جانگیا پہنے بچے کے ہاتھ میں بندوق، پولیس نے لائیو شو میں باپ کو گرفتار کر لیا

بی بی سی اردو  |  Jan 19, 2023

امریکی ریاست انڈیانا میں لائیو ٹی وی شو کے دوران ایک شخص کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس کا چار سالہ بیٹا نیپی پہنے ہاتھ میں بندوق لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ 45 سالہ شین اوسبورن پر اس وقت کوتاہی برتنے کا الزام عائد کیا گیا جب پڑوسیوں نے ایک رہداری میں موجود ایک بچے کی اطلاع دی جس کے ہاتھ میں ایک ہینڈگن تھی۔

اس گرفتاری کو ٹی وی شو آن پٹرول: لائیو میں فلمایا گیا تھا۔

شو میں نگرانی کرنے والے کیمروں کی ایک ویڈیو نشر کی گئی تھی جس میں مبینہ طور پر لڑکے کو ہتھیار سے کھیلتے ہوئے اور ٹرگر کھینچتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اوسبورن نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ گھر میں کوئی ہتھیار نہیں تھا اور دعویٰ کیا کہ وہ سارا دن بیمار رہتے ہیں اور سوتے رہتے ہیں۔

’میرے پاس بندوق نہیں ہے۔‘

وہ شو میں پولیس کو بتاتے ہیں ’میں اس گھر میں کبھی بندوق نہیں لایا، اگر ہے تو یہ میرے کزن کی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یہ احساس نہیں تھا کہ ان کا بیٹا باہر اپارٹمنٹس کی راہداری میں موجود تھا۔

افسران ابھی بھی جائے وقوعہ پر تھے کہ ایک پڑوسی نگران کیمرے کی ویڈیو کے ساتھ افسران کے پاس آیا۔ ویڈیو میں چھوٹے بچے کو راہداری میں دکھایا گیا تھا اس کے پاس ایک حقیقی آتشیں اسلحہ دکھائی دیتا ہے۔

اس کے بعد پولیس کو اوسبورن کے اپارٹمنٹ سے آتشیں اسلحہ ملا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔

یہ سب ٹی وی شو پر براہ راست نشر کیا گیا جو ریلز چینل پر نشر ہوتا ہے۔ اوسبورن کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

بیچ گروو کے میئر ڈینس بکلی نے مقامی سٹیشن ڈبلیو ٹی ایچ آر کو بتایا کہ وہ اس واقعے سے ’غم زدہ‘ ہیں۔

’جیسا کہ آپ سب کے ساتھ، میں بھی غمزدہ ہوں اور جو کچھ ہوا اور میں بہت شکر گزار ہوں کہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچی، خاص طور پر چھوٹے بچے کو۔‘

انھوں نے کہا، ’میں بیچ گروو پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے چھوٹے بچے اور زیربحث بندوق کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی فوری کارروائی کی تعریف کرتا ہوں۔‘

یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جو کچھ روز قبل ہی ایک چھ سالہ طالب علم نے مبینہ طور پر ورجینیا کے ایک ایلیمنٹری سکول میں اپنی استانی کو ہینڈگن سے گولی مار دی تھی۔ پولیس  کے مطابق اس نے ایسا ’جان بوجھ کر‘ کیا تھا۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More