پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے 22 دہشت گرد گرفتار: سی ٹی ڈی

اردو نیوز  |  Jan 02, 2024

صوبہ پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے ادارے سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کے مختلف حصوں میں  انٹیلجنس بنیادوں پر آپریشنز کے نتیجے میں 22 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سی ٹی ڈی پنجاب دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے آپریشنز کے دوران کالعدم تنظیموں کے22 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔‘

بیان کے مطابق ’سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں دو سو سے زائد خفیہ آپریشنز کیے جن کے دوران 245 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔

سی تی ڈی کے مطابق ’آپریشنز میں کالعدم تنظیموں کے 22 دہشت گردوں کو گرفتارکر کے ان کے قبضہ سے اسلحہ، دھماکہ خیز و دیگر ممنوعہ مواد برآمد کیا گیا۔‘

بیان کے مطابق ’گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی، سپاہ صحابہ پاکستان،داعش، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد پاکستان سے ہے۔‘

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ان مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری لاہور، بہاولپور، راولپنڈی، فیصل آباد، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، بہاولنگراور سرگودھا میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن کے دوران عمل میں لائی گئی۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ان  دہشت گردوں نے تخریب کاری کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور وہ دہشتگردانہ کارروائی میں اہم تنصیبات کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔

گرفتار مبینہ دہشت گردوں کے خلاف خوشاب، بھکر، گوجرانوالہ، فیصل آباد اوربہاولنگر میں 17 ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کے لیے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

میڈیا کو جاری کئی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ دہشتگردوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ہینڈ گرنیڈ ،آئی ای ڈی بم، کالعدم تنظیم کے سٹیکرز اور نقدی بھی برآمد ہوئی۔

 

رواں ہفتے کے دوران مقامی پولیس اور سکیورٹی اداروں کی مدد سے سی ٹی ڈی پنجاب نے1289 کومبنگ آپریشنز کیے اور چار ہزار 164 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More