کیا اب واٹس ایپ اور دیگر انٹرنیٹ کالز کے بھی پیسے دینے ہوں گے؟ سپریم کورٹ سے بڑی خبر آگئی

ہماری ویب  |  Feb 10, 2020

سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو انٹرنیٹ کمپنیوں سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کرنے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے نجی انٹرنیٹ کمپنیوں سے ٹیکس وصولی کے لیے دائر ایف بی آر کی اپیل خارج کر دی۔

ذرائع کے مطابق عدالت نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ، اسکائپ اور دیگر سروسز کمیونیکیشن کے زمرے میں نہیں آتیں۔

تفصیلات کے مطابق فیصلے میں کہا گیا کہ واٹس ایپ اور دیگر کالز کی مد میں صارفین سے کوئی چارجز وصول نہیں کرتیں۔ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے صارفین کی مرضی ہے کہ وہ انٹرنیٹ براؤزنگ کریں یا وائس کالز، انٹرنیٹ کالز پر ٹیلی کمیونیکیشن سروس کی مد میں ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کمپنیاں صرف سروس چارجز لیتی ہیں، واٹس ایپ و دیگر کال کے چارجز نہیں۔ انٹرنیٹ کمپنیاں اضافی وصول نہیں کرتیں تو ٹیکس کیسے لیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نجی کمپنی نے ٹیکس نوٹس کو ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More