برطانیہ میں فیک نیوز پر ہنگاموں کا الزام، ’لاہور سے گرفتار شخص کا کوئی صحافتی تجربہ نہیں‘

اردو نیوز  |  Aug 21, 2024

برطانیہ میں فیک نیوز پر احتجاج اور ہنگاموں کے معاملے پر گرفتار کیے گئے شخص فرحان آصف کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فرحان آصف کو سائبر دہشت گردی کے الزامات کے تحت ایف آئی اے نے بدھ کو لاہور کی ضلعی عدالت میں پیش کر کے 14 روز کا جسمانی ریمانڈ مانگا تھا۔فرحان آصف کو منگل کے روز لاہور ڈیفنس سے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

اس سے قبل برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات اور ہنگاموں کے معاملے پر ایف آئی اے سائبر کرائم میں فرحان آصف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔یہ مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ملزم سے دو لیپ ٹاپ اور ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔فرحان آصف پاکستان میں ایک نیوز پلیٹ فارم چینل 3 ناؤ کے لیے کام کرتے ہیں اور ان پر برطانیہ میں تین بچیوں کے قاتل کی شناخت کی فیک نیوز دینے کا الزام ہے۔ایف آئی اے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’31 برس کے سوفٹ ویئر انجینیئر فرحان آصف کا صحافت کا کوئی پس منظر نہیں، اور وہ صرف پیسے کمانے کے لیے چینل 3 ناؤ چلاتے ہیں۔‘خیال رہے کہ گذشتہ ماہ 29 جولائی کو برطانیہ کے شمال مغربی علاقے ساؤتھ پورٹ میں ایک ڈانس کلاس میں ہونے والے چاقو کے حملے میں تین لڑکیاں ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئی تھیں۔اس واقعے کے بعد برطنیہ اور شمالی آئرلینڈ میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر نے فسادات اور پُرتشدد مظاہرے شروع کردیے تھے۔سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات نے ڈانس کلاس پر ہونے والے حملے کو مختلف طریقوں سے ایک مسلمان پناہ گزین تارکِ وطن سے منسوب کیا۔ تاہم بعد میں مبینہ حملہ آور کی شناخت 17 سال کے ایگزل رداکوبانا کے نام سے ہوئی جو کارڈف میں پیدا ہوا تھا۔اس حملے کے بعد شروع ہونے والے فسادات برطانیہ کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پھیل گئے جب کہ متعدد مقامات پر مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More