انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں سال 2023 کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی ایک سڑک حادثے میں ایک نوجوان خاتون کی المناک موت ہوئی جس پر شہریوں کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق کار سے ٹکرانے کے بعد لڑکی کا جسم کار میں پھنس گیا اور وہ کئی کلومیٹر تک گھسیٹتی چلی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس متاثرہ لڑکی کو دہلی کے منگل پوری میں واقع ایس جی ایم ہسپتال لے گئی جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر اس سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے اور لوگ اسے بے حسی کی انتہا قرار دے رہے ہیں۔
ایک میڈیا ہاؤس نے لکھا کہ ’لڑکی کو 12 کلومیٹر تک گھسیٹا گیا‘ جبکہ بعض دیگر نے ’چار کلومیٹر‘ کا دعویٰ کیا ہے۔
دہلی کے ڈی سی پی ہریندر سنگھ کے مطابق ’لڑکی کے جسم کے پچھلے حصوں اور سر کے پچھلے حصے پر شدید قسم کے زخم آئے۔‘
سوشل میڈیا پر ’ریپ اور قتل‘ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ محض ایک حادثہ ہے۔ متاثرہ لڑکی کے ساتھ ریپ کے شواہد نہیں۔‘
نیوز ایجنسی اے این آئی نے ڈی سی پی سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ اس معاملے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کی شناخت گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کی بنیاد پر کی گئی۔
اے این آئی نے متاثرہ لڑکی کی والدہ کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے ’اب تک اپنی بیٹی کی لاش نہیں دیکھی۔‘ پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
دوسری طرف اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے دلی کی خواتین کمیشن نے دہلی پولیس کو نوٹس دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یکم جنوری بروز اتوار صبح 3:24 بجے کنجھاوالا پولیس سٹیشن کو فون کال کے ذریعے اطلاع ملی کہ ایک کار ایک شخص کو گھسیٹ رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ’صبح 4.11 پر ایک اور کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک لڑکی کی لاش سڑک پر پڑی ہے۔‘
ڈی سی پی ہریندر سنگھ نے کہا کہ ’یہ سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک بدقسمت حادثہ تھا۔ گاڑی کو روکنے اور متاثرہ کی مدد کرنے کے بجائے، وہ (کار ڈرائیور) اسے گھسیٹتا رہا۔‘
https://twitter.com/ANI/status/1609536753588908032
’ہوسکتا ہے کہ شروع میں انھیں معلوم نہ ہوا ہو کہ کوئی گاڑی کے نیچے ہے لیکن بعد میں جب انھیں معلوم ہوا تب بھی انھوں نے غلطی کو سدھارنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ملزمان نے بتایا ہے کہ گاڑی میں اونچی آواز میں میوزک چل رہا تھا۔‘
کیا وہ نشے میں تھے؟ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ نشے میں تھے یا نہیں اس کی تفتیش کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں۔ پولیس کو جو کال موصول ہوئی وہ اس شخص نے کی تھی جو گاڑی کے پیچھے تھا، اسے لگا کہ گاڑی سے کسی کو گھسیٹا جا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں گاڑی کا نمبر مل گیا۔ کار کا مالک خود گاڑی میں نہیں تھا لیکن اس کے دوستوں نے اس سے گاڑی لی تھی۔ ہم پانچوں لوگوں کے گھر پہنچے اور انھیں گرفتار کر لیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
انڈین کرکٹر رشبھ پنت حادثے میں زخمی، مرسیڈیز کار جل کر تباہ
سڑک حادثہ جس میں ایک آل راؤنڈر عین جوانی میں دنیا سے گیا لیکن دوسرا بعد میں عظیم آل راؤنڈر بنا
