اگر آپ بھی کرائے کے گھر پر رہتے ہیں یا آپ نے اپنا گھر کرائے پر دِیا ہوا ہے؟ تو جان لیں چند ایسے قوانین جن کا آپ کو علم نہیں

ہماری ویب  |  Feb 28, 2020

آج کل مکان بنانا اور اسے کرائے پر دینا ایک کاروبار بن چکا ہے۔ لوگ جس تیزی سے اپنے مکان بنوا رہے ہیں اسی تیزی سے لوگ کرائے پر بھی لیتے نظر آرہے ہیں۔

لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب کرائے دار اور مالک مکان دونوں کو ہی بنیادی قوائد و ضوابط کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی۔

آج ہم آپ کو چند قوانین کے بارے میں بتائیں گے جو آپ کے لئے جاننا بے حد ضروری ہیں۔

گھر کی مرمت اور ٹیکس وغیرہ

پانی، بجلی، پینٹنگ، سینیٹری فٹنگ، ٹیکسز اور سفیدی سمیت مرمت کے تمام اخراجات مالک مکان ادا کرے گا، اس میں ماہانہ بل شامل نہیں۔ اگر ان میں سے کسی بھی مرمتی کام پر کرایہ دار پیسہ خرچ کرے تو وہ ماہانہ کرایہ میں سے کاٹے جائیں گے۔

کرایہ کی ادائیگی

کرایہ ادا کرنے کی تاریخ اگر ریگریمنٹ میں طے نہیں کی گئ تو پھر ہر ماہ کی 10 تاریخ تک ادا کرنا لازمی ہے۔ کرایہ دار کو چاہئے کہ ہر ماہ کا کرایہ ادا کرنے کے بعد مالک مکان سے دستخط شدہ رسید وصول کرے۔

کرایہ داری کا دورانیہ

کرایہ داری معاہدے کا عام دورانیہ ایک سال ہوتا ہے مگر دونوں پارٹیاں آپسی مشورے اور مرضی سے دورانیہ بڑھا سکتے ہیں۔

قانون کے مطابق ایک مالک مکان اپنے کرایہ دار کو ان وجوہات کی بنا پر اپنا گھر خالی کروانے کا کہہ سکتا ہے۔

مکان کو نقصان پہنچانا

مسلسل تین ماہ تک کرایہ ادا نہ کرنا

جب مالک مکان انتقال کرجائے یا نوکری سے ریٹائر ہوجائے

جس مقصد کیلئے گھر کرایہ پر حاصل کیا، مالک مکان کی مرضی کے بغیر اس سے ہٹ کر کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنا

کرایہ پر لیا گیا گھر مالک مکان کو اطلاع دیے بغیر کسی اور کو کرایہ یا لیز پر دینا

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More