ترکی پاکستان کا وہ مخلص دوست ملک ہے جس نے پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی معاشی، دفاعی، اور اقتصادی طور پر ترکی نے بھرپور مدد کی ہے۔
ترک صدر کے دل میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ خصوصی مہمان رجب طیب نے پارلیمنٹ میں تاریخی خطاب کیا ان کے الفاظ تھے کہ پاکستان کو ترکی کی جانب سے بھرپور حمایت اور تعاون حاصل ہے، کیونکہ ہمارا پاکستان کے ساتھ دل سے رشتہ ہے۔ پاکستان کو تسلیم کرنے والے ممالک میں ترکی صف اول میں شامل تھا۔
خطاب کے دوران کشمیر سے متعلق بھی ترک صدر نے ہمدردی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ کشمیر ہمارے لیے وہی ہے جو پاکستان کیلئے ہے۔
واضح رہے کہ ترک صدر طیب اردگان ان عالمی رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے کشمیر ایشو کے مسئلے پر جراتمندانہ اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا اور پاکستان کے نقطہ نظر کی تائید کی،ترک صدر طیب اردگان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں بھی مسئلہ کشمیر کے لئے آواز بلند کر چکے ہیں۔
رجب طیب اردگان پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ ترکی پاکستان میں انویسٹمنٹ کرے گا ، ترکی کی کمپنیاں پاکستان آئیں گی اور یہاں کام کریں گی۔ پاکستانی ترکی پر اعتماد کرے کیونکہ اس سے انکا مستقبل بھی بہتر ہو گا۔
واضح رہے کہ اس وقت ترک صدر رجب طیب ایردوان پاکستان کے دو روزہ دورے پر ہیں، عمران خان چاہتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان کی باہمی روابط بالخصوص تجارتی روابط کو بڑھایا جائے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان اگر تجارتی تعلقات کا ذکر کیا جائے تو دونوں ممالک ایک دوسرے کی معاشی حوالے سے بھی بھرپور مدد کرتے آئے ہیں۔
رجب طیب کی پاکستان سے دوستانہ تعلقات کے حوالے سے ایک شاندار مثال یہ بھی ہے کہ 2005ء میں جب پاکستان میں خطرناک زلزلہ آیا تھا تب انہوں نے ایک ذمہ دارانہ اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان اور آزاد کشمیر کی مالی مدد کر کے بھائی چارے کی عظیم مثال قائم کی تھی۔