’ملزمان نے بتایا کہ کافی دور جانے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ لاش کو گاڑی کے ساتھ گھسیٹا جا رہا ہے۔ وہاں انھوں نے اپنی گاڑی کو پیچھے کیا۔ جسم الگ ہو گیا اور پھر وہ چلے گئے۔‘
ڈی سی پی نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر جو تصویر اور ویڈیو دکھائی جا رہی ہے وہ سامنے (جسم کے اگلے حصے) کی ہے۔ ہمارے پاس پچھلے حصے کی تصویریں بھی ہیں، جہاں جسم اور سر کا پچھلا حصہ پوری طرح گھس گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ ہے۔ ’سوشل میڈیا پر بغیر کسی تحقیقات کے غلط معلومات دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
https://twitter.com/SwatiJaiHind/status/1609527617249759233
دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خواتین کی حفاظت پر سوال اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر شرابی لڑکوں نے ایک لڑکی کو اس کی کار میں کئی کلومیٹر تک گھسیٹا۔ سڑک پر اس کی لاش برہنہ حالت میں ملی۔ یہ بہت خوفناک معاملہ ہے۔ دہلی پولیس کو سمن جاری کر رہے ہیں کہ نئے سال کے موقع پر وہاں سکیورٹی کے کیا انتظامات تھے؟‘
نیوز ایجنسی اے این آئی نے لڑکی کی ماں کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ابھی تک اپنی بیٹی کی لاش نہیں دیکھی۔
اے این آئے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی میرے لیے سب کچھ تھی، وہ کل (سنیچر) کی شام پنجابی باغ اپنے کام پر گئی تھی۔‘
’میری بیٹی شام ساڑھے پانچ بجے گھر سے نکلی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ رات 10 بجے تک گھر آجائے گی۔ مجھے صبح اس کے حادثے کی اطلاع ملی۔‘
سوشل میڈیا پر مختلف نظریات
فلم ساز اور مصنف ہرینی کلیمر نے لکھا کہ ’خوفناک۔ یہ مرد کتنے نشے میں تھے کہ گھسیٹے جانے کو محسوس بھی نہیں کر سکے؟ اور یہ بھی کہ اگر ان کے نام شہ سرخیوں میں نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق اقلیتی برادری سے نہیں۔‘
بی بی سی کے سابق صحافی شوکانت نے لکھا کہ ’دلی کے سلطان پوری کا واقعہ یہ دکھاتا ہے کہ (شراب) پی کر گاڑی چلانے کی درندگی نے سمجاج کو کتنا درندہ بنا دیا ہے۔‘
’کار کی ٹو وہیلر سے ٹکر ہونے کے بعد رک کر مدد کرنے کی انسانیت تو دور کی بات ہے، زندہ تڑپتی لڑکی کو 12 کلومیٹر تک گھسیٹ لے جانا ظلم کی وہ انتہا ہے جو یہیں ممکن ہے۔‘
https://twitter.com/shivkant/status/1609585381388783618
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’آج صبح کنجھاوالا سلطان پوری میں ہونے والے غیر انسانی جرم پر میرا سر شرم سے جھکا جا رہا ہے اور میں ملزمان کی درندہ صفت غیر حساسیت پر صدمے میں ہوں۔‘
https://twitter.com/LtGovDelhi/status/1609610755086913536
کانگریس کی کارکن ڈکٹر شمع محمد نے لکھا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک لڑکی 12 کلومیٹر تک گھسٹتی چلی جائے اور کوئی نہ دیکھے؟‘
’نئے سال کے موقع پر کوئی پولیس گشت پر کیوں نہیں تھی؟ وہ تقریبا برہنہ کیوں پائی گئی؟ دہلی پولیس کو بہت سے سوالات کے جواب دینے ہیں۔‘
https://twitter.com/drshamamohd/status/1609690952230223874
اسی طرح دیب روپ پالت نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر یہ ایک حادثہ تھا تو لڑکی برہنہ کیوں ہے؟ اور اگر کوئی کار اسے ٹکر مارتی ہے تو وہ چار کلومیٹر تک گھسیٹتی کیسے چلی جائے گی۔‘
’وہ اسی وقت گھیسٹتی چلی جائے گی جب کوئی اسے کار سے باہر پھینکے۔ برہنہ ہوگی اگر اس کا ریپ کیا گیا ہو۔ کیا نئے سال پر دلی پولیس کی یہی تیاری اور سکیورٹی تھی؟‘