آخر خواتین ہی خون کی کمی کا شکار کیوں ہوتی ہیں؟؟

ہماری ویب  |  Dec 06, 2019

خون کی کمی کا تناسب پاکستان میں 49 فیصد پایا جاتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں کو خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے غذائی قلت کےحوالے سے ورکشاپ کا انعقاد  کیا گیا ورکشاپ کا مقصد عوام میں غذائی قلت کی آگاہی اور غذائی قلت کی سنگینی پر روشنی ڈالنی تھی غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد خواتین میں خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ37 فیصد عوام کو متواتر خوراک میسر نہیں۔

5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں کو خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے، 63 فیصد عوام میں وٹامن ڈی اور 52 فیصد میں غذائی قلت موجود ہے، غذائی قلت عام طور پر نظر نہیں آتی، غذائی قلت اور بیماریاں ہماری معاشی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے،غذائی قلت پر اقدامات کے باوجود صورتحال میں فرق نہیں پڑا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے، حکومت، عوام اور اداروں کا مل کر اس مسلے پر کام کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا غذائی قلت کی سنگین مسلے کو ترجیحاتی بنیادوں پر اجاگر کرے۔،

واضح رہے کہجسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کو کہا جاتا ہے جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔

اس مرض میں خون کے صحت مند سرخ خلیات میں ہیمو گلوبن کی کمی ہوجاتی ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتے ہیں، ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے۔

یعنی جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہے۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بہت ضروری ہے جو کہ ہیموگلوبن کی پیداوار کے ساتھ خون کے سرخ خلیات کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا جز ہے۔

یہاں ایسی ہی غذاﺅں کا ذکر ہے جو آپ کو اس مسئلے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یا ہیموگلوبن کی کمی کو ان سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More