دنیا بھر میں کورونا وائرس نے تباہی مچا رکھی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے لوگوں میں یہ خوف کا باعث بن چکا ہے۔
پاکستان میں اس وائرس کی تشخیص ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف علاج بتائے جانے لگے جو کہ غیر تصدیق شدہ ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق جب بھی اس قسم کا کوئی وبائی مرض آتا ہے، اس کے ساتھ ہی چند افراد اپنی اپنی رائے ٹوٹکوں کی صورت میں دینے لگتے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک سے دو، پھر دو سے چار افراد میں پھیل جاتا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا لیکن اس کا نقصان براہ راست انسانی صحت پر ہوتا ہے۔
سول اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر خادم قریشی اور ڈاکٹر فرحان عیسیٰ کا کہنا ہے کہ دواؤں کا تعلق براہ راست انسانی جان سے ہوتا ہے۔
ایسا کوئی بھی نسخہ ہو جو دواؤں، ٹوٹکوں اورعلاج سے متعلق ہو اسے آگے نہ بڑھائیں۔