نوبل ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بتایا کہ جب میں چھوٹی تھی تو لوگ مجھ سے سوال کرتے تھے کہ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتی ہوں؟ میں پہلے کہتی تھی کہ مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق ہے، کبھی کہتی کہ وزیراعظم بنوں گی، پھر اپنی تمام تر توجہ یونیورسٹی کی تعلیم پر مرکوز کر دی۔
سوشل میڈیا پر ٹوئٹر پیغام میں ملالہ کا کہنا تھا کہ دیگر نوجوانوں کی طرح مجھے نہیں معلوم کہ میرے کیریئر کا راستہ کیا ہوگا، لیکن میں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتی ہوں، اور یہ بھی چاہتی ہوں کہ تمام نوجوان خواتین اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کے عالمی دن پر لڑکیوں کی اپنے مستقبل سے متعلق خواہشات کی خوشی منانا چاہتی ہوں، اور بتانا چاہتی ہوں نوجوان خواتین اپنے کیریئر کے حوالے سے کیا خواب دیکھتی ہیں۔