چین کی پارلیمان نے شی جِن پنگ کو تیسری مرتبہ صدر منتخب کر لیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کو شی جِن پنگ تیسری مرتبہ پانچ سال کے لیے چین کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔انہوں نے چین کے بانی ماؤ زے تنگ کے بعد ملک کے سب سے طاقتور رہنما کے طور پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔پارلیمان میں نیشنل پیپلز کانگریس کے تین ہزار کے قریب اراکین نے دی گریٹ ہال میں 69 برس کے شی جِن پنگ کو متفقہ طور پر ووٹ دیا تاکہ وہ صدر بن سکیں اور وہاں کوئی دوسرا امیدوار بھی موجود نہیں تھا۔ووٹنگ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور الیکٹرانک گنتی تقریباً 15 منٹ میں مکمل ہوئی۔ شی جِن پنگ ملک کے مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین کے طور پر بھی تیسری مدت کے لیے منتخب ہوئے۔پارلیمان نے ژاؤ لیجی کو چیئرمین اور ہان ژنگ کو نیا نائب صدر چن لیا ہے۔ یہ دونوں افراد صدر شی جِن پنگ کی سابق ٹیم سے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’شی جِن پنگ: دی موسٹ پاورفل مین ان دی ورلڈ‘ کے ساتھی مصنف اڈرین جیجز کا کہنا ہے کہ ان خیال میں صدر شی طاقت اور دولت میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ چین کے لیے ان کا ایک ویژن ہے اور وہ چین کو دنیا میں طاقتور ترین ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ پارلیمان کے تین ہزار کے قریب اراکین نے صدر شی جِن پنگ کو متفقہ طور پر ووٹ دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)لیکن ان کی تیسری مدت کے آغاز پر اور بطور دوسری سب سے بڑی معیشت کے طور پر چین کو بڑی مشکلات، چیلنجز، سست معاشی رفتار، ریئل سٹیٹ بحران اور شرح پیدائش میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔اسی طرح امریکہ کے ساتھ بھی چین کے تعلقات کشیدہ ہیں اور انسانی حقوق، تجارت اور ٹیکنالوجی پر بھی دونوں ممالک کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ایس او ایس چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سٹیو سانگ کا کہنا ہے کہ ’عالمی سٹیج پر ہم ایک ایسا چین دیکھیں گے جو زیادہ خوداعتماد ہوگا اور چاہے گا کہ دنیا اس کے بیانیے کو قبول کرے۔‘