امریکی سفیر پال جونز نے فنڈ برائے بحالیٴ تاریخی وثقافتی ورثہ (AFCP) کے تحت کراچی کی خوبصورت تاریخی عمارت نسروانجی بلڈنگ کی بحالی کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی۔ یہ اعلان انہوں نے انڈس ویلی اسکول آف آرٹس (IVS) میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا جس کے مطابق IVS اور سماجی تنظیم سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈوینچر سوسائٹی (SEAS) کے ساتھ مل کر عمارت کی بحالی کا کام سرانجام دیں گے۔
اس موقع پر امریکی سفیر نے کہا کہ، "انڈس ویلی اسکول، سیز اور امریکی حکومت مل کر اس بات کا عملی مظاہرہ کریں گے کہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کی بحالی کا مقصد صرف دیواریں مبوکط کرنا نہیں ہوتا۔ ثقافتی ورثے کی بحالی سے لوگ اس کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط تر ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں، اس سے معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور آنے والی نسلوں کو اس عظیم ورثے کی معلومات ملتی ہے جس کی بنیادوں میں صدیوں پر محیط برداشت اور اجتماعیت کی روایات ڈلی ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمارت فنکاروں اور تعمیراتی ماہروں کو فنی تربیت مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کریگی جو کہ مستقبل میں پاکستان میں مثبت تبدیلی کے معمار بنیں گے۔
مذکورہ گرانٹ سندھ میں تیسری اور پاکستان میں دی جانے والی 23ویں گرانٹ ہے۔ سندھ میں اس سے پہلے مکلی کے قبرستان میں واقع سلطان ابراہیم اور امیر سلطان محمد کے مزار اور کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع ورن دیو مندر کی بحالی کیلئے بھی گرانٹ دی گئی۔
نسروانجی بلڈنگ اصل میں کراچی کے کھارادر کے علاقے میں سن 1903 میں قائم کی گئی جو کہ اس شہر کی مذہبی ہم آہنگی کی مثال ہے۔ 1991 میں اس کو مسمارہونے سے بچانے کیلئے انڈس ویلی اسکول کے حالیہ کیمپس کی جگہ پر ایک ایک پتھر کے طور پر منتقل کرکے دوبارہ تعمیر کیاگیا۔
پاکستان میں موجود تاریخی و ثقافتی ورثے کی حفاظت و بحالی کیلئے امریکی حکومت سن 2001 سے لیکر اب تک 28 لاکھ ڈالر کی امداد کرچکی ہے جس کی مدد سے گندھارا تہذیب کے آثار قدیمہ سے لیکر مغل دور حکومت کے شاہکار، تاریخی دستاویزات، فنی مہارت کی مثال ہندومت کے مندر اور صوفی درگاہوں کی حفاظت اور بحالی ممکن ہوسکی ہے۔