سے پہلے اپنے کیمرہ مین جال مستری کے ساتھ کشمیر گئے اور ہلکے ایمو کیمرے سے شاٹس لیں۔

بعد میں ان مناظر کو مہابلیشور میں فلمائے گئے مناظر کے ساتھ ملا دیا گیا۔

راہل راویل لکھتے ہیں: ’ان کا اگلا مرحلہ تمام ساؤنڈ ریکارڈنگ کے آلات کو رکھنے کے لیے ایک ساؤنڈ ٹریک خریدنا تھا۔ تیسرا مرحلہ پیشہ ورانہ 35 ایم ایم میشل این سی کیمرہ خریدنا تھا۔ یہ اثاثہ فلم سازی کے ان کے جنون سے پیدا ہوا اور ایک سٹوڈیو کے مالک ہونے کی ابتدائی کوشش بھی تھی۔‘

سال 1949 میں ریلیز ہونے والی ’برسات‘ نے کامیابی کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور اس وقت تک کی سب سے کامیاب فلم بن کر ابھری۔

برسات ان کی دوسری فلم تھی اور نرگس کے ساتھ ان کی جوڑی سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اسی سال راج کپور، نرگس اور دلیپ کمار کی محبوب خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’انداز‘ بھی سپرہٹ ثابت ہوئی۔

نئی کامیابی نے راج کپور کو سٹوڈیو بنانے کے اپنے خواب پر کام کرنے کی ہمت اور پیسہ بھی دیا۔

خواب کی تعبیر آر کے سٹوڈیوGetty Imagesراج کپور نے فلموں میں نئے تجربات کیے

راج کپور نے نرگس اور پرتھوی راج کپور کے ساتھ اپنی اگلی فلم ’آوارہ‘ کا بھی اعلان کیا۔

14 دسمبر 1949 کو راج کپور کی سالگرہ کے دن ان کی اگلی فلم آوارہ کا مہورت دادر میں واقع تارا سٹوڈیو میں ہوا۔

’آوارہ‘ کی تیاری کا فیصلہ آشا سٹوڈیو میں کیا گیا تھا۔

راہل راویل کے مطابق: ’راج صاحب نے نرگس جی کے ساتھ ایک سین کا منصوبہ بنایا جس میں وہ سوئمنگ کاسٹیوم میں تالاب کے اندر جائیں گی۔ اگرچہ فلم کی زیادہ تر شوٹنگ سٹوڈیو سیٹس پر کی گئی تھی، لیکن اس خاص سین کے لیے انھیں این ایس سی آئی کلب کے سوئمنگ پول میں جانا پڑا۔‘

’نرگس اتنے لوگوں کے سامنے سوئمنگ کاسٹیوم پہننے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ نرگس کو منانے کے لیے انھوں نے بغیر اجازت سٹوڈیو میں زمین کھود کر شوٹنگ کے لیے تالاب بنایا۔ اس پر سٹوڈیو مالکان کی طرف سے راج صاحب کی سخت سرزنش کی گئی اور اسی ہزار روپے کا بھاری جرمانہ بھی مانگا گیا۔‘

راج کپور نے جرمانہ تو سٹوڈیو کو ادا کر دیا لیکن اس معاملے نے ان کے دل کو ٹھیس پہنچائی۔

وہ سکینڈل جس پر فلم سٹوڈیو نے ایک لیب ٹیکنیشن کو سٹار بنا دیانہرو کے بعد جناح کا کردار نبھانے والے اداکار جنھیں خدشہ ہے کہ ’اب صرف پاکستانی کردار آفر ہوں گے‘’لیڈی کِلر‘ اور ’چاکلیٹی ہیرو‘ وحید مراد جو مولا جٹ کے بعد زوال سے سنبھل نہ سکےجب راج کپور کو بستر مرگ پر دیکھ کر دلیپ کمار نے انھیں پشاور جا کر کباب کھانے کا کہا

انھوں نے سٹوڈیو کے مالکان سے کہا کہ وہ پیسوں کی پرواہ نہیں کرتے لیکن وہ اپنی فلموں کے تخلیقی فیصلوں کے لیے کسی کی اجازت نہیں لینا چاہتے۔

اپنے فلمی خوابوں کو شکل دینے کے لیے راج کپور کو ایک ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں وہ کسی کی مداخلت کے بغیر اپنی کہانیاں سنا سکیں۔

