خالد مقبول صدیقی نے پاکستان کرکٹ ٹیم پرمیچ بیچنے کا الزام عائد کردیا

ہم نیوز  |  Jun 08, 2024

وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے بھی قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی 20 ورلڈکپ میں امریکا کے ہاتھوں شکست پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے میچ بیچنے کا الزام عائد کر دیا۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم پر میچ بیچنے کا الزام عائد کر دیا کہا کہ ہم یہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے دعائیں اور نفل پڑھیں اور ٹیم میچ بیچ کر آجاتی ہے۔

ایک ہزار طلبا کو تربیت کیلئے چین کی یونیورسٹی بھیجا جائے گا، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ ہم جس حکومت سے ناراض نہیں ہوئےاسی حکومت نے اپنی مدت پوری کی ہے، حکومت کی مدت پوری ہونے نہ ہونے سے پاکستان کی عزت پر کوئی فرق نہیں پڑھ رہا جب کہ جمہوریت وہاں پائی جاتی ہے جہاں ایم کیو ایم پاکستان ہوتی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے قابل لوگوں کو ٹکٹ دے کر ایوانوں میں بھیجا، کسی بھی ریاستی ادارے کو اپنے فیصلے ڈومیسائل کی بنیاد پر نہیں کرنے چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے کرپشن کو صنعت کا درجہ دے دیا ہے جب کہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو سوال کرنا سکھائیں، جب ایک بہتر معاشرہ بنالیں گے تو معاشرتی علوم بھی پڑھالیں گے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر اور چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک سکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد کراچی کو کچھ دے رہا ہے جب کہ کراچی نے ہمیشہ اسلام آباد کو دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی چلتا ہے تو ملک پلتا ہے، دنیا ترقی کررہی ہے اور تیز رفتار دنیا نے سب کو بدل دیا ہے، اگر کچھ نہیں بدلا تو پھر انہوں نے خود کو بدلنے کے کوشش نہیں کی جب کہ اسلام آباد کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو بدلے۔

فلور ملز نے گندم خریداری کا پیمانہ تبدیل کر دیا

انہوں نے بتایا کہ نیشنل ٹیسکٹائل یونیورسٹی کالج آف فیشن کا کیمپس کراچی میں آرہا ہے، یہ ہی راستہ ہے جو منزل کی طرف جارہا ہے۔ کراچی میں پورا پاکستان بستا ہے، اگر اس شہر کو تعلیم یافتہ بنادیں تو پورا ملک تعلیم یافتہ ہوجائے گا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہناتھا کہ ملک کا دارالحکومت کراچی سے لے جانے والے صنعتی، معاشی اور اقتصادی دارالحکومت کا درجہ کراچی سے نہیں چھین سکتے۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More