Getty Images
پاکستان میں پیر کی صبح پاور بریک ڈاون کے بعد 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ملک کے کئی علاقوں میں بجلی تا حال بحال نہیں ہو سکی ہے۔
اس حوالے سے وزیرِ توانائی خرم دستگری کا کہنا ہے کہ نیشنل گرڈ کے تمام گرڈ سٹیشنز بحال ہو چکے ہیں تاہم کوئلے اور جوہری پاور پلانٹس کو ترسیلی نظام سے دوبارہ لنک ہونے کے لیے 48 سے 72 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کا موجودہ تعطل ان پلانٹس کے دوبارہ چلنے تک ’لوڈ مینجمنٹ‘ کی وجہ سے ہے۔
اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں رات گئے تک بجلی کی کہیں مکمل اور کہیں جزوی بحالی کی متضاد اطلاعات موصول ہوتی رہیں تاہم کئی جگہ بجلی کی آنکھ مچولی سے دن کے سکون کے ساتھ رات کی نیند بھی روٹھی رہی۔
بجلی نہ ہونے سے ہر شعبہ زندگی کے معمولات متاثر ہوئے یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر آج پھر ہیش ٹیگ ’بلیک آوٹ‘ اور ہیش ٹیگ ’پاور بریک ڈاون‘ کے نام سے موجود ہیں۔
ان ٹرینڈز میں بجلی کی عدم موجودگی سے نہ صرف اپنی مشکلات کا رونا روتے دکھائی دیے بلکہ پاکستان کے بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی نا اہلی پر بھی سوال اٹھاتے رہے۔
یاد رہے کہ حکام کے مطابق پیر کی صبح 7:34 نیشنل گرڈ کی سسٹم فریکوئنسی کم ہوئی تھی جس سے بجلی کے نظام میں وسیع بریک ڈاؤن ہوا۔
وزیرتوانائی خرم دستگیر نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ ’وولٹیج فلکچویشن ہوئی جس کی وجہ سے سسٹم ایک ایک کرکے بند ہوئے ہیں، بریک ڈاؤن جنوب سے شمال تک آیا۔‘
وزارتِ توانائی نے منگل کی صبح اپنی ٹویٹ میں آگاہ کیا ہے کہ نیشنل گرڈ کے تمام 1112 گرڈ سٹیشنز بحال ہو چکے ہیں۔
وزارتِ توانائیکے مطابق ’تقریباً 6600 MW کوئلے اور 3500 MW کے نیوکلیئر پاور پلانٹس کوایمرجنسی شٹ ڈاؤن کے بعد ترسیلی نظام سے دوبارہ لنک ہونے کے لیے 48 سے 72 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
’لہٰذا تب تک دو سے چار گھنٹے لوڈمینیجمنٹ کرنی پڑ سکتی ہے۔‘
https://twitter.com/NTDC_Pakistan/status/1617727589333995520?s=20&t=FBwpM2C_XDbmIWIJpvT1jA
وزارتِ توانائی کے اس اعلان کے باوجود سوشل میڈیا پر صارفین کے بجلی کے روٹھے رہنے کا شکوہ جاری ہے۔
بلوچستان کے کئی شہروں سمیتکراچی، پشاور راولپنڈی کے حوالے سے کئی سوشل میڈیا صارفین نے بتایا کہ ان کے علاقے میں منگل کی صبح تک بجلی نہیں آئی۔ کچھ نے بجلی کے آتے ہی اس کے جانے کی بپتا بھی سنائی۔
اسد نامی صارف نے کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے حوالے سے بتایا کہ 20 گھنٹے بعد آنے والی بجلی ایک گھنٹے بعد پھر چلی گئی۔
اس حوالے سے کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ’کراچی اور نیشنل گرڈ کے درمیان رابطہ بحال ہونے سے کراچی شہر کو سپلائی مزید بہتر کرنے میں مدد ملی ہے اور کے الیکٹرک اہم تنصیبات بشمول ایئرپورٹ، ہسپتال، واٹر پمپنگ سٹیشن وغیرہ پر بجلی بحال کی جا چکی ہے۔
’اس وقت کے الیکٹرک کے تمام گرڈز فعال ہیں اور علاقائی سطح پر بحالی کا عمل بھی جاری ہے تاہم سسٹم کو سٹیبل رکھنے کے لیے شہر میں محدود پیمانے پر عارضی لوڈ مینجمنٹ کی جا سکتی ہے۔‘
https://twitter.com/Assu1990/status/1617732340419297280?s=20&t=UaFedpa5GlgyOEUiyq_-zA