انھوں نے سٹوڈیو مالکان سے کہا کہ میں اس سٹوڈیو میں دوبارہ کبھی شوٹنگ نہیں کروں گا۔

انھوں نے ’آوارہ‘ کی باقی شوٹنگ شری کانت سٹوڈیو میں کی جو بمبئی کے چیمبور علاقے میں تھا۔

چیمبور آج ایک مصروف صنعتی علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن 1950 کی دہائی میں یہ شہر کے مضافات میں ایک پرسکون، بستی ہوا کرتی تھی۔

نرگس سٹوڈیو کا اہم حصہ

راج کپور نے بھی کافی وقت چیمبور میں گزارا۔ شریکانت سٹوڈیو کے بالکل قریب دو ایکڑ زمین خالی پڑی تھی۔ راج کپور کو یہ زمین اپنے سٹوڈیو کے لیے پسند تھی۔

مسٹر راویل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’اس وقت اس زمین کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تھی اور ان دنوں ان کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔‘

دوسرے پروڈیوسرز کے ساتھ فلمیں سائن کرنے کے ساتھ ساتھ، راج کپور نے رقم بھی ادھار لی اور آر کے سٹوڈیو بنانے کے لیے زمین خریدی۔

اس خواب میں ان کا ساتھ دینے والی نرگس اب ان کی زندگی اور ان کی فلموں کا ایک اہم حصہ بن چکی تھی۔

مصنفہ مدھو جین نے اپنی کتاب ’دی کپورز‘ میں لکھا ہے کہ ’جب برسات بن رہی تھی، نرگس پوری طرح سے راج کپور سے منسلک تھیں۔ اتنا کہ جب سٹوڈیو بنانے کے لیے پیسے ختم ہوگئے تو نرگس نے اپنی سونے کی چوڑیاں بیچ دیں۔ آر کے فلمز کی خالی تجوریوں کو بھرنے کے لیے اس نے دوسرے پروڈیوسرز کی فلموں میں بھی کام کیا۔‘

راج کپور کی سوانح عمری ’راج کپور دی فیبلیس شو مین‘ میں مصنف بنی ریوبن لکھتے ہیں: ’ستمبر 1950 میں راج کپور نے اپنے وفادار تکنیکی ماہرین، دوستوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ مل کر چیمبور کی سرزمین پر آر کے سٹوڈیو کا افتتاح کیا اور پھر آہستہ آہستہ یہ سٹوڈیو کھڑا ہونا شروع ہوا۔‘

لیکن، جب سارا پیسہ اور وقت سٹوڈیو بنانے کے جنون میں خرچ ہونے لگا تو اس کا اثر راج کپور کے خاندان پر پڑنے لگا۔

زیر تعمیر سٹوڈیو میں آوارہ کی شوٹنگ

راہل راویل کے مطابق کرشنا آنٹی (راج کپور کی اہلیہ) کرائے کے گھر کے بجائے اپنا گھر چاہتی تھیں لیکن راج کپور پہلے ایک سٹوڈیو بنانا چاہتے تھے اور اس سے پیسے کمانے کے بعد اپنا گھر خریدنا چاہتے تھے۔

’آوارہ‘ کی شوٹنگ زوروں پر تھی اور راج کپور اپنے سٹوڈیو میں ایک عظیم الشان ڈریم سیکوئنس فلمانا چاہتے تھے، جس کی اس وقت تک چھت نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ شوٹنگ صرف رات کو کی جا سکتی تھی تاکہ دن کی روشنی سے بچا جا سکے۔

جس وقت شوٹنگ شروع ہوئی، آر کے اسٹوڈیو کی دیواریں تقریباً آٹھ فٹ اونچی ہو چکی تھیں۔

راج کپور کے قریبی دوست اور ماموں وشوا مہرا کہتے ہیں: ’دیواریں تو کھڑی کر دی گئی تھیں لیکن چھت نہیں تھی۔ راج نے کہا، ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس ڈریم سیکونس کو اپنے سٹوڈیو میں شوٹ کریں گے۔ اور ہم نے یہی کیا۔‘

