عام انتخابات، پی ٹی آئی نے تحریک انصاف نظریاتی کے ٹکٹ کیوں لیے

ہم نیوز  |  Jan 13, 2024

اسلام آباد(زاہد گشکوری، ہیڈ ہم انویسٹی گیشن ٹیم) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی ) پلان بی کیلیے پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ رابطے میں ہے کیونکہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو بلا کا نشان نہیں ملتا تو پارٹی پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کا بلے باز کا نشان پر انتخاب لڑ سکتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے امیدواران نے پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے ٹکٹ جمع کرارہے ہیں، لیکن پاکستان تحریک انصاف اس سارے معاملے پر خاموش ہے۔

راجہ ریاض الیکشن سے دستبردار ہو گئے

پارٹی کی اعلی قیادت اس پیش رفت کی نہ تردید نہ تصدیق کررہی ہے، تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ بلے کے نشان کے ساتھ بلے باز کے نشان کی کافی مماثلت ہے یہی وجہ ہے کہ اگر پارٹی کو اپنا نشان نہیں ملتا تو وہ اس نشان کے ساتھ انتخاب میں جاسکتی ہے۔

ہم انویسٹگیشن ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کا پروفائل ہے کیا؟۔ ہم انویسٹگیشن ٹیم کے سربراہ زاہد گشکوری  کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نظریاتی نے ستر سے زائد امیدواران کو 2024 کے انتخابات میں کھڑے کیے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے چکوال سے امیدواران چوہدری عمران نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے رابطے کی تصدیق کی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی اعلی قیادت نے پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے چیرمین اخترڈار سے رابطہ کیا ہے۔

چوہدری عمران نے ہم نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت مزید شئیر نہیں کی جاسکتی ہیں، چوہدری اختر اقبال ڈار نے تحریک انصاف نظریاتی کی بنیاد 2012 میں رکھی تھی۔

گجرات، 5 بھائی ایک ہی ضلع سے الیکشن میں قسمت آزمانے کیلئے تیار

تحریک انصاف نظریاتی فروری 2016 میں الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹر کرائی گئ تھی، پارٹی کو فروری 2016 کو بلے باز کا نشان جاری ہوا ہو تھا۔

تحریک انصاف نظریاتی نے 2018 میں اپنا پہلا انتخاب لڑا تھا، چوہدری اختر اقبال ڈار نے 2007 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے لیکن پارٹی سے نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر اپنی نئی پارٹی بنا لی تھی۔

تحریک انصاف نظریاتی کا ہیڈ کوارٹر شیخوپورہ میں ہے، پارٹی کے 35 امیدواروں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر 2018 میں الیکشن لڑا تھا۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More