پاکستان کے معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے کہا ہے کہ بچوں پر بے انتہا ظلم و تشدد سے متعلق بل اب قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ، اور قانون بھی جلد آئے گا، بچوں کو کوئی شخص غلط طریقے سے دیکھ اور چھو نہیں سکتا، اگر میرا جسم میری مرضی نہیں ہو گی تو کس کی مرضی ہو گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستانی گلوکار شہزاد رائے کی جانب سے بچوں جسمانی تشدد کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بچے کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ان کے جسم کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، یہ بات صرف مردوں اور خواتین تک ہی محدود نہیں، یہ بطور طرز زندگی پوری دنیا میں اس حوالے سے پڑھایا جاتا ہے۔
گلوکار کا کہنا تھا کہ بچوں کو مارنا اسلام کے خلاف بات ہے ، ہم نے عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو جسمانی سزا دینے والے سیکشن 89 کا سہارا لے کر کہتے ہیں کہ بچے کو اچھی نیت سے مارا، جبکہ سیکشن 89 کے مطابق بچوں کے گارجین اچھی نیت کے ساتھ تشدد کی اجازت دے سکتا ہے، والدین یا بچوں کے گارجین کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ بچوں پر بہیمانہ تشدد کی اجازت دیں۔
میڈیا کو سراہتے ہوئے شہزاد رائے نے کہا کہ میڈیا کا میں بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس معاملے پر میرا ساتھ دیا۔ قومی اسمبلی میں بل کا جانا ہماری کامیابی ہے۔
شہزاد رائے کے وکیل نے اس حوالے سے بات چیت میں بتایا کہ تقریباً 2 کروڑ چالیس لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے اور کئی طلبہ ٹیچرز کی مار کے سبب اسکول جانا چھوڑ دیتے ہیں۔