’آوارہ‘ بھی زبردست ہٹ رہی اور اس نے اتنا پیسہ کمایا کہ آر کے سٹوڈیو فلموں کی شوٹنگ کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ بعد میں چھت پر ایک ایڈیٹنگ روم اور پریویو تھیٹر بھی بنایا گیا۔

سٹوڈیو کے اندر راج کپور کا مشہور کاٹیج بھی تھا، جسے وہ اپنے فن کا مندر سمجھتے تھے۔

چیمبور میں دو ایکڑ پر پھیلا یہ سٹوڈیو انڈین سنیما کی زندہ یادگار تھا۔ یہیں مشہور دھنیں بنائی گئیں، یادگار کہانیاں تخلیق ہوئیں اور کئی کلاسک فلمیں بنائی گئیں۔

شنکر-جی کشن سے لے کر شیلیندر تک اور بوبی کے رشی-ڈمپل سے لے کر ’رام تیری گنگا میلی‘ کی منداکنی تک، بہت سے فنکاروں نے آر کے اسٹوڈیو کے لیے اپنا بہترین کام کیا۔

اگرچہ اس کا نام راج کپور کے نام پر رکھا گیا تھا لیکن کپور خاندان اسے بنانے میں نرگس کے تعاون سے انکار نہیں کرتا۔

Getty Imagesآوارہ کی شوٹنگ کے دوران کیمرے کے پیچھے راج کپورعلیحدگی کے بعد نرگس پھر لوٹ کر نہ آئيں

مدھو جین اپنی کتاب ’دی کپورز‘ میں لکھتی ہیں: ’آر کے درحقیقت نرگس-راج کپور کا بینر تھا۔ وہ ایک ایسی پارٹنر تھیں جنھوں نے اپنے سنہری سالوں میں ان کے ساتھ آر کے فلمز کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔‘

’انھوں نے ایک ساتھ 16 فلمیں بنائیں۔ شراکت داری 1948 میں ’آگ‘ سے شروع ہوئی اور 1956 میں ’جاگتے رہو‘ پر ختم ہوئی۔‘

آر کے اسٹوڈیو کے مین گیٹ پر لگا لوگو اس کی پہچان تھا۔ ایک خوبصورت تصویر جو راج کپور کے رومانوی اور میوزیکل سنیما کی علامت بن گئی۔

یہ ڈیزائن فلم برسات کے مشہور سین سے لیا گیا ہے جس میں راج کپور ہاتھ میں وائلن لیے کھڑے ہیں اور نرگس ان کی بانہوں میں ہیں۔

یہ لوگو مشہور ڈیزائنر ایم آر اچریکر نے بنایا تھا اور اسے بالاصاحب ٹھاکرے نے پینٹ کیا تھا، جو بعد میں مہاراشٹر کی اہم سیاسی جماعت شیو سینا کے بانی بنے۔

لوگو کے نیچے ہندوؤں کے بھگوان شیو کی ایک بڑی مورتی تھی۔ راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور ہر نئی فلم کے مہورت پر بھگوان شیو کی پوجا کرتے تھے۔

آر کے سٹوڈیوز میں راج کپور کے کمرے کے پیچھے نرگس کا بھی ایک کمرہ ہوا کرتا تھا جو جوں کا توں رہا۔ نرگس کا سامان بھی اسی حالت میں رکھا ہوا تھا جس حالت میں وہ انھیں چھوڑ کر گئی تھیں۔

راج کپور نے نرگس سے علیحدگی کے تقریباً 20 سال بعد 1974 میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب نرگس نے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو وہ پھر کبھی آر کے سٹوڈیو واپس نہیں آئیں۔

Getty Imagesآر کے سٹوڈیو کا لوگودوسرے سٹوڈیوز سے مختلف

پربھات اور بامبے ٹاکیز جیسے پرانے سٹوڈیوز بڑی تنظیموں کی طرح چلائے جاتے تھے۔

وہاں اداکار، ہدایت کار اور ٹیکنیشن سبھی تنخواہ پر ملازم تھے۔ فلم کی تیاری کا پورا نظام تھا، سکرپٹ رائٹنگ، شوٹنگ، ایڈیٹنگ اور تقسیم، سٹوڈیو کے اندر سب کچھ ہوا۔

یہ ایک فیکٹری کی طرح تھا جہاں ایک کے بعد ایک فلمیں بنتی تھیں جہاں ایک منظم نظام فرد واحد کی تخلیقی سوچ سے زیادہ کام کرتا تھا۔