لاہور سے ایک ٹوئٹر صارف کے مطابق لائٹ آ کر دوبارہ چلی گئی ہے۔رات کو سوئے تو بجلی آ گئی صبح صبح پھر چلی گئی۔
ایک اورٹوئٹر صارف نے بجلی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’سب شکر کرو، آکسیجن کا کنٹرول ان حکومت والوں کے ہاتھ میں نہیں۔‘
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی پیسکو کے مطابق ’23 جنوری کی رات ساڑھے نو بجے کی صورتحال کے مطابق 120 میں سے صرف 30 گرڈ سٹیشن بحال ہو سکے تھے۔‘
خیال رہے کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا کوئی پہلا بریک ڈاؤن نہیں ہے۔ پاکستان عوام کو تقریباً ہر موسمِ سرما میں اس طرح کے بجلی معطلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ ٹرانسمیشن لائن میں اچانک ’فالٹ‘ آنا بتایا جاتا ہے۔
ادھر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی بندش کے باعث صارفین کو سروسز کی فراہمی میں خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس ضمن میں موبائل فون آپریٹروں کو اپنے متعلقہ صارفین کو صورتحال کے حوالے سے مطلع کر نے کو کہا گیا ہے اور سائٹس کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو جنریٹر کے ذریعے فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بریک ڈاؤن کی وجہ کیا بنی تھی ؟
خرم دستگیر نے گذشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ'یہ کوئی بڑا بریک ڈاؤن نہیں ، موسم سرما میں ملک بھر میں بجلی کی طلب کم ہونے اور معاشی اقدام کے تحت ہم رات کے وقت بجلی پیدا کرنے کے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں، تاہم آج صبح جب سسٹم کو فعال کیا گیا تو دادو اور جامشورو کے درمیان کہیں فریکوئنسی اور وولٹیج میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔‘‘
این ٹی ڈی سی کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خرابی گدو کوئٹہ ٹرانسمیشن لائن میں آئی تھی۔ ان کے مطابق ایسی خرابی چند سیکنڈ میں رونما ہوتی ہے اور پھر اس سے بریک ڈاؤن ہو جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق اس بریک ڈاؤن کی وجہ ٹرانسمیشن سسٹم کا پرانا ہونا، دھند کی وجہ سے لائنز میں نمی کا ہو جانا اور پھر بعض دفعہ فریکوئنسی میچ نہ کرنے کی وجہ بھی بجلی کی فراہمی میں تعطل کی وجہ بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں رواں ماہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن، دو صوبے متاثر
لوڈشیڈنگ: ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے میں پاکستان کو کیا نقصان ہے؟
بحالی کا سلسلہ مرحلہ وار جاری، گڈو بیراج کے سات اہلکار غفلت پر معطل
ایک سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھا کہ اگر وقت پر کسی فالٹ کے بارے میں پتا چل جائے تو پھر ایسے میں اس ٹرانسمشن لائن کو آئسولیٹ کر دیا جاتا ہے مگر یہ سب بہت کم وقت پر ہی ممکن ہوتا ہے۔
تاہم وزیر توانائی خرم دستگیر نے صرف وولٹیج فلکچوئیشن کو ہی ہی بریک ڈاؤن کی وجہ بتایا ہے۔
ماہرین کے مطابق بریک ڈاؤن سے جہاں روزگار زندگی متاثر ہوتے ہیں وہیں ہیوی انڈسٹری کا نظامبھی ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے کیونکہ ایسی صنعت کو ’بیک اپ سپورٹ‘ بھی کافی دیر تک میسر نہیں ہوتی۔