’شہوار‘ کے ساتھ تصویر شیئر کرنا زینب عباس کو مہنگا پڑ گیا

ہماری ویب  |  Jan 20, 2020

گزشتہ سال نومبر میں شادی کرنے والی اسپورٹس اینکر پرسن زینب عباس کو پاکستانی معروف اداکار عدنان صدیقی کے ہمراہ تصویر شوٹ کروانا مہنگا پڑ گیا، اور انہیں سوشل میڈیا پر صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسپورٹس اینکر زینب عباس نے عدنان صدیقی کے ساتھ لی گئی تصویر کو سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ اور ساتھ ہی اداکار کے ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی اختتامی قسط کا ذکر کیا تھا۔

زینب عباس نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر مقبول ترین ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ میں اداکار عدنان صدیقی کے کردار کا نام شہوار بھی لکھا۔

زینب عباس کی جانب سے عدنان صدیقی کو شہوار کے نام سے مخاطب کرنا اور ساتھ ہی ان کے ڈرامے ’میرے پاس ہو تم‘ کا ذکر کرنا انہیں مہنگا پڑ گیا اور ٹویٹر پر صارفین نے ان کا بے حد مذاق اڑایا۔

بعض افراد نے ان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ زینب عباس ’میرے پاس تم ہو‘ کی کردار ’مہوش‘ بننے جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ میں مہوش ایک غریب گھرانے کی شادی شدہ خاتون ہوتی ہیں جو دولت کی لالچ میں اندھی ہو کر اپنے شوہر کو دھوکا دے دیتی ہیں جس کے بعد ان سے طلاق لے کر مالدار شخص 'شہوار' کے ساتھ تعلقات قائم کر کے ان سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کردیتی ہیں۔

دونوں کی شادی ہونے سے پہلے ہی دولت مند شخص شہوار کی پہلی بیوی امریکا سے واپس آجاتی ہیں اور مہوش کی توہین کر کے اپنے امیر شوہر کو جیل بھجوا دیتی ہیں۔

اسی ڈرامے کے اختتام کی مناسبت سے ہی اسپورٹس اینکر زینب عباس نے عدنان صدیقی کو شہوار کے نام سے مخاطب کیا اور ان کے ہمراہ لی گئی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی مگر بعد اذاں انہیں یہ سب کرنے کے بعد لوگوں نے انکا مذاق اڑایا۔

زینب عباس کی تصویر پر ایک شخص نے لکھا کہ کہیں یہ آپ کو بھی نہ اڑا لے جائے۔

دوسری جانب ایک اور صارف نے زینب عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتیاط کریں کیوں کہ ان کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔

زینب عباس کی تصویر پر کرکٹ کے تجزیہ نگار مظہر ارشد نے بھی دلچسپ کمینٹ کر کے ان کی تصویر کی تعریف کرنے کے ساتھ ہی مذاق مذاق میں انہیں محتاط رہنے کا کہا جس کے جواب میں زینب عباس نے بھی تجزیہ کار سے کہا کہ ’وہ میرے پاس تم ہو کی مہوش نہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More