مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود چکن، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، گھی سستا

ہم نیوز  |  Feb 03, 2024

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کا زور ٹوٹنے لگا ہے اور مسلسل دو ہفتوں سے مہنگائی کی شرح میں کمی کا رجحان جاری ہے تاہم پیٹرول مزید مہنگا ہو گیا ہے۔

ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.28 فیصدکمی ہوئی اور سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بھی کم ہوکر39.45 فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی کا حامل طبقہ زیادہ متاثر ہوا اور مذکورہ طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 43.58 فی صد رہی۔

ناقص منصوبہ بندی کے باعث بجلی صارفین پر 200 ارب روپے کا بوجھ پڑا، نیپرا

ادارہ شماریات نے رپورٹ میں بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران 12 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 17کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔اعدادوشمار میں بتایا گیا کہ حالیہ ایک ہفتے کے دوران چکن، پٹرول، ڈیزل، گوشت سمیت کئی اشیا مہنگی ہوئیں۔

پٹرول 5.20 فیصد، چکن 1.88 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 0.95 فیصد، انرجی سیور 0.70 فیصد، دال مونگ 0.34 فیصد، مٹن 0.33 فیصد، بیف 0.15 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب آلو کی قیمت میں 1.25 فیصد، ٹماٹر 18.28 فیصد، پیاز 6.99 فیصد، کوکنگ گھی 0.36 فیصد، انڈے7.77 فیصد، ایل پی جی 1.53 فیصد، دال مسور 0.80 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0.28 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی ، فی یونٹ قیمت میں 4.56 روپے اضافہ

وفاقی ادارہ شماریات نے بتایا کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 32.79 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 37.66 فیصدرہی۔

22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 43.58فیصد، 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 40.78 فیصد اور44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 37.33 فیصد رہی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More