جبکہ آر کے سٹوڈیو کسی فیملی سٹوڈیو کی طرح تھا جو مکمل طور پر راج کپور کے خوابوں پر مبنی تھا، جہاں ان کی سوچ سب سے اہم تھی۔ یہاں ہر فلم کو ایک خواب کی طرح بنا گیا تھا۔

پہلے فلم کے لیے پیسے اکٹھے کیے گئے، پھر فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

بعد میں اسے دوسری فلموں کی شوٹنگ کے لیے بھی کرائے پر دیا جانے لگا۔ سٹوڈیو سسٹم کے خاتمے کے بعد یہ ماڈل کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔

’آوارہ‘ کے بعد راج کپور کی تمام یادگار فلموں کے عظیم الشان سیٹس بشمول ’شری 420‘، ’سنگم‘، ’میرا نام جوکر‘، ’بابی‘ اور ’رام تیری گنگا میلی‘ اسی سٹوڈیو میں بنائی گئیں۔

آر کے سٹوڈیو کا زوال

یہی نہیں دیگر مشہور ہدایت کاروں نے بھی اس سٹوڈیو میں اپنی کئی مشہور فلموں کی شوٹنگ کی۔ یہ فلمساز منموہن دیسائی کا پسندیدہ سٹوڈیو تھا۔

آر کے اسٹوڈیو نہ صرف اپنی فلموں کے لیے بلکہ اپنی عظیم الشان ہولی پارٹیوں کے لیے بھی مشہور تھا۔

1988 میں راج کپور کی موت کے بعد سٹوڈیو کی سرگرمی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی۔

1990 کی دہائی میں یہاں فلموں کی شوٹنگ کم ہونے لگی اور اسے ٹی وی سیریلز اور اشتہارات کی شوٹنگ کے لیے زیادہ استعمال کیا جانے لگا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ممبئی میں اب بہت سے جدید سٹوڈیوز اور شوٹنگ فلور موجود تھے، جو شہر سے زیادہ دور نہیں تھے۔ اس لیے رفتہ رفتہ آر کے میں کام کم ہونے لگا۔

اتنے بڑے اسٹوڈیو کی دیکھ بھال کا خرچہ اور ذمہ داری بہت زیادہ تھی۔

2017 میں اسٹوڈیو میں آگ لگنے سے اسے شدید نقصان پہنچا۔ سٹیج، سازوسامان، اور یہاں تک کہ مشہور ملبوسات کا شعبہ جس میں تمام کلاسک فلموں کے ملبوسات اور دیگر قیمتی ورثے رکھے گئے تھے سب جل کر خاکستر ہو گئے۔

سنہ 2018 میں کپور خاندان نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور سنہ 2019 میں گودریج پراپرٹیز نے اسے خرید لیا۔ آر کے سٹوڈیوز اب نہیں ہے لیکن انڈین سنیما میں اس کی شناخت ہمیشہ قائم رہے گی۔

راج کپور کے بڑے بیٹے رندھیر کپور نے ایک بار ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے والد نے ان سے کہا تھا کہ جب وہ مر جائیں تو انھیں سٹوڈیو میں لے آنا، ممکن ہے اس روشنی کی چمک میں ان کی روح پھر سے ’ایکشن، ایکشن‘ پکار اٹھے۔

فلمی دنیا کا حاکم خاندان، جس کے فن کا آغاز لائل پور کی گلیوں سے ہواجب راج کپور کو بستر مرگ پر دیکھ کر دلیپ کمار نے انھیں پشاور جا کر کباب کھانے کا کہاجب دلیپ کمار پر ’پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام‘ لگا اور نشانِ امتیاز ملنے پر ہنگامہ برپا ہوامدھو بالا جن کے حُسن کا شہرہ اُن کی اداکاری پر بھاری رہا: دلیپ کمار سے محبت مگر کشور کمار سے ’بےجوڑ‘ شادی کی کہانیوہ سکینڈل جس پر فلم سٹوڈیو نے ایک لیب ٹیکنیشن کو سٹار بنا دیانہرو کے بعد جناح کا کردار نبھانے والے اداکار جنھیں خدشہ ہے کہ ’اب صرف پاکستانی کردار آفر ہوں گے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More