100 سے زائد زندہ سانپ پتلون میں چھپا کر چین سمگل کرنے کی کوشش ناکام

بی بی سی اردو  |  Jul 11, 2024

کسی بھی ملک کے سرحدی حکام کو مختلف قسم کی اشیا، منشیات اور رقوم کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کرنے پڑتے ہیں اور اس دوران انھیں سمگلنگ کے نت نئے اور انوکھے طریقے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ حال ہی میں چین میں کسٹم حکام کے ساتھ ہوا جب انھوں نے ایک شخص کو 100 سے زائد زندہ سانپوں کو اپنی پتلون میں بھر کر چین میں سمگل کرنے کی کوشش کرتے پکڑ لیا۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسافر کو ہانگ کانگ اور شینزین شہر کے درمیان کراسنگ پر روکا گیا۔ وہ شخص اس راستے سے گزر رہا تھا جہاں سے بغیر سامان کے لوگ گزرتے ہیں۔

چائنا کسٹمز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب ان کی تلاشی لی گئی تو ان کی پتلون میں تھیلیاں تھیں جن میں 104 سانپ تھے۔ ہر تھیلی میں مختلف اقسام کی شکل، سائز اور رنگوں میں زندہ سانپ پائے گئے۔

چینی کسٹمز کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو اہلکار زندہ سرخ، گلابی اور سفید سانپوں سے بھری تھیلیوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔

اگرچہ ان میں سے زیادہ تر سانپ چھوٹے تھے لیکن یہ رینگنے والے جانوروں کی ایک بڑی کھیپ ہے جسے کوئی شخص اپنی پتلون میں چھپا کر لے جا سکتا تھا۔

چین میں بائیو سکیورٹی اور بیماریوں پر قابو پانے کے سخت قوانینکے تحت لوگوں کو اجازت کے بغیر غیر مقامی جانوروں کو ملک میں لانے پر پابندی عائد ہے۔

کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ قوانین کو توڑتے ہیں ان کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘

سنہ 2023 میں بھی اسی کراسنگ پوائنٹ پر ایک خاتون کو اپنے زیر جامعہ کے اندر چھپے ہوئے پانچ سانپوں کو سمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے روکا گیا تھا۔

چین دنیا میں جانوروں کی سمگلنگ کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک ہے اور حکام حالیہ برسوں میں اس غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

خود امریکہ پہنچنے میں ناکامی پر ’انسانی سمگلنگ کا کاروبار چلانے والا‘ جوڑا گرفتارحجاج کی ’سمگلنگ‘: ’ہمیں فراڈ سے حج کرنے پر مجبور کیا گیا‘پشپا فلم سے متاثر ہو کر منشیات سمگلنگ کے نت نئے طریقے اختیار کرنے والے انڈین سمگلرسان ڈیاگو: ممکنہ طور پر انسانی سمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی کشتیاں الٹنے سے آٹھ افراد ہلاک
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More