انٹراپارٹی الیکشن چھوٹے سے گم نام گاؤں میں کیوں کرائے؟ جسٹس مسرت ہلالی کا استفسار

ہم نیوز  |  Jan 12, 2024

سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

تین رکنی بنچ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو اعتراض یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں تھے،الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے،الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، مخدوم علی خان نے مزید کہا کہ سوال اٹھایا گیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے۔

بلے کا نشان، پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف نے پارٹی آئین تو بہت اچھا بنایا ہے، وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑ سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کون ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ وکیل کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد عمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں،عمر ایوب سیکرٹری جنرل کیسے بنے، الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے؟

اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ انتخابات کسی ہوٹل، کسی گھر یا دفتر میں ہوئے؟ پی ٹی آئی کے وکلاء نے جواب دیا کہ چمکنی کے گراؤنڈ میں ہوئے تھے۔

صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ منظور کر لیا

اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا کوئی نوٹیفکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ پر ہوں گے؟ اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ انٹراپارٹی الیکشن چھوٹے سے گم نام گاؤں میں کیوں کرائے گئے؟

اس سے قبل وکیل حامد خان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ مجھے تیاری کے لیے پیر تک وقت دے دیں۔

جس پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 3 دن تک اگر کیس کو ملتوی کرنا ہے تو پھر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنا ہو گا، ہم تو کل اور پرسوں کام کرنے کے لیے تیار ہیں، ہفتے اور اتوار کی چھٹی قربان کر کے انتخابات کے کیسز سن سکتے ہیں، صرف یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات وقت پر اور قانون کے مطابق ہوں، معلوم ہے کہ اب انتخابات میں وقت کم ہے۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More