سائنسدانوں کے مطابق نئے کورونا وائرس کے 10 فیصد سے زائد مریضوں میں یہ خطرناک مرض ایسے لوگوں سے منتقل ہوا جو متاثر ہوئے مگر ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھی۔
امریکہ میں ٹیکساس یونیورسٹی کی جانے والی اس تحقیق میں امریکا، فرانس، چین اور ہانگ کانگ کے سائنسدان شامل ہوئے اور انہوں نے مریضوں میں کورونا وائرس کی علامات نمودار ہونے کے وقت کا جائزہ لیا۔
سائنسدانوں کے مطابق اس میں ایسے مریض بھی شامل تھے جن میں کسی اور سے یہ وائرس منتقل ہوا جبکہ بعد میں اس مریض سے دوسرا فرد بھی متاثر ہوا۔
کورونا کی وبا پھیلنے کی رفتار کا انحصار 2 عناصر پر ہوتا ہے، یعنی ایک مریض سے مزید کتنے افراد متاثر ہوئے اور لوگوں کے درمیان انفیکشن کی منتقلی کو کتنا وقت لگے گا۔
کووڈ 19 کے مختصر سیریل انٹرول کا مطلب ہے کہ یہ وائرس بہت تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے جس کی روک تھام بہت مشکل ہے۔
ماہرین نے چین کے 93 شہروں میں رپورٹ ہوئے 450 سے زائد کیسز کا جائزہ لیا اور اب تک ٹھوس شواہد حاصل کرنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ بغیر علامات ظاہر کئے بھی یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ یہ شواہد ملنے کے بعد اس کی روک تھام کے لیے اقدامات جیسے آئسولیشن، قرنطینہ، اسکولز کالج کی بندش ، سفر پر پابندی اور عوامی اجتماعات کی منسوخی ہوسکتا ہے کہ مناسب ہوں، مگر بغیر علامات کے وائرس کا ایک سے دوسرے میں منتقل ہونا یقیناً اس کی روک تھام کو زیادہ مشکل بناتی ہے۔
سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس فلو کی طرح ہی پھیل رہا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس وبا کو روکنے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