لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا سے 2 شہریوں کے اغوا ہونے کی دائر درخواست مسترد کر دی گئی، عدالت نے یہ درخواست مبینہ مغویوں کے خلاف امانت میں خیانت کا مقدمہ درج ہونے کی بناء پر خارج کی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوارالحق پنوں نے شہری محمد حسن کی درخواست پر سماعت کی، خاتون اول بشریٰ بیگم کے بیٹے ابراہیم مانیکا عدالتی طلبی پر پیش ہوئے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نےاس کے ایک بھائی اعجاز احمد پراپرٹی ڈیلر کو 11 دسمبر 2019ء ،جبکہ دوسرے بھائی احمد حسن کو 3 فروری کو گھر سے اغوا کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اس میں ابراہیم مانیکا کا کیا کردار ہے؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ ابراہیم مانیکا نے انہیں 10 لاکھ روپے سرمایہ کاری کیلئے دیئے تھے، سرمایہ کاری کی رقم سے خریدی گئی جائیداد ابھی بِکی نہیں تھی کہ ابراہیم مانیکا نے رقم کی واپسی کا تقاضا شروع کر دیا۔
ابراہیم مانیکا کے والد نے رقم لینے کیلئے ایک ڈالے پر بندے بھیجے، مگر وہ ڈالا اُلٹ گیا، ابراہیم مانیکا کو ڈالا مرمت کرا کر دیا اور ایک گاڑی کرائے پر لے کر بھی دی، وہ گاڑی اب بھی ابرہیم مانیکا کے زیرِ استعمال ہے۔
پولیس نے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد درخواست گزار کے بھائیوں کیخلاف 20 فروری کو امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرلیا۔
چیف جسٹس لاہور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو درخواست میں متعلقہ پولیس کو فریق بنایا ہی نہیں، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ بھائی کس پولیس کی حراست میں ہیں۔
درخواست گزار نے بتایا کہ ابراہیم مانیکا کو عدالتی نوٹس ملا تو میرے بھائیوں کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں، ابراہیم مانیکا کو 10 لاکھ روپے دے چکے ہیں، وہ اب مزید ڈیڑھ کروڑ روپے کا تقاضا کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو جواب جمع کرایا کہ متعلقہ افراد کو کسی بھی کیس میں حراست میں نہیں لیا گیا۔