فروری میں کبھی 28 اور کبھی 29 دن کیوں ہوتے ہیں؟ جانیے دنوں کے اس عجیب و غریب کھیل کا راز

ہماری ویب  |  Feb 06, 2020

آپ سب ہی کو معلوم ہوگا کہ رواں سال فروری کا مہینہ 29 دنوں پر مشتمل ہے اور ہر تین سال بعد یعنی ہر چوتھے سال فروری کا مہینہ 29 دنوں کا آتا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں اور کب سے ہو رہا ہے؟

دراصل زمین کا سورج کے گرد گردش کا دورانیہ 365 دنوں کا نہیں بلکہ چوتھائی دن زیادہ ہوتا ہے، یعنی کہ 365 دن، پانچ گھنٹے، 49 منٹ اور 12 سیکنڈ۔

زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے جس کے باعث موسموں کی تبدیلی کا عمل پیش آتا رہتا ہے۔ اگر ہر سال 365 دن رکھیں تو ہر سال چوتھائی دن کا فرق پڑنے لگتا ہے اور کیلنڈر اور موسموں کے درمیان فاصلہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔

اب چونکہ پوری دنیا میں گریگوری کیلنڈر کو استعمال کیا جاتا ہے جس میں 365 دن ہوتے ہیں تو اس فرق کو دور کرنے کے لیے لیپ سیکنڈز اور لیپ سال کی وجہ سے گھڑیوں اور کیلنڈر میں زمین اور موسموں سے مطابقت پیدا کی جاتی ہے۔

تقریباً 45 قبل مسیح کے دوران روم کے جولیس سیزر نامی ایک بادشاہ نے کلینڈروں کی درستگی کے لیے ایک کمیشن بنایا جس کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ ہر چار سال میں سے ایک سال 366 دنوں کا کیا جائے۔

16 ویں صدی میں کلینڈر میں تبدیلی کر کے یہ مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کی اور ایک کمیشن قائم کیا جس میں یہ طے ہوا کہ ہر 400 سال میں 100 لیپ ائیر ہونے کے بجائے 97 لیپ ائیر ہوں گے۔

مگر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ فروری کے مہینے میں صرف 28 دن ہی کیوں ہوتے ہیں؟

یہ بات جان کر آپ کو حیرانگی ہو گی کہ قدیم ادوار میں فروری کا مہینہ در حقیقت تھا ہی نہیں۔

8 ویں قبل مسیح میں رومن حکومت کا کیلنڈر 10 مہینوں پر مشتمل ہوتا تھا جس میں سال کا آغاز مارچ جبکہ اختتام دسمبر میں ہوتا تھا، جنوری اور فروری کے مہینوں کا وجود ہی نہیں تھا۔

رومن کے بادشاہ Numa Pompilius کو یہ عجیب فرق محسوس ہونے لگا کہ آخر کیلنڈر میں 61 دن کو کیوں نظر انداز کیوں کیا جارہا ہے تو اسی پر نظرثانی کرتے ہوئے 713 قبل مسیح میں کیلنڈر میں 12 مہینوں میں تقسیم کر دیا گیا جو کہ 355 دن پر مشتمل تھا، جس میں جنوری اور فروری کا اضافہ ہوا۔

355 دنوں کا یہ کیلنڈر اب بھی ٹھیک طرح مکمل نہیں ہوا تھا اور کئی سال بعد مہینوں کی ترتیب خراب ہونے لگی تو اسے درست کرنے کے لیے روم میں 27 دن کا لیپ مہینے کا اضافہ کیا گیا جسے Mercedoniusکا نام دیا گیا۔

اس کے بعد یہ معاملہ ہوا کہ فروری کے مھینے سے 4 دن نکال دیئے گئے اور بعد ازاں لیپ مہینے کا آغاز 24 فروری کے بعد ہونے لگا۔

سیزر نے لیپ مہینے کو باہر نکال دیا اور کیلنڈر دوبارہ تشکیل دیا۔ جولیس سیزر نے کیلنڈر کو سورج کے ساتھ جوڑ دیا اور اس میں کچھ دنوں کا اضافہ کر کے 365 دنوں کا سال کر مقرر کر دیا۔

اسی طرح فروری کیلنڈر میں دوسرے نمبر پر آگیا مگر اس کے 28 دن برقرار رہے اور تب سے یہ سلسلہ آج تک برقرار ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More