لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پر مشاورت کے لیے دیا گیا وقت ختم ہو گیا لیکن اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے اس ضمن میں آئین و قانون کے تحت اسپیکر پنجاب اسمبلی کو باقاعدہ مراسلہ بھیج دیا جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 اے 2 کے تحت نگراں وزیرِاعلیٰ کے تقرر کے آئینی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
واضح رہے کہ گورنر کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔
آئین و قانون کے تحت اگر دیے گئے وقت میں نگراں وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق نہ ہو سکے تو پھر یہ معاملہ اسپیکر اسمبلی کو بھیجا جاتا ہے جہاں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
شطرنج کی چال چلی ہے، اعتراض نہیں ہونا چاہیے، خواجہ آصف
گورنر پنجاب کی جانب سے لکھے گئے خط کے بعد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم ہو گی اور اس کے پاس بھی نگراں وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تین دن کا وقت ہو گا۔