اٹھارہ لاکھ پاکستانی یو اے ای کی ترقی میں معاون کردار ادا کر رہے ہیں، قونصل جنرل حسین محمد

اے پی پی  |  Apr 02, 2024

دبئی۔2اپریل (اے پی پی):متحدہ عرب امارات میں پاکستانی قونصل جنرل حسین محمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات تقریباً18 لاکھ پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے جو اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، میڈیا کے نمائندگان سفارت خانے اور پاکستانی کمیونٹی کے درمیان پل کاکردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے متحدہ عرب امارات میں مقیم میڈیا پرسنز اور کمیونٹی ممبران کے اعزاز میں افطاری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

قونصل جنرل نے کہا کہ افطاری کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ انتہائی ضروری رابطے کو بڑھانے کے لیے متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کے آئوٹ ریچ اقدام کا حصہ ہے۔ قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کے پریس ریلیز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم میڈیا کے نمائندوں اور کمیونٹی ممبران کا خیرمقدم کرتے ہوئے قونصل جنرل حسین محمد نے میڈیا کے مثبت اور موثر کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آپ سفارت خانے اور پاکستانی کمیونٹی کے درمیان پل ہیں۔

آپ کا کردار اہم پیغامات پہنچانے اور کمیونٹی کے اندر سے فیڈ بیک حاصل کرنے میں بہت اہم ہے جو ان کے مسائل کو حل کرنے میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ حسین محمد نے کہا کہ یو اے ای تقریبا ً18 لاکھ پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے جو اس کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم واضح طور پر میزبان ملک کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان پاکستانیوں کی خدمات کو بروئے کار لایا جو تقریبا ً20 لاکھ خاندانوں کی روزی کا ذریعہ ہیں۔

قونصل جنرل نے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مقامی قوانین کی پابندی کریں، مقامی معاشرے کے اصولوں اور حکومتی پالیسیوں کا احترام کریں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی کمیونٹی کی بہتر آگاہی میں اپنا کردار ادا کریں جو یقینی طور پر بہتر تعمیل کا باعث بنے گا۔ پاکستانی سفارتخانہ ابوظہبی کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن آفاق احمد اور قونصلیٹ اور سفارت خانے کے افسران نے بھی تقریب میں شرکت کی

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More