جب ضیا محی الدین کو احساس ہوا ان کی منزل ریڈیو نہیں تھیٹر ہے

بی بی سی اردو  |  Feb 13, 2023

BBC

’میرے والد خادم محی الدین نے مجھے شدھ سنگیت کی پہچان کروائی، انھوں نے مجھے سٹیج سے روشناس کیا، بڑے بخاری صاحب نے اچھے ادب کی طرف اشارہ کیا، کچھ راہ بھی دکھائی۔ چھوٹے بخاری صاحب نے آواز کے اتار چڑھاؤ اور مائیکرو فون کے آداب سکھائے۔‘

’ای ایم فارسٹر علم و فضل کا خزانہ تھے۔ انگریزی ادب میں ان کا مقام ایسا تھا جو ایک صدی میں دو ایک لوگوں کو ملتا ہے۔ دوسروں کی بات ایسے سنتے تھے جیسے ان سے کچھ سیکھ رہے ہوں۔‘

’داؤد رہبر، میں نے ابھی تک کوئی ایسی قرون وسطیٰ شخصیت نہیں دیکھی، ذاتی دکھوں کو اپنی ذات پر حاوی نہ ہونے دینا اور اپنے رویے میں شامل نہ کرنا اور کبھی اس کا اظہار نہ کرنا پیغمبرانہ خوبی ہے۔ صاحب طرز ہونے کی کیفیت اور موسیقی سے حد درجہ عشق ہونے کے باوجود خود اپنی گائیکی کو کسی پر مسلط نہ کرنا۔‘

’ن، م راشد، مجھ میں راشد صاحب کی کوئی بات بھی نہ آئی، جب تک میں راشد صاحب سے نہیں ملا تھا میں سمجھتا تھا کہ مجھے اور کوئی کچھ آتا ہو یا نہ آتا ہو میں شاعری اور اس کی نزاکت کو فوراً پکڑ پاتا ہوں۔ راشد صاحب کے پاس اٹھنا بیٹھنا ہوا تو معلوم ہوا کہ جسے میں اردو شاعری سمجھتا تھا وہ اصل میں ہائے اللہ، اوئی اللہ قسم کی چیز ہے اور اردو میں اچھی شاعری اتنی بہت سی ہے بھی نہیں۔‘

یہ ہے اس خط کا اقتباس جو ضیا محی الدین نے اپنے بھانجے شوکت زین العابدین کو لکھا۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب شوکت زین العابدین ان کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہے تھے۔

BBC

ضیا محی الدین پانچ بہنوں کے سب سے چھوٹے بھائی تھے ،ان سے پہلے ان کے تین بھائی فوت ہوچکے تھے۔ پانچ بہنوں کی ولادت کے بعد ان کی پیدائش ان کے والدین کے لیے ایک بڑی خبر تھی۔

والد خادم محی الدین تدریس، موسیقی اور ڈرامے کے شعبوں سے وابستہ تھے۔ موسیقی اور ڈرامے کے موضوع پر چند کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ضیا ان کے اکلوتے بیٹے تھے تو ان کو خواہش تھی کہ وہ ضرور بڑا آدمی بنے اور ان تمام شعبوں میں نام پیدا کرے جن سے خود وابستہ تھے۔ ضیا محی الدین سینٹرل ماڈل سکول میں پڑھا کرتے تھے، اس سکول میں خادم محی الدین نے ایک سٹیج ڈرامہ کروایا جس کا نام دیوتا تھا۔ اس سٹیج ڈرامے میں ضیا محی الدین نے ایک چھوٹے سے سکول کے طالب علم کا کردار نہایت خود اعتمادی سے ادا کیا۔

سکول سے نکلے تو گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے جہاں انھوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے جہاں ایک جانب پطرس بخاری، رفیع پیر، ذوالفقار علی بخاری ،رشید احمد اور شوکت تھانوی کی صحبت میسر آئی اور دوسری طرف اعجاز بٹالوی، ضیا جالندھری اور ظہور آذر جیسے دوست ملے۔

ان کے سپرد مختلف پروگرام ہوئے جن میں احباب کے انٹرویو، یونیورسٹی کے طلبا کا پروگرام اور نیوز براڈ کاسٹنگ شامل تھے۔

سنہ 1951 میں انپیں کولمبو پلان کے تحت آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن میں تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس فیلوشپ نے ضیا محی الدین کی زندگی بدل دی۔

ضیا محی الدین کہتے ہیں کہ ’آسٹریلیا میں مجھے احساس ہوا کہ میری منزل ریڈیو نہیں تھیٹر ہے۔‘ چنانچہ وہ ایک طرف براڈ کاسٹنگ کی تربیت حاصل کرتے رہے اور دوسری طرف بطور ایکٹر، ڈائریکٹر اور مصنف تھیٹر میں بھی حصہ لیتے رہے۔ آسٹریلیا میں قیام کے دوران ہی انھوں نے ریڈیو پاکستان کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا۔

