پہلے گاڑی پر فائر کیا پھر مجھ پر کرنے والا تھا۔۔ ڈالہ کلچر کو دھول چٹانے والا یہ بہادر نوجوان کون ہے؟

ہماری ویب  |  Mar 15, 2025

"اس نے میری گاڑی پر فائر کیا اور پھر مجھ پر حملہ کر دیا، لیکن میں نے ہار نہیں مانی!"

لاہور کے بیجنگ انڈرپاس میں پیش آنے والے واقعے میں کپڑے کے تاجر عمران نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب غیر ملکی مہمانوں کے سکیورٹی گارڈز نے مبینہ طور پر راستہ نہ دینے پر عمران کی گاڑی کو زبردستی روکا اور براہ راست فائرنگ کر دی۔ مگر عمران گھبراہٹ میں پیچھے ہٹنے کے بجائے گاڑی سے نکلے اور ایک گارڈ کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران دیگر محافظوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، مگر وہ پیچھے نہ ہٹے۔ کچھ ہی دیر بعد حملہ آور گاڑیوں میں بیٹھ کر فرار ہوگئے، لیکن عمران نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی گاڑی ان کے راستے میں کھڑی کر دی، جس کے باعث پولیس کو موقع پر پہنچنے کا وقت مل گیا۔

@murtazaviews

Security guards of a private company opened fire on a car driver on Canal Road in Lahore. Police confirmed that four suspects involved in the incident have been arrested. The guards were giving protocol to a rich businessman.

♬ original sound - Murtaza Ali Shah

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار گارڈز کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گاڑی تحویل میں لے لی۔ واقعے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ اس واقعے نے جہاں لاہور میں سکیورٹی کمپنیوں کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں، وہیں عمران کی بہادری نے عوام میں داد و تحسین بٹور لی ہے۔

@publicnewsdotcom آپسی رنجش یا وجہ کچھ اور! سیدھی فائرنگ اور تشدد کی نوبت کیوں پیش آئی ؟ڈالے والےملزم اورشہری عمران میں تعلقات؟ہوشربا انکشافات سامنے آنا شروع#PublicNews #PublicUpdates #PublicVideo #Lahore #Dharampura #CanalRoad #BreakingNews #Trending #TikTok #For #Viral #ForYou #ViralVideo #Excluisive #Fy #Fyp ♬ original sound - Public News

سوشل میڈیا پر وائرل مختلف ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران ڈالہ کلچر کی بھرپور مذمت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں وہ ایک عام شہری ہیں البتہ شہریوں کو اذیت دینے کا یہ سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More