دنیا بھر میں ساس بہو کی آپسی رنجش تو عام بات ہے لیکن بہو کا ساس کے لئے رنجش کا خوف میں تبدیل ہو جانا ایک اہم نفسیاتی مسئلہ ہے۔ نا صرف ساس بہو میں تلخی بلکہ ساس اور داماد کے درمیان مستقل تناؤ بھی اب ایک عام بات ہے۔
سائنسی زبان میں اسے 'پینتھیرافوبیا' کہا جاتا ہے جس کا مطلب 'ساس کا خوف' ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ تناؤ اور تلخیاں معمول کی باتیں ہیں لیکن اگر بہو یا ساس اور داماد یا ساس میں اختلافات اور رنجشیں حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو یہ ایک دماغی مسئلہ بن جاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات نے چند علامتیں بھی بتائی ہیں جس سے ہم اسے دِماغ کا مسئلہ قرار دے سکتے ہیں۔ بتائی گئی علامتوں میں 'ساس کا بہت زیادہ خوف یا ساس سے مسلسل شدید نفرت'، 'ساس سے بچنے یا ہر ممکن طور پر رابطہ نہ کرنے کی کوشش کرنا' اور 'ساس کی موجودگی میں بوکھلاہٹ یا شدید تشویش میں مبتلا رہنا' شامل ہیں۔
تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ساس کے خوف کی کوئی وجہ ہو۔ اکثر و بیشتر یہ خوف بغیر کسی بڑی وجہ کے بھی بہت زیادہ اعصاب پر سوار رہتا ہے جس کے باعث کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
اگر کسی میں بھی یہ علامات موجود ہیں تو اپنے دوستوں میں بیٹھ کر اس بارے میں باتیں کرنے کے بجائے کسی نفسیات کے ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ یہ نفسیاتی مسئلہ حل ہو سکے۔