ان کی اگلی منزل لندن تھی، زیڈ اے بخاری کو جب ان کے عزائم کا پتا چلا تو انھوں نے ضیا محی الدین کی حوصلہ افزائی کی اور نہ صرف ان کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کر لیا بلکہ انگلینڈ میں کچھ لوگوں سے ملاقات کا مشورہ بھی دیا۔

آسٹریلیا میں قیام کے دوران ہی انھیں افسانہ نگاری کا شوق چڑھا، ان کی کچھ کہانیاں لاہور کے ادبی پرچوں میں شائع بھی ہوئیں مگر بعد میں انھوں نے اپنی ان تمام کہانیوں کو ڈس اون کر دیا۔

انھوں نے خود بتایا کہ ’ہمارے سارے گھرانے میں لکھنے لکھانے کی ایک روایت تھی، میرے تایا پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال تھے جو کئی اہم کتابوں کے مرتب اور مترجم تھے، ان کے بیٹے داؤد رہبر مستقل لکھتے لکھاتے تھے، ابا جی ریڈیو ٹاک، ہلکے پھلکے خاکے اور ڈرامے لکھتے تھے۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کے مکالمے بھی انھوں نے ہی تحریر کیے تھے، مگر میرے لاشعور میں کہیں پطرس بخاری کی ذات تھی جس سے لکھنے اور انگریزی ادب پڑھنے کی راہیں کھلیں۔ انگلینڈ جا کر میں نے شیکسپیئر کا کھیل دیکھا تو پتا چلا کہ یہ تو معرفت کا وہ مقام ہے جسے دیکھا جائے، کھنگالا جائے اور پڑھا جائے۔‘

ضیا محی الدین لندن میں رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس سے وابستہ ہوئے، جس نے ان کے انداز زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اب ڈرامہ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ بی بی سی سے بھی بطور پروڈیوسر وابستہ ہوئے، جہاں انھوں نے ڈیڑھ سال بطور پروڈیوسر خدمات انجام دیں۔

سنہ 1956 میں وہ اپنے والد کی علالت کی وجہ سے چند ماہ کے لیے پاکستان آئے۔ اسی سفر میں کراچی جانے کا اتفاق بھی ہوا جہاں انھوں نے خواجہ معین الدین کا ڈرامہ ’لال قلعے سے لالو کھیت تک دیکھا‘ اوربعد میں انھوں نے اس ڈرامے پر لیکچر بھی دیا۔ ان کا ایک اور پسندیدہ ڈرامہ ’مرزا غالب بندر روڈ پر‘ تھا جسے انھوں نے پروڈیوس بھی کیا۔ کراچی سے وہ لاہور آئے جہاں انھوں نے فرید احمد اور محسن شیرازی کے ساتھ شیکسپیئر اور کئی دوسرے ادیبوں کے چند ڈرامے سٹیج کئے، یہ ڈرامے بھی بہت پسند کئے گئے۔

سنہ 1960 میں انھیں انگلینڈ سے آئی ہوئی ایک ٹیم نے ای ایم فارسٹر کے ناول اے پیسج ٹو انڈیا پر بننے والی فلم کے لیے منتخب کر لیا اور انھیں ڈاکٹر عزیز کا کردار عطا کیا۔ اس فلم نے ضیا محی الدین کی شہرت کو آسمان پر پہنچا دیا اور وہ ایک بین الاقوامی اداکار کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

اے پیسج ٹو انڈیا کے بعد ان کی اگلی فلم لارنس آف عربیہ تھی، اس فلم میں انھوں نے ایک گائیڈ کا کردار ادا کیا۔سنہ 1963 میں وہ انگلینڈ میں ہی تھے کہ ان کے والد خادم محی الدین انتقال کر گئے۔

اگلے برس پاکستان میں ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو وزارت اطلاعات و نشریات نے ضیا محی الدین کو اس ادارے کے مشیر کے عہدے پر خدمات انجام دینے کی پیشکش کی، مگر بعض مسائل کی وجہ سے یہ بات آگے نہ بڑھ سکی۔

1971 میں ضیا محی الدین نے پاکستان ٹیلی وژن کو ایک سٹیج پروگرام کا آئیڈیا پیش کیا جس کا پہلا پروگرام جنوری 1971 میں نشر ہوا۔ اس پروگرام کے ذریعے ضیا محی الدین اپنی شہرت کے بام عروج پر پہنچ گئے۔ یہ پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا جانے والا پہلا سٹیج پروگرام تھا، اس پروگرام میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں جوش ملیح آبادی، مشتاق احمد یوسفی، خوش بخت عالیہ، محمد علی، شمیم آرا، وحید مراد، صبیحہ خانم، حفیظ جالندھری، رونا لیلیٰ، نیر سلطانہ، نیلو، منور ظریف، ناہید صدیقی، مہاراج کتھک، اعجاز حسین بٹالوی، اشفاق احمد، صفدر میر اور نور جہاں غرض اس زمانے کی ہر اہم شخصیت شامل تھیں۔

