امریکی سفیر نے تعلیم اور ایکسچینج پروگراموں کیلئے پاکستان اور امریکا کے باہمی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی
امریکی سفیر پال جونز نے کراچی میں قائم روشن پاکستان اکیڈمی کا غیراعلانیہ دورہ کرکے اسکول کے 200 بچوں سے ملاقات کی۔ امریکی وفد میں کراچی میں مقرر قونصل جنرل رابرٹ سلبسرٹین بھی شامل تھے اور انہوں نے اسکول کا دورے کرکے طلبا و طالبات سے بات چیت کرنے کے ساتھ اسکول کے کموکنٹیکی شراکت سے چلنے والے تعلیمیماڈل کے متعلق معلومات حاصل کی۔
اسکول کی بانی اور امریکی حکومت کے تعاون سے منعقدہ ایمرجنگ لیڈرز آف پاکستان 2013 کی المنا حمیرہ بچل اور اکیڈمی کے ڈائریکٹر محمد الیاس کے ساتھ بات کرتے ہوئے سفیر پال جونز نے کہا کہ، "روشن پاکستان اکیڈمی کے قابل اور جذبے سے سرشار طلبا و طالبات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی نوجوان ملک کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں استعمال میں لاکر خوشحالی اور ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔"
امریکی حکومت ہر سال حمیرہ بچل کی طرح 800 سے زائد پاکستانیوں کو اپنےاخراجات پر ایکسچینج پروگراموں کے تحت امریکا بھیجتی ہے جو وہاں جا کر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کرکے واپس پاکستان آکر ملک کی معاشی ترقی و خودمختاری کیلئے کام کرتے ہیں۔
روشن پاکستان اکیڈمی ایک غیرمنافعہ بخش سماجی تنظیم ہے جو کہ حب (بلوچستان) اور گلشن مزدور، کراچی (سندھ) کے پسماندہ خاندانوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کررہی ہے۔ اس اسکول کی بنیاد حمیرہ بچل نے 2016 میں ڈالی جس کا مقصد تعلیم، خواندگی اور طلبا و طالبا ت کو پیشہ ورانہ شعباجات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