پشاور: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ 2013 میں ایک وفد نے ہمیں تین میٹنگوں میں قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہودیوں کے ایجنٹوں کو تسلیم کریں اور صوبائی حکومت کے ساتھ نرم رویہ رکھیں۔
امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے جمعیت لائرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا سیاست صرف اقتدار تک پہنچنے کیلئے چالاکیوں اور ہوشیاریوں کا نام ہے؟
انہوں نے کہا کہ 1973 سے اب تک اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک بھی سفارش پر عمل نہیں کیا گیا، جب تک آئین کی اساس موجود ہے ہم جدوجہد کرتے رہیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 2013 میں ایک وفد نے نئی حکومت کے قیام کے بعد تین میٹنگوں میں قائل کرنے کی کوشش کی کہ صوبائی حکومت کے ساتھ نرم رویہ رکھا جائے، دنیا کی معیشت یہودیوں کے پاس ہے ان کے ایجنٹوں کو تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور دیگر کمپینوں کے ذریعے ہماری معیشت کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ نے جمعیت لائرزفورم کے زیراہتمام وکلا کنونشن کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام لوگوں کے حقوق کے تحفظ سے ہی پرامن معاشرے کا قیام ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے سیاستدانوں کو سیاست کے لفظ کا بھی پتہ نہیں، سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، سیاست معاشرے اور لوگوں کو متحد کرنے کا نام ہے۔
امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ دنیا کے ہر خطے میں انسانوں کے تحفظ کیلئے قوانین بنائے گئے ہیں، جہاں قانون ہوگا وہاں قانون کی حکمرانی لازم ہوگی، ریاست کے تحفظ کیلئے سیاسی ،معاشی اور دفاعی قوت ناگزیر ہوتی ہے۔
دسمبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح میں ساڑھے24 فیصد اضافہ
وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، حکمران طبقہ بھی اس سے مبرا نہیں ہے، ریاست کا کام لوگوں کو تحفظ دینا اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہوتاہے، کسی بھی ملک کیلئے معاشی، سیاسی اور دفاعی قوت بہت اہم ہوتی ہے۔