ضیا محی الدین شو کی کامیابی کے بعد پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا جانے والا ان کا اگلا پروگرام پائل تھا، جس میں اداکارہ ناہید صدیقی رقص پیش کرتی تھیں اور سکرپٹ اور کمپیئرنگ کے فرائض ضیا محی الدین انجام دیتے تھے۔

1975 میں پاکستان ٹیلی وژن نے ان کا پروگرام ضیا محی الدین کے ساتھ پیش کیا جو ادبی سماجی مسائل پر مبنی تھی، اسی دوران انھوں نے آغا ناصر کے ترجمے کردہ ڈرامے مارخیم میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔

انھوں نے چند فلموں میں بھی مرکزی کردار ادا کیے جن کے نام مجرم کون؟ اور سہاگ تھے مگر ضیا محی الدین پاکستانی فلمی صنعت کے معیارات پر پورا نہ اتر سکے۔

انھوں نے ضیا سرحدی کی ایک فلم آخر شب میں کام کیا مگر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ سنہ 1975 کے لگ بھگ ضیا محی الدین پی آئی اے آرٹ اکیڈمی سے بطور ڈائریکٹر وابستہ ہوئے۔ اس اکیڈمی کے ذریعے ضیا محی الدین نے ایران، مصر، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، کوریا، چین، سپین، الجزائر، مراکش، تیونس، اردن، روس، مالٹا، فرانس، جاپان غرض دنیا بھر میں پاکستانی ثقافت کو متعارف کروایا مگر بہت جلد یہ اکیڈمی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہو کر بند ہو گئی۔

اب وہ مستقل طور پر برمنگھم میں مقیم ہو گئے اور گاہے گاہے وطن بھی آتے رہے جہاں انھوں نے کچھ ٹیلی وژن پروگراموں میں بھی حصہ لیا اور پڑھنے کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں وہ سال کی آخری شام 31 دسمبر کو اردو کے نثری اور شعری شاہکاروں کو سٹیج پر پیش کرتے تھے۔ 1986 میں انھوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے فیض احمد فیض کی شاعری پر پروگرام فیض صاحب کی محبت میں پیش کیا۔ 1995 میں ان کے بھانجے شوکت زین العابدین نے ان کا ٹیلی وژن پروگرام ضیا کے ساتھ پیش کیا۔

2002 میں ان کا ایک اور ٹیلی وژن پروگرام جو جانے وہ جیتے سامنے آیا جو کون بنے گا کروڑ پتی سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ضیا محی الدین میزبانی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ اس پروگرام کے پروڈیوسر ایوب خاور تھے جبکہ اس کی ریسرچ اور سکرپٹ رائٹنگ راقم کے ذمے تھی۔ ایوب خاور سے ان کے تعلقات عمر بھر قائم رہے۔ ایوب خاور نے دنیائےٹیلی وژن کے لیے ان کا ایک خصوصی پروگرام بھی ریکارڈ کیا جو اب تک نشر نہیں ہو سکا مگر اب اس کے نشر ہونے کا وقت آچکا ہے۔

سنہ 2004 میں ضیا محی الدین کو کراچی میں پرفارمنگ آرٹس کا ایک ادارہ قائم کرنے کی پیش کش ہوئی۔ ضیا محی الدین نے یہ پیشکش قبول کی اور یوں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا وجود عمل میں آیا۔ ضیا محی الدین کی عمر اب 72 سال ہو چکی تھی مگر پھر بھی وہ 18 سال تک اس ادارے میں خدمات انجام دیتے رہے اور کراچی کی نئی نسل کو تھیٹر ، موسیقی اور اداکاری کا ایک شان دار ادارہ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ ادارہ اب کراچی کی شناخت بن چکا ہے۔

ضیاء محی الدین کی متفرق تحریریں ’اے کیرٹ از اے کیرٹ‘ کے نام سے شائع ہوئی تھیں۔ان کی ایک کتاب ’دی گاڈ آف مائی اڈولیٹری‘ بھی شائع ہوئی۔تھیٹر کے موضوع پر بھی ان کے مضامین کے مجموعے کا ترجمہ تھیٹریات کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی تحریروں کا یہ ترجمہ خالد احمد نے کیا تھا۔

ضیاء محی الدین نے تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی پہلی اہلیہ کا نام سرور تھا جن سے ان کے دو بیٹے ہیں، دوسری بیوی ناہید صدیقی تھیں اور تیسری عذرا محی الدین جو ان کی ایک بیٹی کی ماں بنیں۔ حکومت پاکستان نے ضیا محی الدین کو تمغہ امتیاز ، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز سے سرفراز کیا تھا۔

20 جون 1931 کو فیصل آباد میں جنم لینے والے اس نابغہ روزگار فن کار نے آج کراچی میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ سٹیج پر اپنے فن کے ان مٹ نقوش رقم کرنے والا فنکار ہمیشہ کے لیے سٹیج کے پیچھے چلا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More